باب:جہاد کی فرضیت کابیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 7

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ میں نے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا:”دو آنکھیں ایسی ہیں جنہیں جہنم کی آگ نہ چھوئے گی :(1)اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے رونے والی آنکھ اور (2)راہِ خدا میں پہرہ دینے والی آنکھ۔“

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:عَيْنَانِ لَا تَمسُّهُمَا النَّارُ عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ وَعَيْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1305 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا زید بن خالدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسول اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جس نے راہِ خدا میں کسی غازی کو سامان فراہم کیا تو اس نے جہاد کیا اور جس نے کسی غازی کے پیچھے اس کے گھر والوں کے ساتھ بھلائی کی تو اس نے بھی جہاد کیا۔“

عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ :اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِيْ سَبِيْلِ اللهِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِيْ اَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1306 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا ابو امامہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”بہترین صدقہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں سایہ کے لیے خیمہ دینا اور خادم کا عطیہ کرنا ہے یا راہِ خدا میں نر کی سواری ہے۔“

عَنْ اَبِيْ اُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اَفْضَلُ الصَّدَقَاتِ ظِلُّ فُسْطَاطٍ في سَبِيْلِ اللهِ وَمَنِيْحَةُ خَادِمٍ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ اَوْ طَرُوْقَةُ فَحْلٍ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ .

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1307 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:” قبیلۂ اسلم کے ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں لیکن میرے پاس سامانِ جہاد نہیں۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”فلاں کے پاس جاؤاس نے سامانِ جہاد تیارکیا ہے مگر وہ بیمار ہوگیا ۔“چنانچہ وہ اس شخص کے پاس گیا اورکہا:رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتمہیں سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تم نے جہادکے لئے جو سامان تیار کیا ہے وہ مجھے دے دو۔یہ سن کر اُس نے کہا: اے فلانی!میں نے جہاد کے لیے جو سامان تیار کیا ہے وہ اسے دے دو، کچھ بچاکر نہ رکھنا، بخدا! اس میں سے کچھ نہ بچانایہ گمان کرتے ہوئےکہ تجھے اس میں برکت دی جائے گی (یعنی اس میں ہرگز برکت نہ ہوگی )۔“

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ فَتًى مِّنْ اَسْلَمَ قَالَ: يَارَسُوْلَ الله اِنِّيْ اُرِيْدُ الْغَزْ وَ وَ لَيْسَ مَعِيَ مَا اَتَجَهَّز ُ بِهِ قَالَ:ائْتِ فُلاَنًا فَاِنَّهُ قَدْ كَانَ تَجَهَّزَ فَمَرِضَ فَاَتَاهُ فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ: اَعْطِنِي الَّذِي تَجَهَّزْتَ بِهِ قَالَ: يَافُلَانَةُ اَعْطِيْهِ الَّذِي تَجَهَّزْتُ بِهِ وَلَا تَحْبِسِيْ مِنْهُ شَيئاً فَوَاللهِ لَا تَحْبِسِيْ مِنْهُ شَيْئًا فَيُبَارَكَ لَكِ فِيْهِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1308 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا ابو سعید خدریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بنولَحیان کی طرف ایک لشکر بھیجا تو فرمایا:”دو آدمیوں میں سے ایک جہاد کے لیے جائے اور ثواب دونوں کو ملے گا۔“مسلم کی ایک روایت میں ہے :”دو مَردوں میں سے ایک جہاد کے لیے جائے پھر پیچھے رہ جانے والے سے فرمایا:”تم میں سے جو جہاد میں جانے والے کے گھر اور مال کی اچھی طرح نگہبانی کرے گا اُس کے لیے جہاد پر جانے والے سے نصف ثواب ہے۔“

عَنْ اَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيْ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ اِلَى بَنِيْ لَحْيَانَ فَقَالَ : لِيَنْبَعِثْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ اَحَدُهُمَا وَالْاَجْرُ بَيْنَهُمَا.وَفِيْ رَوَايَةٍ لَهُ: لِيَخْرُجْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ ثُمَّ قَالَ لِلْقَاعِدِ:اَيُّكُمْ خَلَفَ الْخَارِجَ فِيْ اَهْلِهِ وَمَالِهِ بِخَيْرٍ كَانَ لَهُ مِثْلُ نِصْفِ اَجْرِ الخَارِجِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1309 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا بَراء بن عازبرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:ایک شخص بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا جس نے لوہے کا خود پہنا ہواتھا،عرض کی:’’یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں جہاد کروں یا اسلام قبول کروں؟‘‘ارشاد فرمایا:”پہلے اسلام لاؤپھر جہاد کرو۔“چنانچہ وہ شخص ایمان لایااور جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہوگیا ،رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”اس نے عمل کم کیااور اجربہت پایا۔“

