باب:جہاد کی فرضیت کابیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 7

حضرت سَیِّدُنا سہل بن سعدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”دودعائیں ردنہیں ہوتیں یا فرمایا :دو دعائیں بہت کم رد ہوتی ہیں :(1)اذان کے وقت کی دعا اور (2)جہاد کے وقت کی دعا جب لوگ ایک دوسرے کو قتل کررہے ہوں۔ “

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍرَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثِنْتَانِ لَا تُرَدَّانِ اَوْ قَلَّمَا تُرَدَّانِ:الدُّعَاءُ عِنْدَ النِّدَاءِ وَعِنْدَ البَاْسِ حِيْنَ يُلْحِمُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1325 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب جہاد کرتے تویوں دعافرماتے:”اَللَّهُمَّ اَنْتَ عَضُدِيْ وَنَصِيْرِيْ بِكَ اَحُوْلُ وَبِكَ اَصُوْلُ وَبِكَ اُقَاتِلُیعنی الٰہی!تو میری قوت ہے،تومیرا مددگار ہے،تیرےہی بھروسہ سے دفع کرتا ہوں، تیری مدد سے حملہ کرتا ہوں اور تجھ پر امید کرتے ہوئے جہاد کرتا ہوں۔“

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا غَزَا قَالَ:اَللَّهُمَّ اَنْتَ عَضُدِيْ وَنَصِيْرِيْ بِكَ اَحُوْلُ وَبِكَ اَصُوْلُ وَبِكَ اُقَاتِلُ .

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1326 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت ابو موسٰیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب کسی قوم سے خطرہ محسوس کرتےتو یوں دعا فرماتے:”اَللَّهُمَّ اِنَّا نَجْعَلُكَ فِيْ نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوْذُ بِكَ مِنْ شُرُوْرِهِمْیعنی اےاﷲ عَزَّ وَجَلَّ! ہم ان کے مقابل تجھے کرتے ہیں اور ان کے شر سے تیری پناہ لیتے ہیں۔“

عَنْ اَبِيْ مُوْسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ اِذَا خَافَ قَومًا قَالَ:اَللَّهُمَّ اِنَّا نَجْعَلُكَ فِيْ نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوْذُ بِكَ مِنْ شُرُوْرِهِمْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1327 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سیدنا عبداﷲبن عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:” گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک بھلائی رکھی گئی ہے ۔“

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ :الْخَيْلُ مَعْقُوْدٌ فِيْ نَوَاصِيْهَا الْخَيْرُ اِلَى يَومِ الْقِيَامَةِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1328 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا عروہ بارقیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:” گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک بھلائی رکھی گئی ہے اور وہ بھلائی اجر وغنیمت ہے ۔“

عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِ قِيّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ :اَلْخَيْلُ مَعْقُوْدٌ فِيْ نَوَاصِيْهَا الْخَيْرُ اِلَى يَومِ الْقِيَامَةِ الْاَجْرُ وَالْمَغْنَمُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1329 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سیدنا ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جس نے راہِ خدامیںاﷲ عَزَّ وَجَلَّپر ایمان لاتے ہوئے اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے گھوڑا تیار رکھا توبے شک بروزِقیامت گھوڑے کا چارہ ، لیدا ورپیشاب بندے کے میزان میں تولہ جائے گا۔ “

عَنْ اَبي هُر يْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنِ احْتَبَسَ فَرَسًا فِی سَبِيْلِ اللَّهِ اِيْمَانًا بِاللَّهِ وَتَصْدِيْقًا بِوَعْدِهِ فَاِنَّ شِبَعَهُ وَرِيَّهُ ورَوْثَهُ وَبَـوْلَهُ فِيْ مِيْزَانِهِ يومَ الْقِيامَةِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1330 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا ابومسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”ایک شخص نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں مہاروالی ایک اونٹنی لے کرحاضرہوااورعرض کی: یہ راہِ خدا کے لئے ہے ۔نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا: ”بروزِ قیامت تیرے لئے اس ایک کے بدلے مُہاروالی سات سواونٹنیاں ہوں گی۔“

عَنْ اَبِيْ مَسْعُوْدٍ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ قَال جَآءَ رَجُلٌ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ بِنَاقَةٍ مَخْطُوْمَةٍ فَقَالَ: هٰذِهِ فِیْ سَبِيْل اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم:لَكَ بِهَا يَومَ الْقِيَامَةِ سَبْعُ مِائَةِ نَاقَةٍ كُلُّهَا مَخْطُوْمَةٌ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1331 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سیدنا عقبہ بن عامر جُہَنیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکومنبرِ اَقدس پریہ فرماتے ہوئے سنا:﴿وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ﴾(پ۱۰، الانفال:۶۰)ترجمہ ٔکنزالایمان:”اوران کے لئے تیار رکھو جو قوت تمہیں بن پڑے۔“سنو! قوت تیر اندازی ہے ،سنو! قوت تیر اندازی ہے،سنو! قوت تیراندازی ہے۔

