Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 485

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِْ کَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ اُرْسِلَا فِيْ غَنَمٍ بِاَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ المَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِيْنِهِ. ( )

عن کعب بن مالك رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ما ذئبان جائعان ارسلا في غنم بافسد لها من حرص المرء على المال والشرف لدينه. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا کَعب بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑدیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال ودولت کی حِرْص اور حبِّ جاہ انسا ن کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ “

شرح حدیث

مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ” ( حدیث مذکور میں ) نہایت نفیس تشبیہ ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ مؤمن کا دِین گویا بکری ہے اور اس کی حرصِ مال ، حرصِ عزت گویا دو بھوکے بھیڑیئے ہیں مگر یہ دونوں بھیڑیئے مؤمن کے دِین کو اس سے زیادہ برباد کرتے ہیں جیسے ظاہری بھوکے بھیڑیئے بکریوں کو تباہ کرتے ہیں کہ انسان مال کی حرص میں حرام و حلال کی تمیز نہیں کرتا ، اپنے عزیز اوقات کو مال حاصل کرنے میں ہی خرچ کرتا ہے ، پھر عزت حاصل کرنے کے لیے ایسے

جتن کرتے ہیں جو بالکل خلافِ اسلام ہیں ۔ حضرت ابن مسعود (
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) فرماتے ہیں کہ ریا کار مرنے کے بعد بھی رِیا نہیں چھوڑتا ، کسی نے پوچھا وہ کیسے ، فرمایا : ” وہ چاہتا ہے کہ میرے جنازہ میں بہت لوگ ہوں تاکہ میری عزت ہو ، رِیا مَرے بعد بھی پیچھا نہیں چھوڑتی ۔ “ ( )
¥
حُبِّ جاہ کا وبال :عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیفرماتے ہیں : ” حُبِِّ جاہ کا فتنہ مال کے فتنے سے بھی بڑا ہے کیونکہ جاہ کے معنی ہیں شان و شوکت ، تکبر اور عزت اور یہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی صفات ہیں ۔ “ ( )مدنی گلدستہ
’’بقیع ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
مال و دولت اور عزت و شہرت کی خواہش انسان کے دِین کے لئے بہت زیادہ خطر ناک ہے ۔
(2) مال و دولت سے ناجائز محبت کرنے والا حلال و حرام میں امتیاز نہیں کرتا ۔
(3) حُبِّ جاہ اتنی بری شے ہے کہ اس کے فتنے میں مبتلا ہونے والا عزت کے حصول کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتا ہے چاہے اُسے مال خرچ کرنا پڑے یا کوئی غیر شرعی کام کرنا پڑ جائے ۔
(4) ریاکاری ایسا برا عمل ہے جو مرنے کے بعد بھی پیچھا نہیں چھوڑتا ، ریاکار کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ مرنے کے بعد بھی اس کے جنازے میں زیادہ لوگ ہوں تاکہ اس کی عزت ہو ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّمال و دولت اور عزت و شہرت کی طلب سے ہماری حفاظت فرمائے اور ہمیں آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 485