عَنِ الْبَراءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: اَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ بالْحَدِيْدِ فَقَالَ:يَا رَسُوْلَ اللهِ اُقَاتِلُ اَوْ اُسْلِمُ ؟ قَالَ : اَسْلِمْ ثُمَّ قَاتِلْ . فَاَسْلَمَ ثُمَّ قَاتَلَ فَقُتِلَ. فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: عَمِلَ قَلِيْلًا وَاُجِرَ كَثِيْرًا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1310 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُناانسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضورنبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”جنت میں داخل ہونے والا کوئی بھی شخص یہ پسند نہیں کرے گا کہ وہ دنیا میں واپس آئے اور اسے دنیا کی ہر چیز مل جائےمگر شہیدعزت وکرامت دیکھ کر تمنا کرے گا کہ وہ دنیا میں لوٹ آئے اور دس بار قتل کیا جائے۔“ایک روایت میں ہے کہ ”شہادت کی فضیلت دیکھنے کے باعث وہ یہ تمنا کرے گا۔“

عَنِ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا اَحَدٌ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ اَنْ يَرْجِعَ اِلَى الدُّنْيَا وَلَهُ مَا عَلَى الْاَرْضِ مِنْ شَيْءٍ اِلَّا الشَّهِيْدُ يَتَمَنَّى اَنْ يَرْجِعَ اِلَى الدُّنْيـَا فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنَ الكَرَامَةِ.وَفِيْ رِوَايَةٍ : لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1311 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّقرض کے سوا شہید کے تمام گناہ بخش دیتاہے۔“

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَااَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:يَغْفِرُ اللهُ لِلشَّهِيْدِ كُلَّ ذَنْبٍ اِلَّاالدَّيْنَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1312 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

”حضرت سَیِّدُنا ابوقتادہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصحابہ کے درمیان کھڑے ہوئے اورفرمایا: ”ﷲ کی راہ میں جہاد اوراﷲ عَزَّ وَجَلَّپر ایمان لانا تمام اعمال میں افضل عمل ہے۔“ ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کی :یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر میں ﷲ کی راہ میں قتل کیا جاؤں تو کیا میرے تمام گناہ مٹادیئے جائیں گے؟رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”ہاں! اگر تم ﷲ کی راہ میں اس حالت میں شہید ہوجاؤ کہ تم صبر کرنے والے، ثواب طلب کرنے والے ،آگے بڑھنے والےہو اور پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے نہ ہو۔“پھر نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاُس سے پوچھا:”تم نے کیا کہا تھا؟“اس نے عرض کی:حضور! اگر میں راہِ خدا میں شہید ہوجاؤں تو کیا میرے گناہ مٹادیئے جائیں گے؟ارشاد فرمایا:”ہاں! اگر تم ﷲ کی راہ میں اس حالت میں شہید ہوجاؤ کہ تم صبر کرنے والے، ثواب طلب کرنے والے ،آگے بڑھنے والے اور پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے نہ ہوالبتہ قرض معاف نہ ہوگا، جبریلعَلَیْہِ السَّلَامنے مجھے یہ بات بتائی ہے۔ “

عَنْ اَبِيْ قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِيْهِمْ فَذَكَرَ اَنَّ الْجِهَادَ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ وَالْاِيْمَانَ بِاللهِ اَفْضَلُ الْاَعْمَالِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ اَرَءَ يْتَ اِنْ قُتِلْتُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ اَتُكَفَّرُ عَنِّيْ خَطَايَايَ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ اِنْ قُتِلْتَ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ وَاَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ ، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:كَيْفَ قُلْتَ ؟ قَالَ :اَرَاَيْتَ اِنْ قُتِلْتُ فِيْ سَبِيْلِِ اللهِ اَتُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:نَعَمْ وَاَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيرُ مُدْبِرٍ اِلَّا الدَّيْنَ فَاِنَّ جِبْرِيْلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ لِيْ ذٰلِكَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1313 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا جابررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”ایک شخص نے بارگاہِ رِسالت میں عرض کی : یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر میں شہید ہوجاؤں تو کہاں ہوں گا؟ارشاد فرمایا: ”جنت میں۔“ یہ سنا تو اس نے اپنے ہاتھ میں موجود کھجوریں پھینک دیں پھر جہاد کرنے لگا یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔“

