Main Icon

باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 959

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ اَبِيْهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ، وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ، وَالثَّلَاثَةُ رَكْبٌ.

عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده رضی اللہ عنہ قال، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الراكب شيطان، والراكبان شيطانان، والثلاثة ركب.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا عَمرو بن شعیب اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادارَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمْسے روایت کرتے ہیں کہرسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”ایک سوار ایک شیطان ہے اور دو سوار دو شیطان ہیں اور تین سوار قافلہ ہیں۔“

شرح حدیث

سفر میں کم از کم تین افراد ہوں:حدیثِ مذکورمیں اِس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ سفر پر جاتے ہوئے کم از کم تین اَفراد کا قافلہ ضرور ہو تاکہ مشکلات میں ایک دوسرے کی مدد کرسکیں، صِرف ایک یا دو کا سفر پر جانا مناسب نہیں۔شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”ایک سوار اور دو سواروں کو سفر سے منع فرمایا کیونکہ ایک سے جماعت فوت ہو جائے گی اور دو اَفراد کے لیے وقت بسر کرنا مشکل ہو جائے گا، دو افراد میں سے اگر ایک فوت ہو جائے یا بیمار ہو جائے تو دوسرا ساتھی بےبس اور مجبور ہو جائے گا اور شیطان خوش ہوگا، مطلب یہ ہے کہ ان کے ساتھ شیطان ہے جو انہیں شر کا حکم دیتا ہے اس لیے بطورِمبالغہ خود انہیں شیطان فرمادیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سفر میں تین افراد کا ہونا ضروری ہے اور یہ جماعت کی کم از کم تعداد ہے نیز اگر ایک فرد کسی کام سے چلا جائے تو باقی دو ایک دوسرے سے اُنس حاصل کریں گے (اور بور نہیں ہوں گے) اور اگر کام کرنے میں تاخیر ہو جائے تو دوسرا تحقیق حال اور خبر کے لیے چلا جائے گا اور سامان تنہا نہیں رہے گا۔“مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”جنگل میں اکیلا مُسافر آفات کے نرغہ میں ہوتا ہے، نمازِ باجماعت سے محروم ہے، ضرورت کے وقت اسے مددگار کوئی نہ ملے گا، بلاؤں آفتوں کے خطرے میں ہے خصوصًا اُس زمانۂ پاک میں جب کہ راستے پُر خطر تھے اب اِس امن کے زمانہ میں بھی ریل کے ڈبے میں اکیلے سفرکرنے والے چلتی ٹرین میں لُٹ گئے،سرکار کے فرمان ہمیشہ ہی مفید ہیں۔ دو مسافر بھی آفات کے خطرے میں ہیں کہ اگر ایک بیمار ہوجائے تو دوسرا بے یارومددگار رہ جائے۔(اورتین سوار قافلہ ہیں)اِس فرمانِ عالی میں بھی بڑی حکمتیں ہیں سفر میں کسی کی رضا قضا واقع ہوجائے تو باقی اور دو آسانی سے اُسے سنبھال سکتے ہیں۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 959