Main Icon

باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1236

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِذَا اَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هٰهُنَا وَاَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هٰهُنَا وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ اَفْطَرَ الصَّائِمُ.

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اذا اقبل الليل من ههنا وادبر النهار من ههنا وغربت الشمس فقد افطر الصائم.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطابرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”جب رات اِس(یعنی مشرق کی) طرف سے آرہی ہو اور دن اُس (یعنی مغرب کی) طرف جارہا ہو اور سورج غروب ہوجائے تو روزہ دار افطار کرے۔“

شرح حدیث

مذکورہ حدیث شریف میں بیان کیا گیا ہے کہ ”جب رات اس طرف سے آرہی ہو اور دن اس طرف جارہا ہو“ شارحین نے فرمایا کہ رات سے مراد رات کی تاریکی اور ”اس طرف“ سے مراد مشرق ہے اور دن سے مراد دن کی روشنی اور”اس طرف“سے مراد مغرب ہے اور سورج کے غروب ہونے سے مراد سورج کا آخری کنارہ ڈوب جانا ہے،جب یہ سب چیزیں ہوجائیں اس کے بعد روزہ دار تاخیر نہ کرے بلکہ فوراً افطار کرلے۔مکمل سورج غروب ہونے پر افطار کرے:اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:(رات اس طرف سے آجائے) رات سے مراد رات کی تاریکی ہے یعنی جب رات کی تاریکی مشرق کی طرف سے آجائے۔اور(دن اس طرف چلا جائے)یعنی دن کی روشنی مغرب کی جانب چلی جائے۔اس کے بعدحضورعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا:”غَرَبَتِ الشَّمْسُ“(یعنی سورج غروب ہوجائے)یہ جملہ سورج کے مکمل طور پر غروب ہونے کو بیان کرنے کے لئے فرمایا تاکہ کوئی یہ گمان نہ کرے کہ سورج کے بعض حصے کے غروب ہونے پر افطار کرنا جائز ہے۔
شرح اِبنِ بطال میں ہے:علما کا اس بات پر اجماع ہے کہ جب سورج غروب ہوجائے تو اب روزہ دار کے لئے افطار کرنا جائز ہوگیا، کیونکہ یہ دن کا اختتام اور رات کا آغاز ہے۔( )شرح مسلم میں امام نووی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں: حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب رات آجائے دن چلا جائے سورج غروب ہوجائے تو روزہ دار کا روزہ مکمل ہوگیا اب اُسے روزہ دارنہیں کہا جائے گا کیونکہ سورج کے غروب ہوتے ہی دن چلا گیا اور رات آگئی اور رات روزہ کا وقت نہیں۔مدنی گلدستہ’’عمر‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) رات کی تاریکی مشرق کی جانب اور دن کی روشنی مغرب کی جانب سمٹ جائے اور سورج مکمل طور پر غروب ہوجائےتو اس وقت روزہ دار افطار کرے۔
(2) سورج کے بعض یا آدھا غروب ہونے پر افطار کرنا جائز نہیں۔
(3) روزہ کا وقت دن ہے رات نہیں، اس لئے رات کے شروع ہوتے ہی روزہ ختم ہوگیا۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحیح وقت پر افطار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1236