Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1307

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ اُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اَفْضَلُ الصَّدَقَاتِ ظِلُّ فُسْطَاطٍ في سَبِيْلِ اللهِ وَمَنِيْحَةُ خَادِمٍ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ اَوْ طَرُوْقَةُ فَحْلٍ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ .

عن ابي امامة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:افضل الصدقات ظل فسطاط في سبيل الله ومنيحة خادم في سبيل الله او طروقة فحل في سبيل الله .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو امامہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”بہترین صدقہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں سایہ کے لیے خیمہ دینا اور خادم کا عطیہ کرنا ہے یا راہِ خدا میں نر کی سواری ہے۔“

شرح حدیث

راہِ خدا میں خیمہ یا خادم دینے سے مراد:مرآۃ المناجیح میں ہے: ”(بہترین صدقہ راہ ِ خدا میں خیمہ دینا ہے )اس طرح کہ مجاہدین کو بالکل یا عاریۃً خیمہ دے دیا جائے کہ وہ سفرِ جہاد میں اس کے سایہ میں بیٹھا کریں،اسی طرح حجاج کو عرفات وغیرہ میں خیمہ،شامیانہ لگادینا،اگر طلبا میدان میں بیٹھ کر پڑھتے ہوں مدرسہ کی عمارت نہ ہو ان کے لیے سایہ کا انتظام کردینا،جہاں مسجد نہ ہو وہاں نمازیوں کے لیے شامیانہ یا خیمہ لگادینا سب ہی اس میں داخل ہیں۔فُسطاط ہر چھوٹے بڑے خیمہ کو کہا جاتا ہے۔(راہِ خدا میں نر کی سواری)اس فرمانِ عالی کے دو معنیٰ ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ مجاہدین کے لیے جو اونٹنیاں ہوں انہیں حاملہ کرنے کے لیے نر اونٹ عاریۃً دے دینا کہ یہ بھی ثواب ہے اس سے جو اونٹ کی نسل چلے گی اس پر مجاہدین جہاد کریں گے اسے ثواب ملےگا۔دوسرے یہ کہ مجاہد کو سواری کے لیے عاریۃً اونٹ دے دینا۔شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیخادم عطیہ کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”اس سے مراد راہِ خدا میں خادم کا ہبہ کرنا اور تحفے میں دینا ہے یوں کہ خادم کسی مجاہد کے حوالے کردے تاکہ اس کی خدمت کرے یا مجاہدین کےحوالے کردے کہ ان کی خدمت اور اعانت کرے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1307