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اﷲ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُوْلُ:﴿ وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ﴾ اَلَا اِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ اَلَا اِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ اَلَا اِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1332 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سیدنا عقبہ بن عامر جہنیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ فرماتے ہوئے سنا:”عنقریب تمہارے لئے کچھ علاقے فتح ہوں گےاوراﷲ عَزَّ وَجَلَّتمہیں کافی ہے تو تم میں سے کوئی بھی اپنے تیروں کے ساتھ کھیلنے (یعنی مشق کرنے)سے عاجز نہ ہو۔“

عَنْ عُقْبةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اﷲ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُوْلُ: سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ اَرْضُوْنَ وَيَكْفِيْكُمُ اللَّهُ فَلَا يعْجِزْ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّلْهُوَ بِاَسْهُمِهِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1333 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا عقبہ بن عامرجہنیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”جو تیر اندازی سیکھےپھر اسے چھوڑ دے تووہ ہم میں سے نہیں یا(فرمایا:) اس نے نافرمانی کی۔“

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اﷲ عَنْہُ اَنَّهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:مَنْ عَلِمَ الرَّمْيَ ثُمَّ تَرَكَهُ فَلَيْسَ مِنَّا اَوْ فَقَد عَصٰى.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1334 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا عُقبہ بن عامرجہنیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّایک تیر کی وجہ سے تین شخصوں کو جنت میں داخل فرمائے گا: (1) خیر کی امید پرتیر بنانے والا(2)تیر پھینکنے والااور(3)تیردینے والا۔ پس تیر چلاؤ اور گُھڑ سواری کرو اورتمہارا تیر چلانا مجھے تمہاری گُھڑ سواری سے زیادہ محبوب ہے، اور جس نے تیر اندازی سیکھنے کے بعد بے رغبتی سے اسے چھوڑ دیا تویہ ایک نعمت تھی جسے اُس نے چھوڑ دیا یا (فرمایا) اس کی ناشکری کی۔‘‘

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اﷲ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ يَقُوْلُ:اِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِی صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ وَالرَّامِی بِهِ وَمُنْبِلَهُ وَارْمُوْا وَارْكَبُوْا وَاَنْ تَرْمُوْا اَحَبُّ اِلَيَّ مِنْ اَنْ تَرْكَبُوْا وَمَنْ تَرَكَ الرَّمْيَ بعْدَ مَا عُلِّمَهُ رَغْبَةً عَنْهُ فَاِنَّهَا نِعْمَةٌ تَرَكَهَااَوْ قَالَ كَفَرَهَا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1335 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا سَلَمہ بن اکوعرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کر رہے تھے ،آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”اے اولادِ اسماعیل !تیر اندازی کرو !تمہارےوالد(حضرت اسماعیلعَلَیْہِ السَّلَام)بھی تیر اندازتھے ۔“

عَنْ سَلَمةَ بْنِ الْاَ كْوَ عِ رَضِيَ اﷲ عَنْهُ قَالَ:مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم عَلٰی نَفَرٍ يَنْتَضِلُوْنَ فَقَالَ: ارْمُوا بَنِيْ اِسْمَاعِيْلَ فَاِنَّ اَبَا كُمْ كَانَ رَامِيًا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1336 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا عَمرو بن عبسہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ فرماتے ہوئے سنا :”جس نے راہِ خدا میں ایک تیر پھینکا تو وہ اس کےلئے ایک غلام آزاد کرنے کے برابرہے۔“

عَنْ عَمْرِو بْنِِ عَبَسَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم يَقُوْلُ:مَنْ رَمَی بِسَهْمٍ في سَبِيْلِ اللَّهِ فَهُو لَهُ عِدْلُ مُحَرَّرَةٍ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1337 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُناابو یحییٰ خریم بن فاتکرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جس نےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں کوئی بھی چیز خرچ کی اس کے لئے سات سوگُنا اجر لکھا جائے گا۔ “

عَنْ اَبِی يَحْيٰى خُرَيْـمِ بْنِ فَاتِكٍ رَضِيَ اللَّه ُعَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:مَنْ اَنْفَقَ نَفَقَةً في سَبِيْلِ اللَّهِ كُتِبَ لَهُ سَبْعُ مِائِةِ ضِعْفٍ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1338 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا ابو سعیدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:” جو بندہ راہِ خدا میں ایک دن کا روزہ رکھے تواﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کے چہرے کو جہنم کی آگ سے ستر سال کے فاصلہ تک دور کردیتاہے۔“

