Main Icon

امانت کی ادائیگی کے احکام - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 201

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ حُذَیْفَۃَ وَاَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْھُمَا قَالَا قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى النَّاسَ فَيَقُوْمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى تُزْلَفَ لَهُمُ الْجَنَّةُ فَيَأْتُوْنَ آدَمَ صَلَوَاتُ اللہِ عَلَیْہِ فَيَقُوْلُوْنَ يَا اَبَانَا اسْتَفْتِحْ لَنَا الْجَنَّةَ فَيَقُوْلُ : وَهَلْ اَخْرَجَكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ اِلَّا خَطِيْئَةُ اَبِيْكُمْ! لَسْتُ بِصَاحِبِ ذٰلِكَ اِذْهَبُوْا اِلَى ابْنِيْ اِبْرَاهِيْمَ خَلِيْلِ اللَّهِ قَالَ : فَيَاْتُوْنَ اِبْراھِیْمَ فَيَقُوْلُ اِبْراهِيْمُ : لَسْتُ بِصَاحِبِ ذٰلِكَ اِنَّمَا كُنْتُ خَلِيْلًا مِّنْ وَرَاءَ وَرَاءَ اِعْمَدُوْا اِلَى مُوْسَى الَّذِيْ كَلَّمَهُ اللَّهُ تَكْلِيمًا فَيَأْتُونَ مُوْسَى فَيَقُوْلُ : لَسْتُ بِصَاحِبِ ذٰلِكَ اِذْهَبُوْا اِلَى عِيْسَى كَلِمَةِ اللَّهِ وَرُوْحِهِ فَيَقُوْلُ عِيْسَى : لَسْتُ بِصَاحِبِ ذٰلِكَ فَيَاْتُوْنَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُوْمُ فَيُؤْذَنُ لَهُ وَتُرْسَلُ الْاَمَانَةُ وَالرَّحِمُ فَیَقُوْمَانِ جَنْبَتَيِ الصِّرَاطِ يَمِيْنًا وَشِمَالًا فَيَمُرُّ اَوَّلُكُمْ كَالْبَرْقِ قُلْتُ : بِاَبِيْ وَاُمِّيْ اَيُّ شَيْءٍ كَمَرِّ الْبَرْقِ؟ قَالَ : اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ يَمُرُّ وَيَرْجِعُ فِي طَرْفَةِ عَيْنٍ؟ ثُمَّ كَمَرِّ الرِّيْحِ ثُمَّ كَمَرِّ الطَّيْرِ وَاَشَدِّ الرِّجَالِ تَجْرِيْ بِهِمْ اَعْمَالُهُمْ وَنَبِيُّكُمْ قَائِمٌ عَلَى الصِّرَاطِ يَقُوْلُ : رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ حَتَّى تَعْجِزَ اَعْمَالُ الْعِبَادِ حَتَّى يَجِيْءَ الرَّجُلُ لَا يَسْتَطِيْعُ السَّيرَ اِلَّا زَحْفًا وَفِي ْحَافَتَيِ الصِّرَاطِ كَلَالِيْبُ مُعَلَّقَةٌ مَاْمُوْرَةٌ بِاَخْذِ مَنْ اُمِرَتْ بِهِ فَمَخْدُوْشٌ نَاجٍ وَمُكَرَدَسٌ فِيْ النَّارِ وَالَّذِيْ نَفْسُ اَبِي ْهُرَيرَةَ بِيَدِهِ! اِنَّ قَعْرَ جَهَنَّمَ لَسَبْعُوْنَ خَرِيْفًا.( )