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَجُلٌ:اَيْنَ اَنَا يَارَسُوْلَ اللهِ اِنْ قُتِلْتُ؟ قَالَ: فِي الْجَنَّةِ فَاَلْقٰى تَمَرَاتٍ كُنَّ فِيْ يَدِهِ ثُمَّ قَاتَلَ حَتّٰى قُتِلَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1314 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور آپ کے صحابہ (جنگِ بدر کے لیے)چلےیہاں تک کہ مشرکین سے پہلے بدر پہنچ گئے پھر مشرکین بھی آگئے۔رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”تم میں سے کوئی بھی کسی چیز کی طرف مجھ سے آگے نہ بڑھے۔“جب مشرکین نزدیک آئے تو رسولِ انورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جنت کی طرف کھڑے ہوجاؤ جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔“حضرت عمیر بن حمامرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے پوچھا:کیا جنت کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے؟رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”ہاں۔“حضرت عمیررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنےکہا:واہ واہ۔رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےپوچھا: ”تم نے واہ واہ کیوں کہا؟“حضرت عمیررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی:اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی قسم!اس امید پر کہ میں بھی جنت والوں میں سے ہوجاؤں۔رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”تم انہی میں سے ہو۔“حضرت عمیررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُتھیلے سے کھجوریں نکال کر کھانے لگے پھر کہا:اگر میں ان کھجوروں کے کھانے تک زندہ رہا تو یہ طویل زندگی ہے،چنانچہ انہوں نے اپنے پاس موجود کھجوریں پھینک کر جہاد شروع کردیا یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: اِنْـطَلَقَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاَصْحَابُهُ حَتَّى سَبَـقُوا الْمُشْرِكِينَ اِلٰی بَدْرٍ وَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:لَا يَقْدُمَنَّ اَحَدٌ مِّنْكُمْ اِلَى شَيْءٍ حَتَّى اَكُوْنَ اَنَا دُوْنَهُ. فَدَنَا الْمُشْرِكُونَ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:قُوْمُوا اِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوَاتُ وَالْاَرْضُ قَالَ:يَقُوْلُ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ الْاَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَارَسُوْلَ اللهِ جَنَّةٌ عَرْضُهَا السَّمٰوَاتُ وَالْاَرْضُ؟ قَالَ: نَعَمْ ! قَالَ:بَخٍ بَخٍ! فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَحْمِلُكَ عَلَى قَوْلِكَ بَخٍ بَخٍ ؟ قَالَ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ! اِلَّا رَجَاءَ اَنْ اَكُوْنَ مِنْ اَهْلِهَا قَالَ:فَاِنَّكَ مِنْ اَهْلِهَا فَاَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِهِ فَجَعَلَ يَاْكُلُ مِنْهُنَّ ثُمَّ قَالَ: لَئِنْ اَنَا حَيِيْتُ حَتَّى آكُلَ تَمَرَاتِي هٰذِهِ اِنَّـهَا لَحَياةٌ طَوِيلَةٌ فَرَمٰى بِمَا كَانَ مَعَهُ مِنَ التَّمْرِ ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ .

