Main Icon

باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 954

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ قَالَ:جَاءَتْ اِمرَاَةٌ اِلَى رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ الرِّجالُ بِحَديْثِكَ فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِكَ يَوْمًا نَاْتِيْكَ فِيْهِ تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللہُ قَالَ : اجْتَمِعْنَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا فَاجْتَمَعْنَ فَاَتَاهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللہُ ثُمَّ قَالَ : مَا مِنْكُنَّ مِنْ اِمْرَاَةٍ تُقَدِّمُ ثَلاثَةً مّنَ الْوَلَدِ اِلَّا كَانُوْا لَهَا حِجَابًا مِّنَ النَّارِ فَقَالَتِ امْرَاَةٌ:وَاثْنَيْنِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:وَاثْنَيْنِ.

عن ابي سعيد الخدري رضي اللہ عنه قال:جاءت امراة الى رسول الله صلى اللہ عليه وسلم فقالت: يا رسول الله ذهب الرجال بحديثك فاجعل لنا من نفسك يوما ناتيك فيه تعلمنا مما علمك اللہ قال : اجتمعن يوم كذا وكذا فاجتمعن فاتاهن النبي صلى الله عليه وسلم فعلمهن مما علمه اللہ ثم قال : ما منكن من امراة تقدم ثلاثة من الولد الا كانوا لها حجابا من النار فقالت امراة:واثنين؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:واثنين.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خُدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”ایک عورت نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوئی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مَرد آپ کی اَحادیث لے گئے، آپ ہمارے لیے بھی کوئی دن مقرر فرمادیجئے جس میں آپ ہمیں وہ سکھائیں جواللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے آپ کو سکھایا ہے۔ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”فلاں دن جمع ہوجانا۔“ پس عورتیں جمع ہوگئیں۔حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُن کے پاس تشریف لائے اور انہیں وہ سکھایا جواللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو سکھایا پھر فرمایا: ”تم میں سے جس عورت نے بھی تین بچے آگے بھیجے (یعنی فوت ہوگئے) تو وہ اُس عورت کے لیے جہنم سے آڑ بن جائیں گے۔“ ایک عورت نے عرض کی:اوردو؟ فرمایا: ”اور دوبھی۔‘‘(یعنی دو بچے بھی اُس عورت کے لیے جہنم سے آڑ بن جائیں گے۔)

شرح حدیث

کُن کی کنجی:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحدیث کے الفاظ (مَردآپ کی احادیث لے گئے)کے تحت فرماتے ہیں:یعنی مَردوں نے آپ کا فیضِ صحبت بہت حاصل کیا ہر وقت آپ کی اَحادیث سنتے رہتے ہیں ہم کو حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضری کا اتنا موقع نہیں ملتا مہینہ میں یا ہفتہ میں ایک دن ہم کوبھی عطا فرمائیں کہ اس میں صرف ہم کو وعظ فرمایاکریں۔اس سے معلوم ہوا کہ تبلیغ وغیرہ کے لئے دن مقررکرنا بالکل جائز بلکہ سنت ہے۔(تین بچے آگے بھیجے)آگے بھیجنے سے مراد یہ ہے کہ ماں کی زندگی میں بچے فوت ہوں اور وہ اُن پر صبرکرے،یہ مطلب نہیں کہ انہیں ہلاک کردے۔ (حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”اور دوبھی۔“)معلوم ہوا کہ حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمرحمتِ الٰہی کے بااختیارقاسم ہیں اورحضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی زبان مبارک کُنْ کی کنجی ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے یہ نہ فرمایا کہ مجھے تو رب تعالیٰ نے تین بچے فوت ہونے کے متعلق فرمایا تھا اچھا اب جب جبریل آئیں گے تو اُن کے ذریعہ رب سے پوچھوا لیں گے بلکہ خود ہی یہ جواب دے دیا۔حدیث سے حاصل ہونے والے فوائد و مسائل:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیاس حدیث سے حاصل ہونے والے فوائد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:(1)عورتوں کو دینی معاملات کے بارے میں مَردوں سے (پردے میں رہتے ہوئے) بات چیت کرنا جائز ہے۔(2) وعدہ کرنا جائز ہے۔(3)جس عورت کا بچہ مرجائے اس کے لیے اجر ہے۔(4) حضرت مہلبرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمانوں کے فوت شدہ چھوٹے بچے جنت میں جائیں گے کیونکہ جب اُن کے فوت ہونے پراللّٰہ عَزَّوَجَلَّاپنے فضل سے اُن کے والدین کو جنت میں داخل فرمائے گا تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خود وہ بچے جنت میں نہ جائیں وہ تو بدرجہ اَولیٰ جنت میں جائیں گے۔(5) اس بات پر اِجماع ہے کہ انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامکی نابالغ اولاد جنت میں ہی جائے گی۔مدنی گلدستہ’’طیبہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) کسی بھی نیک یا جائز کام کیلیے دن مقرر کرنا جائز ہے۔
(2) عورتوں کو دینی معاملات میں علماء و مفتیانِ کرام سے پردے میں رہتے ہوئے کلام کرنا جائز ہے۔
(3) جس کا بچہ گم ہوجائے،کبھی نہ ملے رحمتِ الٰہی سےامید ہے کہ اس کے لیے بھی یہی بشارت ہو۔
(4) مسلمانوں کے فوت شدہ نابالغ بچے جنت میں جائیں گے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہماری بلاحساب مغفرت فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 954