Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1322

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ طَلَبَ الشَّهَادَةَ صَادِقًا اُعْطِيَهَا وَلَوْ لَمْ تُصِبْهُ .

عن انس رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من طلب الشهادة صادقا اعطيها ولو لم تصبه .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ رسول اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جو صدقِ دل سے شہادت طلب کرے اسے درجۂ شہادت عطا کیا جاتا ہے اگرچہ وہ شہید نہ ہوا ہو۔“

شرح حدیث

شہیدِحکمی :حضرت سَیِّدُنا سہلرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی حدیث پاک کے تحت مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”(جو صدقِ دل سے شہادت طلب کرےاسے شہادت کا مرتبہ دیاجاتا ہے اگرچہ شہیدنہ ہو۔)اس طرح کہ دل سے شہادت کی آرزو کرے ، زبان سے دعا کرے اور بقدرِ طاقت جہاد کی تیاری کرے،موقعہ کی تاک میں رہے،صرف سچی دعا کو بھی بعض شارحین نے اسی میں داخل فرمایا ہے،یہ حکمی شہید ہوگا،جو جنت میں شُہدا کے ساتھ رہے گا،ربّ تعالیٰ کی عطا ہمارے وہم و گمان سے ورا ہے۔“سچی نیت کی برکت:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”جواﷲ عَزَّ وَجَلَّسے سچے دل سے شہادت کا سوال کرےاﷲ عَزَّ وَجَلَّسچی نیت کی برکت سےا سے شُہدا کے اعلیٰ مرتبے پر فائز فرمائے گا اگرچہ وہ بستر پرفوت ہو ۔اس حدیث میں بیان ہوا کہ سچی نیت مطلب ومقصد تک پہنچنے کا سبب ہے،جو کسی نیک کام کی سچی نیت کرے اسے اس عمل کا ثواب ملےگا اگرچہ (کسی مجبوری کی وجہ سے)وہ نیک کام نہ کرسکے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1322