عن حذیفۃ وابی ہریرۃ رضی اللہ عنھما قالا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يجمع الله تبارك وتعالى الناس فيقوم المؤمنون حتى تزلف لهم الجنة فيأتون آدم صلوات اللہ علیہ فيقولون يا ابانا استفتح لنا الجنة فيقول : وهل اخرجكم من الجنة الا خطيئة ابيكم! لست بصاحب ذلك اذهبوا الى ابني ابراهيم خليل الله قال : فياتون ابراھیم فيقول ابراهيم : لست بصاحب ذلك انما كنت خليلا من وراء وراء اعمدوا الى موسى الذي كلمه الله تكليما فيأتون موسى فيقول : لست بصاحب ذلك اذهبوا الى عيسى كلمة الله وروحه فيقول عيسى : لست بصاحب ذلك فياتون محمدا صلى الله عليه وسلم فيقوم فيؤذن له وترسل الامانة والرحم فیقومان جنبتي الصراط يمينا وشمالا فيمر اولكم كالبرق قلت : بابي وامي اي شيء كمر البرق؟ قال : الم تروا كيف يمر ويرجع في طرفة عين؟ ثم كمر الريح ثم كمر الطير واشد الرجال تجري بهم اعمالهم ونبيكم قائم على الصراط يقول : رب سلم سلم حتى تعجز اعمال العباد حتى يجيء الرجل لا يستطيع السير الا زحفا وفي حافتي الصراط كلاليب معلقة مامورة باخذ من امرت به فمخدوش ناج ومكردس في النار والذي نفس ابي هريرة بيده! ان قعر جهنم لسبعون خريفا.( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا حذیفہ وسَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہے کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’قیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ تمام لوگوں کو جمع فرمائے گا تو مسلمان کھڑے ہوں گے یہاں تک کہ جنت اُن کے قریب کر دی جائے گی تو وہ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس آکر عرض کریں گے : اے ہمارے باپ! ہمارے لئے جنت کا دروازہ کھول دیں ، حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام فرمائیں گے : تمہیں جنت سے تمہارے باپ کی ایک لغزش ہی نے تو نکالا تھا۔ میرا یہ منصب نہیں تم لوگ میرے بیٹے ابراہیم خلیلُ اللہ(عَلَیْہِ السَّلَام) کے پاس چلے جاؤ ۔ ‘‘حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام فرماتے ہیں : ’’پھر وہ لوگ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس جائیں گے ، ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام فرمائیں گے : میرا یہ منصب

نہیں میں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا دوست ہوں ، مقامِ شفاعت سے دور ہوں ، تم حضرت موسٰی عَلَیْہِ السَّلَامکے پاس جاؤ ، ان کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے شرفِ کلام سے نوازا ہے۔ تو وہ موسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس آئیں گے۔ حضرت موسیعَلَیْہِ السَّلَام فرمائیں گے : میرا یہ منصب نہیں ، تم لوگ عیسٰیعَلَیْہِ السَّلَامکے پاس چلے جاؤ ، وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کلمہ سے پیدا ہوئے ہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پسندیدہ روح ہیں ، عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام بھی ان سے یہی فرمائیں گےکہ میرا یہ منصب نہیں۔ تو وہ لوگ محمد( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے۔ پھر وہ کھڑے ہوں گے اور ان کو شفاعت کی اجازت دی جائے گی ، امانت اور رحم کو بھیجا جائے گا ، وہ دونوں پل صراط کے دائیں بائیں کھڑے ہوجائیں گے ، پھر تم میں سے پہلا گروہ بجلی کی طرح تیزی سے گزر جائے گا۔ ‘‘راوی کہتے ہیں : ’’میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان! یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کوئی چیز بجلی کی طرح کیسے گزرے گی؟‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’کیا تم نے بجلی کو نہیں دیکھا وہ کس طرح گزرتی ہے ؟اور پلک جھپکنے سے پہلے لوٹ آتی ہے۔ پھر دوسرا گروہ ہوا کی مانند گزر جائے گا ، پھر ایک گروہ پرندوں کی طرح گزر جائے گا ، پھر ایک گروہ تیز دوڑنے والے مَردوں کی طرح گزر جائے گا ، اس کے بعد ہر شخص اپنے اعمال کے مطابق رفتار سے گزر جائے گا اور تمہارے نبی ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) پل صراط پر کھڑے دعا کر رہے ہوں گے : اے ربّ سلامتی کے ساتھ گزار ، حتی کہ بندوں کے اعمال انہیں عاجز کردیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں کے بل چلتا ہوا گزرے گا۔ پل صراط کے دونوں کناروں پر لوہے کے آنکڑے(ہُک) لٹکے ہوئے ہوں گے اور وہ اس کو پکڑ لیں گے جسے پکڑنے کا حکم ہوگا پس کچھ لوگ زخمی حالت میں نجات پاجائیں گے اور کچھ آگ میں ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے۔ ‘‘(راوی کہتے ہیں : )’’ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں ابو ہریرہ کی جان ہے! بے شک جہنم کی گہرائی ستر سال کی مَسافت کے برابر ہے۔ ‘‘

