Main Icon

باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1238

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ سَلْمَان بِنِ عَامِرِ الضَّبِّيِّ الصَّحَابِي رَضِیَ اﷲ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا اَفْطَرَ اَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ فَاِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ فَاِنَّهُ طَهُورٌ.

عن سلمان بن عامر الضبي الصحابي رضی اﷲ عنہ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: اذا افطر احدكم فليفطر على تمر فان لم يجد فليفطر على ماء فانه طهور.

حدیث ترجمہ

صحابی رسول حضرتِ سَیِّدُنا سلمان بن عامرضبیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُحضورنبیِّ کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:”تم میں سے جب کوئی افطار کرے تو کھجور سے کرے اگر کھجور نہ ملے تو پھر پانی سے افطار کرے بے شک وہ پاکیزہ ہے۔“

شرح حدیث

مذکورہ حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کھجور سے روزہ افطار کرنا چاہیے اگر کھجور میسر نہ ہو تو پھر پانی سے افطار کرے کیونکہ پانی پاکیزہ شے ہے۔میٹھی چیز کھانا مفید ہے:مُفَسِّرِ شَہِیْر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مفتی احمد یار خانرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ’’چھوارے سے روزہ افطارنا چونکہ حضورِ انورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت ہے صحابۂ کرام کی سنت ہے، نیز خالی پیٹ میٹھی چیز کھانا تندرستی، خصوصاً نظر کے لئے بہت مفید ہے اس لئے یہ عمل دِین و دُنیاوی برکتوں کا ذریعہ ہے کھجور محبوب بندوں کی غذا ہے۔پانی جیسے جسم کو پاک کرنے والا ہے ایسے ہی دل و دماغ کو بھی پاک و صاف کرنے والا ہے نیز پانی میں حرام ہونے کا احتمال بہت کم ہوتا ہے کہ کنوئیں کا پانی جنگل کا شکار اصل میں مباح ہے دوسری چیزوں میں احتمال ہے کہ حرام کمائی سے حاصل کی گئی ہوں، روزہ حلال سے افطار کرنا بہتر ہے یہ امر (یعنی حکم)اِستحبابی ہے۔‘‘کھجور کے فوائد:حدیث میں فرمایا گیا کہ ’’جب تم میں سے کوئی روزہ افطار کرے تو اسے چاہیے کہ وہ کھجور سے افطار کرے۔“یہ حکم استحبابی ہے(یعنی لازم و ضروری نہیں کہ کھجور یا پانی سے افطار کیا جائے ہاں بہتر ہے) کہ کھجور سے اِفطار کیا جائے اصلِ سنّت پر اِکتفا کرتے ہوئے کیونکہ کھجور برکت والی اور کثیر فوائد والی چیز ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کھجور سے افطار کرنے میں یہ حکمت ہو کہ میٹھی چیز تیزی سے طاقت بحال کرتی ہے اور اس میں ایمان کی حلاوت (میٹھاس) اور گناہوں کی کڑواہٹ کے زائل ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں: کھجور سے افطار کرنے میں بہت ثواب اور برکت ہے۔ علامہ ابنِ ملک کہتے ہیں کہ کھجور سے اِفطار کرنے کی حکمت شارِععَلَیْہِ السَّلَامپر چھوڑدی جائے بہر حال اس کی حکمت سمجھ میں جو آتی ہے وہ یہ ہے کہ کھجور میٹھی غذا ہےجبکہ انسان کا نفس بھوک کی سختی کی وجہ سے تھک چکا ہوتا ہے لہٰذا شارععَلَیْہِ السَّلَامنے اس تھکن کو دور کرنے کے لئے ایسی چیز کا حکم دیا جو کہ میٹھی بھی ہے اور غذا بھی۔ ابنِ حجر کہتے ہیں کہ کھجور کی خاصیت یہ ہے کہ جب وہ معدہ میں پہنچتی ہے تو اگر معدہ خالی ہو تو اس سے غذا حاصل ہوتی ہے وگرنہ معدہ میں جو باقی ماندہ خوراک ہوتی ہے اسے ہضم کردیتی ہے۔مدنی گلدستہ’’فاروق‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) کھجور سے روزہ افطار کرنا چاہیے اس میں جہاں دینی فوائد ہیں وہیں دنیاوی فوائد بھی ہیں۔
(2) کھجور محبوب بندوں کی غذا ہے۔
(3) اگر کھجور میسر نہ ہو تو پانی سے روزہ افطار کرنا چاہیے۔
(4) پانی جس طرح جسم کو پاک کرنے والا ہے اسی طرح دل و دماغ کو بھی پاک کرنے والا ہے۔
(5) کھجور کی خاصیت یہ ہے کہ اگر معدہ خالی ہو تو اس سے غذا حاصل ہوتی ہے اوراگر معدہ بھرا ہوا ہو تو کھجور اس خوراک کو ہضم کرتی ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی تعلیمات پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1238