Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 474

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : تُوُفِّيَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِيْ بَيْتِيْ مِنْ شَيْءٍ يَاْكُلُهُ

ذُوْ كَبِدٍ اِلَّا شَطْرُ شَعِيْرٍ فِيْ رَفٍّ لِيْ ، فَاَكَلْتُ مِنْهُ حَتَّى طَالَ عَلَيَّ ، فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ. ( )

عن عائشة رضي الله عنها قالت : توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وما في بيتي من شيء ياكله

ذو كبد الا شطر شعير في رف لي ، فاكلت منه حتى طال علي ، فكلته ففني. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں : ”رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وصال ہوا تو میرے گھر میں کوئی ایسی چیز موجود نہ تھی جوکسی جاندار کی غذا بن سکے ، البتہ تھوڑے سے جَو میری طاق میں رکھے ہوئے تھے ، میں ایک عرصے تک انہیں کھاتی رہی پھرمیں نے ( ایک دن ) ان کا وزن کیاتو وہ ختم ہوگئے ۔ “

شرح حدیث

عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ” یہ حدیث پاک حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے انتہائی زہد کو ظاہر کررہی کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدنیا سے اس قدربے رغبت تھے کہ اس کی طرف دیکھتے بھی نہ تھے ، اسی لئے تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصالِ ظاہری کے وقت محبوبۂ محبوبِ خدا ، اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکا یہ حال تھا کہ ان کے پاس تھوڑے سے جَو کے علاوہ کوئی چیز نہ تھی حالانکہ حضورعَلَیْہِ السَّلَاموہ محترم ہستی ہیں کہ مشرق سے مغرب تک ساری دنیا آپ کی فرمانبردار ہے اور زمین کے خزانے سونا اور چاندی آپ کے پاس لائے گئے مگر آپ نے فقر کوپسند فرمایا ۔ “ ( )
¥
وزن کرنے پر جَوختم ہونے کی وجہ :عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ” حضرت عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے پاس غیرمعین مقدار میں جَو موجود تھے اور ان کا وزن معلوم نہ ہونے کی وجہ سے ان میں برکت تھی حضرت عائشہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاان کی کمی کی وجہ سے ہمیشہ یہ گمان کرتی تھیں کہ عنقریب یہ ختم ہوجائیں گے لیکن ان میں برکت ہوتی رہتی تھی پھر جب آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے اُن کا وزن کیا تو آپ نے جان لیا کہ یہ مزید کتنی مدت باقی رہیں گے پس جیسے ہی وہ مدت پوری ہوئی جَو ختم ہوگئے ۔ “ ( )عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ” جو برکت یہاں ظاہر ہوئی یہ خصوصاً

حضرت عائشہ صدیقہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے لیے نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی برکت سے ہوئی اور حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی برکت سے چیزوں میں برکت ہونا کئی اَحادیث سے ثابت ہے ۔ جیساکہ حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے لئے تھوڑی سی کھجوروں میں برکت کی دعاکی تو وہ سیدنا عثمانِ غنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی شہادت تک ان میں سے خود بھی کھاتے رہے دوسروں کو بھی کھلائیں اور کئی من کھجوریں راہِ خدا میں بھی خرچ کیں ۔ اسی طرح حضرتِ سَیِّدُنَا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک شخص کو کچھ کھجوریں عطا کیں ، وہ ، اس کے گھر والے اورمہمان ان کھجوروں میں سے کھاتے رہے مگر وہ ختم نہ ہوئیں ، پھر اس نے کھجوروں کا وزن کیا تو ختم ہوگئیں ۔ اس نے بارگاہِ رسالت میں ماجراعرض کیا توآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرمایا : ” اگر تم ان کا وزن نہ کرتے ہیں تو وہ تمہارے لیے بچی رہتیں ۔ “ ( )
¥
دو حدیثوں میں تطبیق :حدیثِ مذکور میں بیان ہواکہ وزن کرنے پر جَو اور کھجوریں ختم ہوگئں ، جبکہ ایک حدیث میں ہے کہ ”كِيلُوْا طَعَامَكُمْ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيْهِیعنی اپنے کھانے کا وزن کرو تمہارے لیے اس میں برکت ہوگی ۔ ‘‘ تو ان دونوں حدیثوں میں تطبیق کیسے ہوگی ؟عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِینے اس کے دو جواب دئیے ہیں : ( 1 ) جس حدیث پاک میں تولنے کا حکم ہے وہاں مراد ملکیت میں آتے وقت وزن کرنا ہے یعنی جب کوئی چیز خریدو تو وزن کرکے خریدو ۔ ( 2 ) یا تولنے سے مراد یہ ہے کہ جب کچھ خرچ کرنا ہو تو خرچ کرنے والی مقدارکا وزن کرلو تاکہ ضرورت سے کم یا زیادہ نہ ہو لیکن جو باقی بچ جائے اس کا وزن نہ کرو ۔ “ ( )مدنی گلدستہ
’’عائشہ ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)
حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی وفات کے بعد حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے پاس تھوڑے سے

جَو کے علاوہ کھانے کی کوئی چیز نہ تھی ۔
(2) حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو زمین کے خزانے عطا کیے گئے تھے ، آپ چاہتے تواپنے تمام متعلقین کو مال ودولت سے مالامال کردیتے لیکن آپ نے اپنے لئے بھی اور انکے لئے زُہد کوپسند فرمایا ۔
(3) حضور
عَلَیْہِ السَّلَامکی برکت سے تھوڑی سی چیز میں بھی بہت زیادہ برکت ہو جاتی ہے ۔
(4) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں اپنی چیزیں لایا کرتے اور ان پر برکت کی دعا کروایا کرتے تھے ۔
(5) کوئی چیز خریدتے یابیچتے وقت یا خرچ کرتے وقت اس کاوزن کرلیاجائے مگر خرچ کے بعد جو بچ جائے اس کا وزن نہ کیا جائے کہ اس سے برکت زائل ہونے کا اندیشہ ہے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 474