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1315 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوکر عرض کی: ہمارے ساتھ چند لوگ بھیجیے جو ہمیں قرآن وسنت کی تعلیم دیں۔آپ نے ان کے ساتھ ستر انصار کو بھیجا جنہیں قُراء کہا جاتا تھاان میں میرے ماموں حضرت حَرامرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبھی تھے۔یہ لوگ قرآن پڑھتے اور رات کو اس کا دَور کرتےاور سیکھتےجبکہ دن میں پانی لاکر مسجد میں رکھتے اور لکڑیاں جمع کرکے لاتے پھر انہیں بیچ کر اصحابِ صفہ اور فُقراء کے لیے کھانا خریدتے۔نبی اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں بھیج دیاتو ان لوگوں نے ان صحابہ کرام کو منزل پر پہنچنے سے پہلےہی شہید کردیا،انہوں نے یہ دعا کی : اےاﷲ عَزَّ وَجَلَّ!ہماری طرف سے ہمارے نبی تک یہ بات پہنچا دے کہ ہم نے تجھ سے ملاقات کرلی،ہم تجھ سے راضی ہوئے اور تو ہم سے راضی ہوا۔ایک شخص حضرت انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکے ماموں حضرت حرامرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس پیچھے سے آیا اور نیزہ مارا یہاں تک کہ نیزہ جسم کے پار ہوگیا۔حضرت حرامرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:ربِّ کعبہ کی قسم!میں کامیاب ہوگیا۔رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:تمہارے بھائی شہید ہوگئے اور انہوں نے کہا: اےاﷲ عَزَّ وَجَلَّ!ہماری طرف سے ہمارے نبی تک یہ بات پہنچا دے کہ ہم نے تجھ سے ملاقات کرلی،ہم تجھ سے راضی ہوئے اور تو ہم سے راضی ہوا۔“

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:جَاءَ نَاسٌ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنِ ابْعَثْ مَعَنَا رِجَالًا يُعَلِّمُونَا الْقُرْآنَ وَالسُّنَّةَ فَبَعَثَ اِلَيْهِمْ سَبْعِينَ رَجُلًا مِّنَ الْاَنْصَارِ يُقَالُ لَهُمْ الْقُرّاءُ فِيْهِمْ خَالِيْ حَرَامٌ يَقْرَؤُوْنَ الْقُرْآنَ وَيَتَدَارَسُوْنَ بِاللَّيْلِ يَتَعَلَّمُوْنَ وَكَانُوْا بِالنَّهَارِ يَجِيْئُوْنَ بِالْمَاءِ فَيَضَعُوْنَهُ فِي الْمَسْجِدِ وَيَحْتَطِبُوْنَ فَيَبِيْعُوْنَهُ وَيَشْتَرُوْنَ بِهِ الطَّعَامَ لِاَهْلِ الصُّفَّةِ وَلِلْفُقَرَاءِ فَبَعَثَهُمُ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَضُوْا لَهُمْ فَقَتَلُوْهُمْ قَبْلَ اَنْ يَّبْلُغُوْا الْمَكَانَ فَقَالُوْا:اَللَّهُمَّ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا اَنَّا قَدْ لَقِيْنَاكَ فَرَضِيْنَا عَنْكَ وَرَضِيْتَ عَنَّا وَاَتَى رَجُلٌ حَرَامًا خَالَ اَنَسٍ مِنْ خَلْفِهِ فَطَعَنَهُ بِرُمْحٍ حَتَّى اَنْفَذَهُ فَقَالَ حَرَامٌ: فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ اِخْوَانَكُمْ قَدْ قُتِلُوْا وَ اِنَّهُمْ قَالُوْا:اَللّٰهُمَّ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا اَنَّا قَدْ لَقِيْنَاكَ فَرَضِيْنَا عَنْكَ وَرَضِيْتَ عَنَّا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1316 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”میرے چچا انس بن نضررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُغزوۂ بدر میں شریک نہ ہوسکےتو انہوں نے عرض کیا:’’یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ نے مشرکین کےخلاف جو پہلا جہاد کیا میں اس میں شریک نہ ہوسکا ،اگراﷲ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے لڑائی میں جانے کا موقع دیا تواﷲ عَزَّ وَجَلَّدیکھے گا میں کیا کرتا ہوں؟چنانچہ جب اُحد کا دن آیا اور مسلمانوں کو (بظاہر)شکست ہوئی تو انہوں نے کہا:اےاﷲ عَزَّ وَجَلَّ!میں تیری بارگاہ میں اس کام سے معذرت خواہ ہوں جو میرے ان ساتھیوں نے کیا اور اس کام سے بَریُ الذِّمہ ہوں جو مشرکین نے کیا۔پھر وہ آگے بڑھےحضرت سعد بن معاذرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے ملاقات ہوئی تو کہنے لگے:اے سعد بن معاذ!جنت،نضر کے ربّ کی قسم! میں اُحد سے جنت کی خوشبو محسوس کررہا ہوں۔حضرت سعدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!جو انہوں نے کیا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔حضرت انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :ہم نے ان کے جسم پر اَسّی سے زائدتلوار کی ضربوں ،نیزے کے زخموں یا تیر کےنشانات پائےاور ہم نے دیکھا کہ وہ شہید ہوچکے ہیں اور مشرکین نے ان کامُثلہ کردیا (چہرہ بگاڑ دیا)ہے ۔ہم میں سے کوئی انہیں نہ پہچان سکا البتہ ان کی بہن نے انگلیوں کے پَوروں سے ان کی شناخت کی۔ہمارا خیال یا گمان ہے کہ یہ آیت ان کے یا ان جیسے لوگوں کےحق میں نازل ہوئی:﴿ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ ﳲ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ(۲۳﴾(پ۲۱،الاحزاب:۲۳) (ترجمۂ کنزالایمان:مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کردیا جو عہداﷲسے کیا تھا تو ان میں کوئی اپنی مَنّت پوری کرچکا اور کوئی راہ دیکھ رہا ہے اور وہ ذرا نہ بدلے۔)

