- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 6
حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہماسےمَروی ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”اگر لوگ تنہا سفر کرنے کے نقصانات کے بارے میں وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو کوئی سوار رات کو تنہا سفر نہ کرتا۔“
عَنْ اِبْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ اَنَّ النَّاسَ يَعْلَمُوْنَ مِنَ الْوَحْدَةِ مَا اَعْلَمُ، مَا سَارَ رَاكِبٌ بِلَيْلٍ وَحْدَهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 958 ، باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
حضرت سَیِّدُنَا عَمرو بن شعیب اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادارَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمْسے روایت کرتے ہیں کہرسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”ایک سوار ایک شیطان ہے اور دو سوار دو شیطان ہیں اور تین سوار قافلہ ہیں۔“
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ اَبِيْهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ، وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ، وَالثَّلَاثَةُ رَكْبٌ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 959 ، باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابو سعید اور حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ”جب تین اَفراد سفر کے لیے روانہ ہوں تو انہیں چاہیے کہ ایک کو اپنا امیر بنالیں۔“
عَنْ اَبِيْ سَعِيْدٍ وَ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَا: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِذَا خَرَجَ ثَلَاثَةٌ فِیْ سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوْا اَحَدَهُمْ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 960 ، باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”بہترین ساتھی چارافراد ہیں اور بہترین سَرِیّہ (فوجی دستہ) وہ ہے جس میں چار سو افرادہوں،بہترین لشکر وہ ہے جو چار ہزار افراد پرمشتمل ہو اور بارہ ہزار کا لشکر کبھی کم ہونے کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوتا۔“
عَنِ ابْنِ عَبّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَيْرُ الصَّحَابَةِ اَرْبَعَةٌ، وَخَيْرُ السَّرَايَا اَرْبَعُمِائَةٍ، وَخَيْرُ الْجُيُوْشِ اَرْبَعَةُ اٰلَافٍ، وَلَنْ يُغْلَبَ اِثْنَا عَشَرَ اَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 961 ، باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان