Main Icon

باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 741

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ سَلَمَةَ بنِ الْاَ كْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْه اَنَّ رَجُلاً اَكَلَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بِشِمالِه فَقالَ: كُلْ بِيَمِينِكَ، قَالَ: لَااَسْتَطِيعُ قالَ: لَا اسْتَطَعْتَ، مَا مَنَعَهُ اِلَّا الْكِبْرُ، فَمَا رَفَعَهَا اِلَی فِيْهِ.

عن سلمة بن الا كوع رضي الله عنه ان رجلا اكل عند رسول الله صلى الله عليه وسلم بشماله فقال: كل بيمينك، قال: لااستطيع قال: لا استطعت، ما منعه الا الكبر، فما رفعها الی فيه.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا سلمہ بن اَکْوَعرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےکہ ایک شخص نےرسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی موجودگی میں اُلٹے ہاتھ سےکھانا کھایا توآپصَلَّی اللّٰہ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا:’’ سیدھے ہاتھ سے کھاؤ۔‘‘ اُس نے کہا:’’میں اِس کی طاقت نہیں رکھتا۔‘‘ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :’’تو کبھی طاقت نہ رکھے۔‘‘(راوی فرماتے ہیں کہ ) اُسے (حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکاحکم ماننے سے ) تکبر نے منع کیاتھا۔پھر وہ کبھی اپنا سیدھا ہاتھ منہ کی طرف نہ اُٹھا سکا۔

شرح حدیث

اُلٹے ہاتھ سے کھانے کی وجہ:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمفتی اَحمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:’’ زمانۂ جاہلیت میں سردار لوگ اُلٹے ہاتھ سے کھاتے تھے،معمولی آدمی داہنے ہاتھ سے۔یہ شخص کوئی سردار تھا جو اس متکبرانہ عادت سے الٹے ہاتھ سے کھارہا تھا۔ اس نے شرمندگی مٹانے کے ‏لئے کہا کہ میرا داہنا ہاتھ بیمار ہے منہ تک نہیں پہنچتا۔اِسی پر یہ جواب اِرشاد ہوا یعنی اب تک تو منہ تک آتا تھا اب نہ آسکے گا۔معلوم ہوا کہ لوگوں کے اَعضا بھی حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے زیرِ فرمان ہیں، وہ شخص علاج کرتے کرتے تھک گیا مگر اس کا ہاتھ منہ تک نہ اُٹھ سکا۔‘‘رسولُاللّٰہنےدعا ئے ضَرَ ر کیوں فرمائی؟عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْبَارِیفرماتے ہیں:’’اس شخص کے ‏لئے سرکارِ دوعالَم، نورِمُجَسَّمصَلَّی اللّٰہ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےاِس ‏لئے دعا ئے ضرر فرمائی کہ اُس نے اپنا جھوٹاعذر بیان کیااور تکبر کی وجہ سے حق بات سے رُک گیا یعنی بغیر کسی مجبوری کے سیدھے ہاتھ سے کھانا نہیں کھایا ۔علامہ طیبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”مَا مَنَعَهُ اِلاَّ الكِبْرُیعنی اُسے تکبر نے روک دیا تھا۔‘‘یہ راوی کا قول ہے اوریہ اس ‏لئے بیان کیاہےتاکہ رحمت عالَم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دُعا ئے ضررکرنے کی وجہ معلوم ہوجائے کیونکہ ہو سکتاہے کہ کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتورحمۃٌ لِّلْعَالَمِینہیں، پھر آپ کسی کےلئے دعائے ضرر کیسے کرسکتے ہیں؟تو اس کا جواب یہ ہو گا کہ آپ نے یہ دعااس لئے کی کہ اس نے تکبر کی بنا پر دائیں ہاتھ سےکھانا نہ کھایا اگر وہ کسی مجبوری کی وجہ سے اس حکم پر عمل نہ کرتا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکبھی بھی اس کے لئے دعائے ضرر نہ فرماتے۔‘‘اُلٹے ہاتھ سے کھانا کھانا:رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا:” کوئی شخص اُلٹے ہاتھ سے ہرگز نہ کھائے پئے کیوں کہ اُلٹے ہاتھ سے شیطان کھاتا پیتا ہے۔“الٹے ہاتھ سے کھانا اُس وقت ممنوع ہے جب سیدھا ہاتھ صحیح وسالَم ہو۔اگر سیدھے ہاتھ میں کوئی تکلیف ہو تو اُلٹےہاتھ سے کھانے میں کوئی کراہیت نہیں۔
نوٹ:مزید شرح کے لئے فیضانِ ریاض الصالحین، جلد2،باب:16،حدیث نمبر159 کا مطالعہ کیجئے۔
مدنی گلدستہ’’عاجزی ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جب بھی کھانا کھائیں
بِسْمِ اﷲپڑھ کر، سیدھے ہاتھ سے اور اپنے سامنے سے کھائیں۔
(2) حسب موقع اپنے متعلقین کی اصلا ح کرتے رہنا چاہئے کہ اس سے معاشرے کی اصلاح ہوتی ہے۔
(3) جہاں تک ہوسکے بزرگوں کے حکم کی فوراً تعمیل کریں کہ ان کی نافرمانی میں سراسر نقصان ہے۔
(4) تکبر بہت بری صفت ہے،متکبر آدمی دنیا وآخرت میں نقصان اٹھاتا ہے۔
(5)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے نبیوں بالخصوص امام الانبیاءصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دعا ہر وقت مقبول ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں سنت کے مطابق کھانا کھانے کی توفیق عطافرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 741