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَال:غَابَ عَمِّي اَنَسُ بْنُ النَّضْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ غِبْتُ عَنْ اَوَّلِ قِتَالٍ قَاتَلْتَ الْمُشْرِكِينَ لَئِنِِ اللهُ اَشْهَدَنِيْ قِتَالَ الْمُشْرِكِيْنَ لَيَرَيَنَّ اللهُ مَا اَصْنَعُ فَلَمَّا كَانَ يَومُ اُحُدٍ انْكَشَفَ الْمُسْلِمُونَ فَقَالَ:اَللَّهُمَّ اِنِّي اَعْتَذِرُ اِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ هٰؤُلَاءِ (يَعْنِيْ اَصْحَابَهُ) وَاَبْرَاُ اِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ هٰؤُلَاءِ (يَعْنِي الْمُشْرِكِيْنَ) ثُمَّ تَقَدَّمَ فَاسْتَقْبَلَهُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَالَ: يَا سَعَدَ بْنَ مُعَاذٍ الْجَنَّةَ وَرَبِّ النَّضْرِ اِنِّيْ اَجِدُ رِيْحَهَا مِنْ دُوْنِ اُحُدٍ! فَقَالَ سَعْدٌ: فَمَا اسْتَطَعْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ مَا صَنَعَ ! قَالَ اَنَسٌ: فَوَجدْنَا بِهِ بِضْعًا وَثَمَانِيْنَ ضَرْبَةً بِالسَّيْفِ اَوْطَعْنَةً برُمْحٍ اَوْرَمْيَةً بِسَهْمٍ وَوَجَدْنَاهُ قَدْ قُتِلَ وَمَثَّلَ بِهِ الْمُشْرِكُوْنَ فَمَا عَرَفَهُ اَحَدٌ اِلَّا اُخْتُهُ بِبَنَانِهِ قَالَ اَنَسٌ:كُنَّا نَـرَى اَوْ نَظُنُّ اَنَّ هٰذِهِ الْآيَةَ نَـزَلَتْ فِيْهِ وَفِي اَشْبَاهِهِ:﴿ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ ﳲ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ(۲۳)﴾

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1317 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا سمرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”آج رات میں نے دوشخصوں کو دیکھا وہ میرے پاس آئے اور مجھےایک درخت پر لے گئےپھر مجھے ایک مکان میں داخل کیا جو نہایت خوبصورت اور بہترین تھا،میں نے اس جیسا حسین مکان کبھی نہیں دیکھاپھر انہوں نے کہا:یہ شہدا کا گھر ہے۔“

عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:رَاَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ اَتيَانِيْ فَصَعِدَا بِیَ الشَّجَرَةَ فَاَدْخَلَانِيْ دَارًا هِيَ اَحْسَنُ وَاَفضَلُ لَمْ اَرَ قَطُّ اَحْسَنَ مِنْهَا قَالَا:اَمَّا هٰذِهِ الدَّارُ فَدَارُ الشُّهَدَاءِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1318 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ اُمِّ ربیع بنتِ براء یعنی حارثہ بن سراقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکی والدہ نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض کی:یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا آپ مجھے حارثہ کے بارے میں نہیں بتائیں گے؟اور وہ بدر کے دن شہید ہوچکے تھے۔اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کروں گی اور اگر وہ کسی اور جگہ میں ہے تو اس پر خوب روؤں گی۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”اے حارثہ کی ماں!جنت کے مختلف درجے ہیں اور تیرا بیٹا فردوسِ اعلیٰ میں پہنچ چکا ہے۔“

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ اُمَّ الرُّبَيِّعِ بِنْتَ الْبَرَاءِ وَهِيَ اُمُّ حَارِثَةَ بْنِ سُرَاقَةَ اَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُوْلَ اللهِ اَلَا تُحَدِّثُنِيْ عَنْ حَارِثَةَ وَكَانَ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ فَاِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ صَبَرْتُ وَ اِنْ كَانَ غَيْرَ ذٰلِكَ اجْتَهَدْتُ عَلَيْهِ فِي الْبُكَاءِ فَقَالَ : يَا اُمَّ حَارِثَةَ اِنَّهَا جِنَانٌ فِي الْجَنَّةِ وَ اِنَّ ابْنَكِ اَصَابَ الْفِرْدَوْسَ الْاَعْلَى.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1319 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنَا جابر بن عبداﷲرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:میرے والدکو (شہادت کے بعد) بارگاہِ رسالت میں لایا گیااُن کا مُثلہ کیا گیا تھا۔ تو انہیں آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامنے رکھا گیا۔میں نے ان کے چہرے سے کپڑا ہٹانا چاہا تو میری قوم نے مجھے منع کیا۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”فرشتے برابر اپنے پروں سے اِن پر سایہ کیے ہوئے ہیں۔“

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:جِيْءَ بِاَبِیْ اِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مُثِّلَ بِهِ فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَذَهَبْتُ اَكْشِفُ عَنْ وَجْهِهِ فَنَهَانِي قَوْمِيْ فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَا زَالتِ الْمَلَا ئِكَةُ تُظِلُّهُ بِاَجْنِحَتِهَا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1320 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا سہل بن حنیفرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہرسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جو سچے دل سےاﷲ عَزَّ وَجَلَّسے شہادت مانگے تواﷲ عَزَّ وَجَلَّاسے شہیدوں کے درجوں پر پہنچادے گا اگرچہ وہ اپنے بستر پرفوت ہو۔“

عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ سَاَلَ اللهَ تَعَالَی الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ بَلَّغَهُ اللهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ وَاِنْ مَاتَ عَلٰی فِرَاشِهِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1321 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ رسول اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جو صدقِ دل سے شہادت طلب کرے اسے درجۂ شہادت عطا کیا جاتا ہے اگرچہ وہ شہید نہ ہوا ہو۔“

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ طَلَبَ الشَّهَادَةَ صَادِقًا اُعْطِيَهَا وَلَوْ لَمْ تُصِبْهُ .

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1322 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”شہید کو شہادت کے وقت محض چیونٹی کے کاٹنے جنتی تکلیف ہوتی ہے ۔“

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَا يَجِدُ الشَّهِيْدُ مِنْ مَسِّ الْقَتْلِ اِلَّا كَمَا يَجِدُ اَحَدُكُمْ مِنْ مَسِّ الْقَرْصَةِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1323 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن ابی اوفیٰرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ نبی اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک لڑائی کے موقع پر سورج کا انتظار کرنے لگے ،جب سورج ڈھل گیا تو لوگوں میں کھڑے ہوئے اورارشاد فرمایا:” اے لوگو! دشمن سے جنگ کی خواہش نہ کرو اوراﷲ عَزَّ وَجَلَّسے عافیت مانگو پھر اگر لڑنا پڑے تو صبر کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے میں ہے۔“ پھرآپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یوں دعا فرمائی:”اَللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ وَمُجْرِيَ السَّحَابِ وَهَازِمَ الْاَحْزَابِ اَهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْیعنی اےاﷲ عَزَّ وَجَلَّ! اے کتاب نازل کرنے والے،اے بادلوں کو چلانے والے اور اے لشکروں کو بھگانے والے اِن (کافروں)کو شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما۔“

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ اَبِيْ اَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اﷲ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ بَعْضِ اَ يَّامِهِ الَّتِيْ لَقِيَ فِيْهَا الْعَدُوَّ انْتَظَرَ حَتَّى مَالَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ قَامَ فِي النَّاسِ فَقَالَ:اَيُّهَا النَّاسُ لَاتَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ فَاِذَا لَقِيتُموْهُمْ فَاصْبِرُوْا وَاعْلَمُوْا اَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ ثُمَّ قَالَ: اَللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ وَمُجْرِيَ السَّحَابِ وَهَازِمَ الْاَحْزَابِ اَهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1324 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان