Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 489

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اُسَامَةَ بْنِ زَیْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قُمْتُ عَلٰی بَابِ الْجَنَّةِ فَكَانَ عَامَّةَ مَنْ دَخَلَهَا الْمَسَا كِيْنُ ، وَاَصْحَابُ الْجَدِّ مَحْبُوْسُوْنَ ، غَيْرَ اَنَّ اَصْحَابَ النَّارِ قَدْ اُمِرَ بِهِمْ اِلَى النَّارِ. ( )

عن اسامة بن زید رضي الله عنهما ، عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : قمت علی باب الجنة فكان عامة من دخلها المسا كين ، واصحاب الجد محبوسون ، غير ان اصحاب النار قد امر بهم الى النار. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا اُسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” میں جنت کے دروازے پرٹھہراتواکثر غریبوں کو جنت میں داخل ہوتے دیکھا جبکہ مالداروں کو روک دیا گیا ، البتہ جہنمیوں کو جہنم کی طرف لے جانے کا حکم دیا گیا ۔ “

شرح حدیث

فقیر کاحساب ہے نہ محاسبہ :مرقاۃ المفاتیح میں ہے : حدیثِ مذکور میں فقراء کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے یہ منظر معراج کی رات یا خواب میں یا حالت کشف میں ملاحظہ فرمایا ۔ نیز آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا کہ مالداروں کو یعنی مسلمانوں میں سے ارباب غنا اور امراء کو جنت میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ۔ خلاصہ یہ کہ قیامت کے دن ان لوگوں کو جنت میں جانے سے روک دیا گیا جنہوں نے فانی دنیا میں مال اور منصب حاصل کیا اور اپنے مال و جاہ کے ذریعے دنیا میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کی اور اپنے نفس کی خواہشات کو پورا کیا ، اگر ان لوگوں نے یہ چیزیں حلال طریقے سے حاصل کی ہوں گی تو انہیں ان کا حساب دینا ہوگا اور اگر حرام طریقے

سے حاصل کی ہوں گی تو ان کا محاسبہ کیا جائے گا اور فقیر لوگ ان دونوں چیزوں سے بری ہیں ، نہ ان کا حساب ہوگا نہ محاسبہ بلکہ فقراء دنیا میں جن نعمتوں سے محروم تھے آخرت میں ان نعمتوں کے عوض اغنیاء سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہونگے ۔ نیز حضور
عَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا کہ جہنمیوں کو جہنم کی طرف لے جانے کیا حکم دیا گیا یعنی کفار کو روکا نہ جائے گا بلکہ انہیں جہنم کی طرف روانہ کردیا جائے گا ۔ ( )مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ” خلاصہ یہ ہے کہ مالدار لوگ دو قسم کے ہیں : ایک جنتی ، دوسرے دوزخی ۔ جو مالدار دوزخی ہیں وہ تو دوزخ میں ٹھہرائے گئے جیسے قارون ، فرعون ، ابوجہل وغیرہ ۔ جو جنتی ہیں وہ حساب کے لیے روکے ہوئے ہیں ، رہے فقراء مسلمان وہ جنت میں بھیج دیئے گئے ۔ خیال رہے کہ مالدار جنتیوں سے مراد وہ مالدار ہیں جن کا حساب ہوناہے جن کا حساب ہی نہیں لیا جانا وہ جنت میں فورًا بھیج دیئے گئے ، جیسے حضرت سلیمانعَلَیْہِ السَّلَاماور حضرت عثمانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، یہ بھی خیال رہے کہ یہ چالیس سال مالداروں سے حساب میں صَرف نہ ہوں گے ربّ تعالیٰ سارے جہان کا حساب بہت تھوڑی دیر میں لے لے گا پھر ایک مالدار کے حساب میں چالیس سال کیسے خرچ ہوں گے بلکہ ان مالداروں کو حساب کے انتظار میں رکا رہنا پڑے گا جیسے مقدمہ کی تاریخ پر فریقین شام تک انتظارکرتے ہیں کہ کب بلاوا ہو ۔ “ ( )
¥
جنت میں داخل ہونے کا ایک سبب :علامہ مُہَلَّب مالکیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ” اِس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ جنت میں داخلے کا ایک بہت بڑا سبب تواضع اختیار کرنا ہے اور جنت سے بہت زیادہ دور کرنے والی چیز مال اورتکبر ہے ۔ مالداروں کو جنت میں جانے سے اس لیے روک لیا جائے گا کہ انہوں اپنے مال سے فقراء کے وہ حقوق ادا نہیں کیے ہوں گے جواللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان پر لازم کیے تھے ، پس انہیں حساب کے لیے روک دیا جائے گا ۔ اور جنہوں نے اپنے مال سے حقوقِ واجبہ اداکئے ہونگے انہیں جنت میں جانے سے نہ روکا جائے گا مگر ایسے لوگ

بہت کم ہیں کیونکہ مال کی کثرت
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حقوق کو ضائع کرواتی ہے ، مال آزمائش اور فتنہ ہے ۔ “ ( )مدنی گلدستہ
’’فرید ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
غریب بغیر حساب جنت میں داخل ہونگے جبکہ مالداروں کو حساب کے لیے روک لیا جائے گا ۔
(2) مالداروں نے جوکچھ حلال طریقے سے کمایا اس کا حساب ہو دینا گااورجوحرام طریقے سے کمایا اس پر پکڑ ہوگی ۔
(3) تواضع اختیار کرنا دخولِ جنت کا سب سے قریبی راستہ ہے جبکہ مال وتکبر جنت سے دوری کاسبب ہیں ۔
(4) جن مالداروں نے حقوق واجبہ کی ادائیگی کی ہوگی وہ جنت میں جانے سے نہیں روکے جائیں گے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں حساب و کتاب سے محفوظ فرماکر فقراء کے ساتھ جنت میں داخلہ عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 489