Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1286

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ:قُلْتُ:يَا رَسُوْلَ الله اَيُّ الْعَمَلِ اَحَبُّ اِلَى اللهِ تَعَالَى؟ قَالَ: الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا قُلْتُ: ثُمَّ اَيُّ ؟ قَالَ:بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قُلْتُ: ثُمَّ اَيُّ ؟ قَالَ:الْجِهَادُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ.

عن ابن مسعود رضي الله عنه قال:قلت:يا رسول الله اي العمل احب الى الله تعالى؟ قال: الصلاة على وقتها قلت: ثم اي ؟ قال:بر الوالدين قلت: ثم اي ؟ قال:الجهاد في سبيل الله.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نےبارگاہِ رسالت میں عرض کی:یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کون ساعملاﷲ عَزَّ وَجَلَّکو زیادہ پیارا ہے؟ارشادفرمایا: ”وقت پر نماز پڑھنا۔“میں نے عرض کی:پھر کون سا؟ارشادفرمایا:”ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنا۔“میں نے عرض کی:پھر کون سا؟ارشاد فرمایا:”راہِ خدا میں جہاد کرنا۔“

شرح حدیث

ماں باپ کے ساتھ بھلائی:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:”اس حدیث پاک میں والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے یعنی ان کے ساتھ نیکی کرنا،ان کی خدمت کرنا،ان کی نافرمانی اور ان کے ساتھ بدسلوکی سے بچنا وغیرہ یہ سب بھلائی میں داخل ہیں ۔راہِ خدا میں جہادسے مراداﷲ عَزَّ وَجَلَّکے دِین کو سربلند کرنے اور شعائرِ اسلام کا اظہار کرنے کے لیے اپنی جان ومال کے ساتھ کفار کے خلاف جنگ کرنا ہے۔اس حدیث میں تین کاموں کو اَفضل اَعمال میں شمار کیا گیا ہے:(1)وقت پرنماز پڑھنا(2)ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنااور(3)راہِ خدا میں جہاد کرنا۔ان تین اعمال کو خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ نماز دین کا ستون ہے اوراس کی بڑی فضیلت ہے جو شخص نماز میں سُستی کرے گا وہ باقی احکام پر عمل کرنے میں زیادہ سُستی کرے گا اور جو شخص ماں باپ کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرےگا باقی حقوق کی ادائیگی میں اس کی کوتاہی زیادہ متوقع ہے اور جوجہاد نہ کرے گا دیگر نیک اعمال کی بجا آوری بھی نہیں کرے گا۔ نیک اعمال ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے ہیں ۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ بعض جگہ کھانا کھلانے کو افضل عمل قرار دیاگیا ہےجبکہ ایک حدیث میں پابندی سےکئے جانے والے عمل کو افضل قرار دیا گیا ہےاور حدیثِ مذکور میں وقت پر پڑھی جانے والی نماز کوسب سے اچھا عمل قرار دیا گیا ہے۔ ان احادیث میں تطبیق اس طرح ہوگی کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہر سائل کو اس کی حاجت اس کے حال یا موجودہ حالات کے پیشِ نظر جواب مرحمت فرماتے۔“فیوض الباری میں ہے:”اس حدیث میں وقت پر نمازکی ادائیگی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، راہِ خدا میں جہاد کو افضل الاَعمال فرمایاگیا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہےکہ یہ تینوں باقی تما م طاعات اور اَعمال ِ خیر کاعنوان اوربنیاد ہیں، ظاہر ہےکہ جو نماز جیسی فضل وشرف والی عبادت کی بِلا عُذرِ شرعی نگہداشت نہیں کرے گا وہ باقی امورِ خیر میں غفلت اور لاپرواہی سے کام لے گا ۔ اسی طرح جو والدین کےساتھ باوجود ان کے سخت اِستحقاق(حق داراورمستحق ہونے) کے اچھا سلوک نہیں کرتا اس سے دوسروں کے ساتھ حُسنِ سلوک کی کیسے توقع کی جاسکتی ہے؟اسی طرح جو دِینِ اسلام کے سخت وشدید دشمن کافروں سے جہاد نہیں کرتا وہ فُسّاق و فُجّار سےترک ِ تعلق کیسے کرے گا؟“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1286