Main Icon

نیک لوگوں کی زیارت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 368

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ.
وَفِيْ رِوَايَةٍ : قِيْلَ لِلنَّبِيِِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَلرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ؟ قَالَ : اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ. ( )

عن ابي موسى الاشعري رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال : المرء مع من احب.
وفي رواية : قيل للنبي صلى الله عليه وسلم : الرجل يحب القوم ولما يلحق بهم؟ قال : المرء مع من احب. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسیٰ اشعریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولِ اَکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے ۔ ‘‘
ایک روایت میں ہے کہ
سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پوچھا گیا کہ ایک آدمی ایک قوم سے محبت رکھتا ہے لیکن وہ ابھی تک ان سے ملا نہیں ۔ تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے ۔ ‘‘

شرح حدیث

اولیاء سے محبت کرنے کی فضیلت :مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ ایک شخص نے حضورعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامسے عرض کیا کہ ایک آدمی ایک قوم سے محبت رکھتا ہے لیکن وہ ان سے ملا نہیں ۔ یعنی نہ ان کی صحبت میں بیٹھ سکا ، نہ ان جیسے اعمال کیے ، نہ ان جیسا علم حاصل کیا اور نہ انہیں دیکھ سکا تو ایسے شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے یعنی اس کا حشر اس کے محبوب کے ساتھ ہوگا اور اسے اپنے پسندیدہ لوگوں کی رفاقت و معیت نصیب ہوگی ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے :
وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىٕكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَۚ-(پ۵ ،النساء: ۶۹ )ترجمۂ کنزالایمان: اور جواللہاور اس کے رسول کا حکم مانے تو اُسے ان کا ساتھ ملے گا جن پراللہنے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ ۔ ( )
شیخ عبدالحق محدث دہلوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضور نبی پاک ، صاحب لَولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمان : ” آدمی اُسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے ۔ “ ان لوگوں کے لیے خوشخبری ہے جو صالحین ، علماء ، متقین اور اولیاء کے ساتھ محبت رکھتے ہیں ۔ امید ہے کہ یہ انہی لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے ۔ ‘‘ ( ) نیزعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’حدیث پاک کا ظاہر عموم پر دلالت کرتا ہے کہ ہر شخص کا حشر اس کے محبوب کے ساتھ ہوگا ۔ یعنی نیک لوگوں سے محبت کرنے والے کا نیکوں اور فاسق وبدکار لوگوں سے محبت کرنے والے کا فاسقوں کے ساتھ ۔ اس کی تائید یہ حدیث پاک بھی کرتی ہے کہ : ” آدمی اپنے دوست کے دِین پر ہوتا ہے ۔ “ تو اِس حدیث پاک میں علماء صلحاء اور بزرگانِ دِین کے ساتھ محبت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور فاسق و بدعقیدہ لوگوں سے محبت رکھنے والوں کے لیے اس میں تنبیہ و وعید ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
محبت کی دو صورتیں :مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ آدمی جس سے محبت کرتا ہے اسی کے ساتھ ہوگا ۔ محبت کی دو صورتیں ہیں : ( 1 ) بندے کااللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت کرنا ۔ ( 2 ) بندے کااللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے نیک بندوں سے محبت کرنا ۔عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں : ’’ ( 1 ) بندے کیاللہ عَزَّوَجَلَّسے محبت کی علامت یہ ہے کہ بندہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کرے ، ان کے طریقے پر چلے اور ان کی سنت کی اقتدا کرے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے :
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ۳ ،آل عمران: ۳۱ )ترجمۂ کنزالایمان: اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تماللہکو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤاللہتمہیں دوست رکھے گا ۔
( 2 ) جو شخص
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے کسی نیک بندے سے محبت کرے تواللہ عَزَّ وَجَلَّان دونوں کو جنت میں جمع فرمادے گا اگرچہ اس کے عمل میں تقصیر ( کمی ) ہو کیونکہ جب بندہ صالحین سے اس لیے محبت رکھے کہ وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت کرتے ہیں تواللہ عَزَّ وَجَلَّایسے شخص کو اُس کی اچھی نیت کی بنا پر انہی جیسا ثواب عطا فرماتا ہے کیونکہ محبت دل کا عمل ہے اور اس کا تعلق نیت سے ہے اور نیت ہی تمام اَعمال کی اصل ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے فضل سے جس کو چاہے عطا فرماتا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
صالحین کی معیت سے کیا مرادہے ؟عَلَّامَہ اَبُوزَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ان روایات میںاللہ عَزَّ وَجَلَّاور رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور صالحین و اہل خیر سے محبت رکھنے کی فضیلت معلوم ہوتی ہے خواہ وہ حیات ہوں یا نہ ہوں اوراللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کا افضل درجہ یہ ہے کہ ان کے اوامر یعنی جن باتوں پر عمل کرنے کا انہوں نے حکم دیا ہے ان پر عمل کیا جائے اور نواہی یعنی جن باتوں سے بچنے کا حکم دیا ہے ان سے اجتناب کیا جائے اور مستحباتِ شرعیہ پر عمل کیا جائے ۔ نیز صالحین کی محبت کے نفع مند ہونے کے لیے ان جیسے اعمال کرنا شرط نہیں بلکہ ان جیسے اعمال نہ ہونے کے باوجود بھی ان کی معیت نصیب ہوگی ۔ ‘‘ ( ) ’’لیکن ان کی معیت نصیب ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ تمام اشیاء یعنی مقام و مرتبے اور درجات میں صالحین کے مساوی ہو بلکہ معیت تو محض دخولِ جنت ہی سے نصیب ہوگئی اگرچہ دونوں کے درجات میں تفاوت پایا جائے کیونکہ درجات کی بلندی کا دارو مدار تو اَعمالِ صالحہ پر ہے ۔ ‘‘ ( )
مدنی گلدستہ
’’ مُلْتَزَمْ ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)
نیک لوگوں سے محبت کرنے والا حشر میں نیکوں کے ساتھ ، بُرے اور بد عقیدہ لوگوں سے محبت کرنے والا بُرے لوگوں کے ساتھ ہوگا ۔
(2) صالحین سے محبت کرنے والے کو حسنِ نیت کی وجہ سے صالحین کی مثل ثواب دیا جاتا ہے ۔
(3)
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت کرنے کی علامت یہ ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کی جائے ، آپ کی اطاعت کی جائے اور آپ کی سنت پر عمل کیا جائے ۔
(4) صالحین کی محبت کے نفع مند ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ بعینہٖ ان جیسے سارے اعمال کیے جائیں بلکہ اعمال میں تقصیر ہونے کے باوجود بھی صالحین کی معیت نصیب ہوگی ۔
(5) صالحین کی معیت ملنے سے یہ مراد نہیں کہ بندے کو جنت میں ان جیسا درجہ اور مقام عطا ہو بلکہ اس سے مراد ان کے ساتھ جنت میں داخل ہونا اور ان کا قرب نصیب ہونا ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک لوگوں سے محبت و عقیدت رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور قیامت کے دن ہمارا حشر صدیقین و صالحین کے ساتھ فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 368