Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1316

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:جَاءَ نَاسٌ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنِ ابْعَثْ مَعَنَا رِجَالًا يُعَلِّمُونَا الْقُرْآنَ وَالسُّنَّةَ فَبَعَثَ اِلَيْهِمْ سَبْعِينَ رَجُلًا مِّنَ الْاَنْصَارِ يُقَالُ لَهُمْ الْقُرّاءُ فِيْهِمْ خَالِيْ حَرَامٌ يَقْرَؤُوْنَ الْقُرْآنَ وَيَتَدَارَسُوْنَ بِاللَّيْلِ يَتَعَلَّمُوْنَ وَكَانُوْا بِالنَّهَارِ يَجِيْئُوْنَ بِالْمَاءِ فَيَضَعُوْنَهُ فِي الْمَسْجِدِ وَيَحْتَطِبُوْنَ فَيَبِيْعُوْنَهُ وَيَشْتَرُوْنَ بِهِ الطَّعَامَ لِاَهْلِ الصُّفَّةِ وَلِلْفُقَرَاءِ فَبَعَثَهُمُ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَضُوْا لَهُمْ فَقَتَلُوْهُمْ قَبْلَ اَنْ يَّبْلُغُوْا الْمَكَانَ فَقَالُوْا:اَللَّهُمَّ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا اَنَّا قَدْ لَقِيْنَاكَ فَرَضِيْنَا عَنْكَ وَرَضِيْتَ عَنَّا وَاَتَى رَجُلٌ حَرَامًا خَالَ اَنَسٍ مِنْ خَلْفِهِ فَطَعَنَهُ بِرُمْحٍ حَتَّى اَنْفَذَهُ فَقَالَ حَرَامٌ: فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ اِخْوَانَكُمْ قَدْ قُتِلُوْا وَ اِنَّهُمْ قَالُوْا:اَللّٰهُمَّ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا اَنَّا قَدْ لَقِيْنَاكَ فَرَضِيْنَا عَنْكَ وَرَضِيْتَ عَنَّا.

عن انس رضي الله عنه قال:جاء ناس الى النبي صلى الله عليه وسلم ان ابعث معنا رجالا يعلمونا القرآن والسنة فبعث اليهم سبعين رجلا من الانصار يقال لهم القراء فيهم خالي حرام يقرؤون القرآن ويتدارسون بالليل يتعلمون وكانوا بالنهار يجيئون بالماء فيضعونه في المسجد ويحتطبون فيبيعونه ويشترون به الطعام لاهل الصفة وللفقراء فبعثهم النبي صلى الله عليه وسلم فعرضوا لهم فقتلوهم قبل ان يبلغوا المكان فقالوا:اللهم بلغ عنا نبينا انا قد لقيناك فرضينا عنك ورضيت عنا واتى رجل حراما خال انس من خلفه فطعنه برمح حتى انفذه فقال حرام: فزت ورب الكعبة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ان اخوانكم قد قتلوا و انهم قالوا:اللهم بلغ عنا نبينا انا قد لقيناك فرضينا عنك ورضيت عنا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوکر عرض کی: ہمارے ساتھ چند لوگ بھیجیے جو ہمیں قرآن وسنت کی تعلیم دیں۔آپ نے ان کے ساتھ ستر انصار کو بھیجا جنہیں قُراء کہا جاتا تھاان میں میرے ماموں حضرت حَرامرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبھی تھے۔یہ لوگ قرآن پڑھتے اور رات کو اس کا دَور کرتےاور سیکھتےجبکہ دن میں پانی لاکر مسجد میں رکھتے اور لکڑیاں جمع کرکے لاتے پھر انہیں بیچ کر اصحابِ صفہ اور فُقراء کے لیے کھانا خریدتے۔نبی اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں بھیج دیاتو ان لوگوں نے ان صحابہ کرام کو منزل پر پہنچنے سے پہلےہی شہید کردیا،انہوں نے یہ دعا کی : اےاﷲ عَزَّ وَجَلَّ!ہماری طرف سے ہمارے نبی تک یہ بات پہنچا دے کہ ہم نے تجھ سے ملاقات کرلی،ہم تجھ سے راضی ہوئے اور تو ہم سے راضی ہوا۔ایک شخص حضرت انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکے ماموں حضرت حرامرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس پیچھے سے آیا اور نیزہ مارا یہاں تک کہ نیزہ جسم کے پار ہوگیا۔حضرت حرامرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:ربِّ کعبہ کی قسم!میں کامیاب ہوگیا۔رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:تمہارے بھائی شہید ہوگئے اور انہوں نے کہا: اےاﷲ عَزَّ وَجَلَّ!ہماری طرف سے ہمارے نبی تک یہ بات پہنچا دے کہ ہم نے تجھ سے ملاقات کرلی،ہم تجھ سے راضی ہوئے اور تو ہم سے راضی ہوا۔“

شرح حدیث

عامر بن طفیل کی غداری:عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:”آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ستر قُرّاء کو ان مشرکین کی طرف بھیجا جنہوں نے پہلے آپ سے انہیں پناہ دینے کا عہد کیا تھا۔جن لوگوں نے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ستر قراء کو پناہ دینے کا عہد کیا تھا وہ ان کے علاوہ تھے جنہوں نے انہیں شہید کیا۔ان ستر قراءکو پناہ دینے کا عہد کرنے والے بنوعامر تھے جن کا سردار ابو براء عامر بن مالک تھا اورستر قراء کو شہید کرنے میں بنو سلیم کے افراد اور عامر بن طفیل کا ہاتھ تھا۔عامر بن طفیل جو کہ ابو براء عامربن مالک کا بھتیجاتھا اس نے نبیصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اصحاب کے ساتھ غداری کی اور پہلے اس نے بنوعامر کو صحابہ کے خلاف لڑنے کی دعوت دی جسے انہوں نے قبول نہ کیا اور کہا:”ہم ابو براء کے کیے ہوئے عہد اور اس کی امان کو نہیں توڑیں گے “پھر اس نے ان ستر صحابہ سے لڑنے کے لیے بنوسلیم کے عصیہ اور ذکوان نامی قبائل کو دعوت دی جسے انہوں نے قبول کیا اور ان صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو شہید کر دیا۔ اس واقعہ کے بعد ابو براءاپنے بھتیجے عامر بن طفیل کی اس غداری کےصدمہ اور افسوس سے مرگیا اور کچھ عرصے بعد عامر بن طفیل بھی ہلاک ہوگیا اس دعا کی وجہ سے جو حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کے خلاف فرمائی تھی۔“عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:”آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان ستر قاریوں پرحضرت مُنذِر بن عَمرورَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکو امیر بنا کر روانہ کیا،جب یہ لوگ بیرِمعونہ پہنچے تو انہوں نے حضرت حرام بن ملحانرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکے ہاتھ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا مکتوب عامر بن طفیل کے پاس بھیجا،جب وہ اس کے پاس گئے تو اس نے خط دیکھے بغیر ان پر حملہ کرکے انہیں شہید کردیا پھر عصیہ، ذکوان اور رعل کے قبائل مل کر ان ستر قاریوں پر حملہ آور ہوئے اور یہ تمام قراء ان سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگئے سوائے حضرت کعب بن زیدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکے ان میں کچھ حیات باقی تھی جنہیں مُردہ سمجھ کر چھوڑ دیا گیا ،اس کے بعد یہ ایک عرصہ تک زندہ رہے اور غزوۂ خندق میں شہادت پائی۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1316