Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1342

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:كُنَّامَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فِیْ غَزَاةٍ فَقَالَ:اِنَّ بِالْمَديْنَةِ لَرِجَالًا مَا سِرْتُمْ مَسِيْرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا اِلَّا كَانُوْا مَعَكُمْ حَبَسَهُمُ الْمَرَضُ.وَفِیْ رِوَايَةٍ:حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ.وَفِی رِوَايَةٍ: اِلَّا شَرِكُوْكُمْ فِی الْاَجْرِ.

عن جابر رضي الله عنه قال:كنامع النبي صلى الله عليه وسلم فی غزاة فقال:ان بالمدينة لرجالا ما سرتم مسيرا ولا قطعتم واديا الا كانوا معكم حبسهم المرض.وفی رواية:حبسهم العذر.وفی رواية: الا شركوكم فی الاجر.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناجابررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک غزوہ میں ہم نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ تھے تو آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”بے شک !مدینہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم کسی راستے میں نہ چلے اورتم نے کوئی وادی طے نہ کی مگر وہ تمہارے ساتھ تھے انہیں مرض نے روک رکھا ہے ۔“ایک روایت میں ہے:” انہیں عُذر نے روک رکھا ہے ۔“ ایک روایت میں ہے کہ ” وہ اجر وثواب میں تمہارے ساتھ شریک ہیں ۔“

شرح حدیث

نیکی سے رہ جانے پر افسوس کرنا بھی ثواب ہے:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کبیر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحدیثِ مذکور کے تحت فرماتے ہیں: ”یعنی مختلف جماعتوں و قبیلوں کے مسلمان وہ بھی ہیں جو اس غزوہ میں جانے کی دل سے تمنا کرتے تھے مگر کسی سخت مجبوری کی وجہ سے نہ جاسکے،جسم ان کے مدینہ میں رہے اوردل تمہارے ساتھ جہاد میں رہے،نیز ان کی نیت ان کے ارادے تمہارے ساتھ رہے یا وہ اجروثواب میں تمہارے ساتھ رہے کہ تمہارے پیچھے تمہارے گھر بار کی دیکھ بھال اور تمہارے بال بچوں کی خدمت کرتے رہے۔(وہ اجر وثواب میں تمہارے ساتھ شریک ہیں۔)اس طرح کہ نفسِ ثواب میں تمہارے ساتھ شریک رہے اگرچہ عملی جہاد میں تم ان سے بڑھ گئے۔اس وجہ سے غنیمت میں ان کا حصہ نہ ہوگا، ربّ فرماتاہے:﴿وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ(۹۵) دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةًؕ-﴾(پ۵،النساء:۹۵،۹۶)(ترجمۂ کنزالایمان:’’اﷲنے جہاد والوں کو بیٹھنے والوں پر بڑے ثواب سے فضیلت دی ہے اس کی طرف سے درجے اور بخشش اور رحمت)اس سے معلوم ہوا کہ نیتِ خیر کا بڑا درجہ ہے،اس طرح کسی نیکی سے رہ جانے پر افسوس کرنا بھی ثواب ہے۔ معذوری سے مراد واقعی معذوری ہے،جو بعض مخلص صحابہ کو تھی،بناوٹی معذوری نہیں جو بہانہ باز منافقین نے ظاہر کی تھی ان پر تو سخت عتاب فرمایا گیا ۔عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اس حدیث میں نیک کام کرنے کی فضیلت کا بیان ہے کہ جس شخص نے جہاد یا کسی اور عبادت کی نیت کی پھر اسے ایسا عذر لاحق ہوگیا کہ جس کے سبب وہ عمل نہ کرسکا تو اسےاپنی نیت کی وجہ سے اس عمل خیر کا اجر مل جائے گا اور جہاد میں شریک نہ ہونے یا عبادت چھوٹنے پراسے جس قدر افسوس ہوگایا جہاد میں شرکت یا عبادت کی جس قدرزیادہ تمنا ہوگی اجر وثواب بھی اتنا ہی بڑھ جائےگا ۔“عذر کی تفصیل :عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:”حدیثِ مذکور میں عذر سے مراد مرض اور سفر ِجہاد پر قدرت نہ ہونا ہے۔اس حدیث سے معلوم ہواکہ جو کسی نیک عمل کی نیت کرے پھر کسی عذر کے سبب نہ کرسکے تو اس کےلیےعمل کرنے والے کی طرح اجر لکھا جاتا ہےجیساکہ حدیثِ پاک میں ہے :”جس کو نیند کا غلبہ تہجد کی نماز سے روک دے،اس کےلیے تہجد کی نماز کا اجر لکھا جاتا ہے اور اس کی نیند اس پر صدقہ ہوجاتی ہے۔“مدنی گلدستہ’’غارِ ثور ‘‘کے6حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) جس نے نہ توکبھی جہاد کیا نہ جہاد کا اِرادہ کیا اور وہ اسی حالت میں مر گیا تو یہ قابلِ مذمت ہے۔
(2) زمانۂ رسالت میں بغیر کسی عذر کے جہاد سے پیچھے رہنا منافقین کا طریقہ تھا۔
(3) جہاد بعض حالات میں فرضِ عین ہوتا ہے اور اکثر حالات میں فرضِ کفایہ۔
(4) جسے کسی نیک عمل پر قدرت نہ ہوو ہ نیت کرےکہ جب قدرت ہوئی تویہ عمل کروں گاتویہ نیت اس عمل کابدل بن جائے گی اور اسے ثواب دیا جائے گا۔
(5) جہاد وہ عظیم عمل ہے کہ جس سے
اﷲ عَزَّ وَجَلَّنے دِین ِ اسلام کو عزت و غلبہ عطافرمایاہے۔
(6) نیکی چھوٹ جانے پر افسوس کرنا بھی باعثِ ثواب ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں عبادت کا ذوق وشوق عطا فرمائے ہرعملِ خیر سے پہلے اچھی اچھی نیتیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور نفاق و بُزدلی سے ہماری حفاظت فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1342