شرح حدیث

روزِ قیامترسولُ اللہکی شانِ محبوبی:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ بالا حدیث پاک میں حضور نبی پاک ، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی کل بروزِ قیامت ظاہر ہونے والی شانِ محبوبی کا پاکیزہ اور روشن بیان ہے ، کل بروزِ قیامت جب

نفسا نفسی کا عالم ہوگا ، جب تمام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام بھی جواب دے دیں تو فقط آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی مشکل میں مدد فرمائیں گے ، کل بروز قیامت اپنے بیگانے سب اس شان محبوبی کو دیکھ لیں گے۔ چنانچہ اعلی حضرت ، عظیم البرکت ، عظیم المرتبت ، مجدددین وملت ، پروانہ شمع رسالت ، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ، فتاوی رضویہ ، جلد۳۰ ، صفحہ ۱۷۰ پر فرماتے ہیں : ’’اس دن (سیدنا)آدم صَفِیُّ اللہ (عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام)سے (سیدنا)عیسٰی کلمۃ اللہ(عَلَیْہِ السَّلَام)تک سب انبیاء اللہ عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نَفْسِی نَفْسِی فرمائیں گے اورحضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم اَنَا لَھَا اَنَا لَھَا میں ہوں شفاعت کےلیے ، میں ہوں شفاعت کے لیے ۔ انبیاء ومرسلین وملائکہ مقربین سب ساکت ہوں گے اوروہ متکلم ، سب سربگریبان ، وہ ساجد وقائم ، سب محل خوف میں ، وہ آمن وناہم ، سب اپنی فکر میں ، انہیں فکر عوالم ، سب زیر حکومت ، وہ مالک وحاکم ، بارگاہِ الٰہی میں سجدہ کریں گے ۔ ان کا رب انہیں فرمائے گا : ’’یَا مُحَمَّدُ! اِرْفَعْ رَأْسَکَ وَقُلْ تُسْمَعُ وَسَلْ تُعْطَہُ وَاشْفَعْ تُشْفَعُ(یعنی )اے محمد!اپنا سراٹھاؤ اورعرض کرو کہ تمہاری عرض سنی جائے گی اورمانگو کہ تمہیں عطاہوگا اورشفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول ہے ۔ ‘‘اس وقت اولین وآخرین میں حضور ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )کی حمد وثناء کا غلغلہ (شور)پڑ جائے گااوردوست ، دشمن ، موافق ، مخالف ، ہرشخص حضور ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کی افضلیتِ کبریٰ وسیادت عظمٰی پر ایمان لائے گا۔ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن۔
مقام محمود ونامت محمد …… بہ نیساں مقامے و نامے کہ دارد
یعنی آپ کا مقام محمود اورنام محمد ہے ، ایسا مقام اورنام کون رکھتاہے ؟
برادرِاعلیٰ حضرت مولاناحسن رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے نعتیہ دیوان ’’ذوقِ نعت‘‘ میں قیامت کی مَنظر کَشی اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شانِ مَحبوبی کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
دکھائی جائے گی محشر میں شانِ محبوبی …… کہ آپ ہی کی خوشی آپ کا کہا ہوگا
کہیں گے اور نبی اِذْھَبُوْا اِلٰی غَیْرِی …… میرے حضور کے لب پر اَنَا لَھَا ہوگا