عَنْ اَبِی سَعِيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم:مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُوْمُ يَوْمًا فِیْ سَبِيْلِ اللَّهِ اِلَّا بَاعَدَ اللَّهُ بِذٰلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِِ النَّارِ سَبْعِيْنَ خَرِيْفًا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1339 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سیدنا ابو اُمامہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”جس نے راہِ خدا میں ایک د ن کا روزہ رکھااﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کے اور آگ کے درمیان زمین وآسمان جنتی خندق بنا دیتا ہے ۔“

عَنْ اَبيْ اُمَامَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:مَنْ صَامَ يَوْمًا فِی سَبِيْلِ اللَّهِ جَعَلَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِخَنْدَقًا كَمَا بَيْنَ السَّمآءِ وَالْاَرْضِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1340 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہےکہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جو شخص اس حال میں مرا کہ نہ تو اس نے جہاد کیا نہ اس کے دل میں جہاد کا خیال آیا تو وہ منافقت کے ایک حصہ پر مرا۔“

عَنْ اَبي هُرَ يْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهُ بِغَز ْوٍ مَاتَ عَلٰى شُعْبَةٍ مِّنَ النِّفَاقِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1341 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُناجابررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک غزوہ میں ہم نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ تھے تو آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”بے شک !مدینہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم کسی راستے میں نہ چلے اورتم نے کوئی وادی طے نہ کی مگر وہ تمہارے ساتھ تھے انہیں مرض نے روک رکھا ہے ۔“ایک روایت میں ہے:” انہیں عُذر نے روک رکھا ہے ۔“ ایک روایت میں ہے کہ ” وہ اجر وثواب میں تمہارے ساتھ شریک ہیں ۔“

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:كُنَّامَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فِیْ غَزَاةٍ فَقَالَ:اِنَّ بِالْمَديْنَةِ لَرِجَالًا مَا سِرْتُمْ مَسِيْرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا اِلَّا كَانُوْا مَعَكُمْ حَبَسَهُمُ الْمَرَضُ.وَفِیْ رِوَايَةٍ:حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ.وَفِی رِوَايَةٍ: اِلَّا شَرِكُوْكُمْ فِی الْاَجْرِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1342 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا ابو موسٰی اشعریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک اعرابی نے بارگاہ ِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کی : یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ایک شخص غنیمت حاصل کرنے کے لئے لڑتاہے، ایک ناموری کےلئے لڑتاہے اورایک اپنا مقام لوگوں پرظاہر کرنے کےلئے لڑتاہے۔ ایک روایت میں ہے کہ” ایک شجاعت دکھانے کے لئے لڑتاہے اور ایک تعصب کے لئےلڑتاہے۔“ایک روایت میں ہے کہ ”ایک غصہ کی وجہ سےلڑتاہے توان میں سےکوناﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں ہے؟“پیارے آقاصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:” جو اس لئے لڑے کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکاکلمہ بلند ہو تو وہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں ہے۔“

عَنْ اَبِی مُوْسٰى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ اَعْرَابِيًّا اَتَی النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:يَارَسُوْلَ اللَّهِ!الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ وَالرَّجُلُ يُقاتِلُ لِيُرٰى مَكَانُهُ.وَفِی رِوَايةٍ:يُقاتِلُ شُجَاعَةً وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً. وَفِی رِوَايةٍ:وَيُقَاتِلُ غَضَبًا فَمَنْ فِی سَبِيلِ اللَّهِ؟فَقَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّه هِيَ الْعُلْيا فَهُوَ فِی سَبِيْلِ اللَّهِ .

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1343 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا:”جہاد کرنے والی بڑی یا چھوٹی جماعت جو جہاد کرے پھر غنیمت پائے اور سلامت رہے توانہوں نے اپنے اجر کادوتہائی دنیا میں پالیا اورجہاد کرنے والی وہ بڑی یا چھوٹی جماعت جو ناکام رہےاور اسے (زخم یا شہادت کی صورت میں)تکلیف پہنچے توان کے لئے پورا اجرہے ۔“

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:مَا مِنْ غَازِيَةٍ اَوْ سَرِيَّةٍ تَغْزُوْ فَتَغْنَمُ وَتَسْلَمُ اِلَّا كَانُوْا قَدْ تَعَجَّلُوْا ثُلُثَيْ اُجُو رِهِمْ وَمَا مِنْ غَازِيَةٍ اَوْ سَرِ يَّةٍ تُخْفِقُ وتُصَابُ اِلَّا تَمَّ اُجُوْرُهُمْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1344 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان