Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1320

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:جِيْءَ بِاَبِیْ اِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مُثِّلَ بِهِ فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَذَهَبْتُ اَكْشِفُ عَنْ وَجْهِهِ فَنَهَانِي قَوْمِيْ فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَا زَالتِ الْمَلَا ئِكَةُ تُظِلُّهُ بِاَجْنِحَتِهَا.

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال:جيء بابی الى النبي صلى الله عليه وسلم قد مثل به فوضع بين يديه فذهبت اكشف عن وجهه فنهاني قومي فقال النبي صلى الله عليه وسلم:ما زالت الملا ئكة تظله باجنحتها.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا جابر بن عبداﷲرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:میرے والدکو (شہادت کے بعد) بارگاہِ رسالت میں لایا گیااُن کا مُثلہ کیا گیا تھا۔ تو انہیں آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامنے رکھا گیا۔میں نے ان کے چہرے سے کپڑا ہٹانا چاہا تو میری قوم نے مجھے منع کیا۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”فرشتے برابر اپنے پروں سے اِن پر سایہ کیے ہوئے ہیں۔“

شرح حدیث

مُثلہ کی وضاحت:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمثلہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:” مُثلہ کے لغوی معنیٰ ہیں سخت سزا،اصطلاح میں میت یا مقتول کے ہاتھ پاؤں، آنکھ، ناک، ذَکَر وغیرہ کاٹنے کو کہتے ہیں اب قِصاصًا مثلہ جائز ہے سزاءً مثلہ ممنوع ہے۔“تدفین کے چھ ماہ بعد بھی لاش تروتازہ:علامہ سید محموداحمدرضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”شہید پر ملائکہ کا سایہ کرنا یہ بھی ان کا اعزاز و اِکرام ہے جس کی خبر حضورِ اَقدسصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے دی نیز ملائکہ کا پروں سے سایہ کرنا اُمُورِ غیب سے ہے جیسے خود ملائکہ کا وجود ہمارے لیے غیب ہے لیکناﷲتعالیٰ نے اپنے فضل سے حضور سرورِ عالَمصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمپر اُمُورِغیبیہ کو ظاہر فرمادیا ہے اور علم ورُؤیت کی ایک ایسی قوت عطا فرمائی ہے کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَاموہ کچھ دیکھتے سنتے اور جانتے ہیں جو عام انسانوں کی قوتِ سماعت وبصارت سے باہر ہے۔حضرت عبداﷲغزوۂ اُحُد میں شہید ہوئے ۔ان کے صاحبزادے حضرت جابر نے کسی وجہ سے دوسری جگہ دفن کرنے کے لیے ان کی قبر مبارک کو کھولا تو ان کا جسم تروتازہ تھاجیسے ابھی ابھی دفن کیا گیا ہو حالانکہ ان کی قبر کو چھ ماہ کے بعد کھولا گیا تھا غرضکہ نبی اکرمصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرشتوں کو بھی دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ فرشتے ان کی لاش پر اپنے پروں سے سایہ کیے ہوئے ہیں حالانکہ حضور کے صحابہ کو ان اُمور کی خبر نہ ہوئی۔“
جبیں میلی نہیں ہوتی دہن میلا نہیں ہوتا
غلامانِ محمد کا کفن میلا نہیں ہوتا

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1320