دعائے اُمَّت بدکار وِرد لَب ہوگی …… خدا کے سامنے سجدے میں سر جھکا ہوگا
غلام ان کی عنایت سے چین میں ہوں گے …… عدو حضور کا آفت میں مبتلا ہوگا
میں اُن کے در کا بھکاری ہوں فضل مولیٰ سے …… حسن فقیر کا جنت میں بسترا ہوگا
انبیائے کرام کی عاجزی وانکساری:علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتےہیں : ’’کل بروزِ قیامت جب لوگ حضرت سیدنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے تو حضرت سیدنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام اُن سے فرمائیں گے : ’’میرا یہ مَنْصَب نہیں میں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا دوست ہوں تم حضرت موسی کے پاس جاؤ۔ ‘‘ یہ کلمہ عاجزی و انکساری کے لئے بولا جاتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس بلند درجے تک میری راہ نہیں ، اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جو درجات مجھے دئیے گئے ہیں جبریل کے واسطے سے دئیے گئے ہیں (بلا واسطہ نہیں ملے) تم موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس چلے جاؤ کیونکہ انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے بلا واسطہ کلام کرنے کا شرف حاصل ہے۔ حضرت سیدنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے دو مرتبہ “ وَرَاءَ وَرَاءَ “ فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے شرفِ کلام اور شرفِ زیارت بغیر کسی واسطے کے حاصل ہوا ، اسی لئے حضرت سیدنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا کہ ’’میں موسی عَلَیْہِ السَّلَام کے پیچھے ہوں اور موسی عَلَیْہِ السَّلَام حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیچھے ہیں۔ ‘‘( )امانت اور رحم پل صراط پر کیوں آئیں گے؟مذکورہ حدیث پاک میں ہے کہ ’’امانت اور رحم کو پل صراط پر بھیجا جائے گا ۔ ‘‘ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’امانت اور رحم کے عظیم ہونے اور دنیا میں اُن کے کثرت سے وقوع پذیر ہونے کی وجہ سے اُن کو پل صراط پر بھیجا جائے گا۔ یہ دونوں اِنسانی شکل میں آئیں گے جیسا اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے گا اور اس کا معنیٰ یہ ہے کہ یہ دونوں پل صراط کے کناروں پر کھڑے ہوں گےتاکہ ہر گزرنے والے سے اپنا حق طلب کریں پس جس نے ان کا حق ادا کیا ہوگا یہ پل

صراط سے گزرنے میں اس کی مدد کریں گے اور جس نے ان کا حق ادا نہ کیا ہوگا تو یہ اُسے چھوڑ دیں گے یعنی اُس کی مدد نہیں کریں گے۔ ‘‘( )
پل صراط سے بجلی کی طرح گزرنے والے:حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضور نبی اکرم ، نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پوچھاکہ ’’بجلی کی طرح کوئی چیز کیسے گزر سکتی ہے؟‘‘ تو فرمایا : ’’ کیا تم نے بجلی کو نہیں دیکھا وہ کس طرح گزرتی ہے ؟‘‘یعنی تیزی سے اور پلک جھپکنے سے پہلے لوٹ آتی ہے۔ اس کے تحت عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’میرے نزدیک یہ تشبیہ صرف گزرنے سے نہیں بلکہ تیزی سے گزرنے اور روشنی کے ظاہر ہونے سے ہےتاکہ یہ نُوْرٌ عَلٰی نُوْر ہوجائے اور اس سے بدن اور روح ، ظاہر وباطن اور کمیت و کیفیت کی طرف اِشارہ ہوجائے۔ جس طرح سائل کے سوال میں گزرنے کا ذکر ہے تو ضروری تھا کہ جواب میں کچھ زائد بیان کیا جائے۔ ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام ہیں (یعنی وہ بجلی کی سی تیزی سے گزر جائیں گے) اور ایک احتمال یہ بھی ہے کہ اس سے مراد اِس اُمُّت کے صوفیاء ہیں۔ ‘‘( )حضور شفاعت کبریٰ فرمائیں گے:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’جب لوگ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوکرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے فریاد کریں گے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عرش کے نیچے کھڑے ہوں گے اور سجدے میں گر جائیں گے۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر حمد کے ایسے دروازے کھولے جائیں گے جو اس سے پہلے آپ پر نہیں کھولے گئے ، جس کے ذریعے آپ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد بیان کریں گے۔ پھر آپ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کو شفاعت کی اجازت دی جائے گی۔ ‘‘( )

مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’حضور کو کلام کرنے عرض و معروض پیش کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ شفاعت کی اجازت تو اَزل سے دی جا چکی ، یہ سہرا اُن کے سر پر باندھا جاچکا ۔ آپ کا لقب شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن(گناہگاروں کی شفاعت فرمانے والے) ہوچکا ہے ، اعلیٰ حضرت( رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ) نے فرمایا :
جس کے ماتھے شفاعت کا سہرا بندھا
اُس جبینِ سعادت پہ لاکھوں سلام
شفاعت کبریٰ حضور( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) ہی کریں گے۔ دروازہ شفاعت کھل جانے کے بعد پھر دوسرے لوگ دوسری چیزیں شفاعت صغریٰ کریں گی۔ ‘‘( )
پل صراط سے گزرنے والوں کی رفتار میں فرق کیوں؟حدیث پاک میں ہے کہ’’ قیامت کے دن کچھ لوگ پل صراط سے بجلی کی تیزی سے گزر جائیں گے جبکہ کچھ لوگ پرندوں کی رفتار کی طرح اور کچھ اپنے گھٹنوں کے بل گزریں گے۔ ‘‘ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتْ مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ ان کی رفتاروں میں یہ فرق ان کے نیک اعمال اور اخلاص کے فرق کی وجہ سے ہوگا۔ جیسا عمل جیسا اخلاص ، ویسی وہاں کی رفتار ، یہاں اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ اعمال سببِ رفتار ہیں اورحضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نگاہِ کرم اصلی وجہ رفتار کی ہے جتنا کہ حضور سے قُرب زیادہ اتنی رفتار تیز ۔ (نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پل صراط پر کھڑے دعا فرما رہے ہوں گے : اے رب سلامتی کے ساتھ گزار) ظاہر یہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پل طراط کے اس محشر والے کنارہ پر قیام فرما ہوں گے۔ اپنے گرتوں کو سنبھالتے ہوں گے( حتی کہ بندوں کے اعمال انہیں عاجز کردیں گے) یعنی آخر میں وہ لوگ آئیں گے جن کو اعمال چلا نہ سکیں گے ، یا تو ان کے پاس اعمال نیک ہوں گے ہی نہیں یا ان میں اِخلاص وغیرہ نہ ہوگا۔ عمل میں قوتِ پرواز اِخلاص سے ہوتی ہے۔ (اور پل صراط پر

جو لوہے کےآنکڑے لٹکے ہوئے ہونگے)اس طرح کہ جنہیں زخمی کردینے کا حکم ہے انہیں زخمی کرکے چھوڑ دیں گے اورجنہیں دوزخ میں گرانے کا حکم ہے انہیں چھید کرگرادیں گے۔ خدا کی پناہ (جہنم کی گہرائی ستر سال کی مسافت کے برابر ہے) لہٰذا جو دوزخ میں گرایا جائے گا وہ ستر سال میں اپنے ٹھکانے پر پہنچے گا۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
”شفاعت“ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) کل بروزِ قیامت جب تمام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام لوگوں کو دیگر انبیاء کی طرف بھیج رہے ہوں گے اس وقت صرف ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی لوگوں کی داد رسی فرمائیں گے اور انہیں عذاب سے نجات دلوائیں گے۔
(2) کل بروزِ قیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمارے پیارے نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وہ شان محبوبی ظاہر فرمائے گا جو کسی کو بھی عطا نہ ہوئی ، کل آپ کو عطا فرمائے جانے والے مقام محمود کو اپنے اور غیر سب ملاحظہ کریں گے۔
(3) حضرتِ سَیِّدُناموسی عَلَیْہِ السَّلَام کو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے بلا واسطہ کلام کرنے کا شرف حاصل ہےجبکہ ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بلا واسطہ شرف کلام اور شرف زیارت دونوں حاصل ہیں۔
(4) لوگ اپنے اپنے اَعمال کے حساب سےپل صراط سے گزریں گے ، جس کے جتنےا عمال اچھے اس کی رفتار اتنی ہی زیادہ ، کوئی بجلی کی تیزی سے گزرے گا تو کوئی ہوا کی طرح ، کچھ پرندے کے اڑنے کی طرح اور کچھ پیدل چلنے والوں کی طرح۔
(5) حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سب سے پہلے شفاعت فرمائیں گے آپ کے بعد دوسرے لوگ اور دوسری چیزیں شفاعت کریں گی ۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کل بروز قیامت رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شفاعت سے بہر مند فرمائے ، ہمیں بلا حساب وکتاب جنت میں داخل فرمائے ، ہمیں امانت ورحم کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 201