- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- حدیث نمبر 368
نیک لوگوں کی زیارت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 368
جلد 4
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ.
وَفِيْ رِوَايَةٍ : قِيْلَ لِلنَّبِيِِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَلرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ؟ قَالَ : اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ. ( )
عن ابي موسى الاشعري رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال : المرء مع من احب.
وفي رواية : قيل للنبي صلى الله عليه وسلم : الرجل يحب القوم ولما يلحق بهم؟ قال : المرء مع من احب. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسیٰ اشعریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولِ اَکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے ۔ ‘‘
ایک روایت میں ہے کہسیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پوچھا گیا کہ ایک آدمی ایک قوم سے محبت رکھتا ہے لیکن وہ ابھی تک ان سے ملا نہیں ۔ تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے ۔ ‘‘
شرح حدیث
اولیاء سے محبت کرنے کی فضیلت :مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ ایک شخص نے حضورعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامسے عرض کیا کہ ایک آدمی ایک قوم سے محبت رکھتا ہے لیکن وہ ان سے ملا نہیں ۔ یعنی نہ ان کی صحبت میں بیٹھ سکا ، نہ ان جیسے اعمال کیے ، نہ ان جیسا علم حاصل کیا اور نہ انہیں دیکھ سکا تو ایسے شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے یعنی اس کا حشر اس کے محبوب کے ساتھ ہوگا اور اسے اپنے پسندیدہ لوگوں کی رفاقت و معیت نصیب ہوگی ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے :
وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىٕكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَۚ-(پ۵ ،النساء: ۶۹ )ترجمۂ کنزالایمان: اور جواللہاور اس کے رسول کا حکم مانے تو اُسے ان کا ساتھ ملے گا جن پراللہنے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ ۔ ( )
شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضور نبی پاک ، صاحب لَولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمان : ” آدمی اُسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے ۔ “ ان لوگوں کے لیے خوشخبری ہے جو صالحین ، علماء ، متقین اور اولیاء کے ساتھ محبت رکھتے ہیں ۔ امید ہے کہ یہ انہی لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے ۔ ‘‘ ( ) نیزعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’حدیث پاک کا ظاہر عموم پر دلالت کرتا ہے کہ ہر شخص کا حشر اس کے محبوب کے ساتھ ہوگا ۔ یعنی نیک لوگوں سے محبت کرنے والے کا نیکوں اور فاسق وبدکار لوگوں سے محبت کرنے والے کا فاسقوں کے ساتھ ۔ اس کی تائید یہ حدیث پاک بھی کرتی ہے کہ : ” آدمی اپنے دوست کے دِین پر ہوتا ہے ۔ “ تو اِس حدیث پاک میں علماء صلحاء اور بزرگانِ دِین کے ساتھ محبت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور فاسق و بدعقیدہ لوگوں سے محبت رکھنے والوں کے لیے اس میں تنبیہ و وعید ہے ۔ ‘‘ ( )
¥محبت کی دو صورتیں :مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ آدمی جس سے محبت کرتا ہے اسی کے ساتھ ہوگا ۔ محبت کی دو صورتیں ہیں : ( 1 ) بندے کااللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت کرنا ۔ ( 2 ) بندے کااللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے نیک بندوں سے محبت کرنا ۔عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں : ’’ ( 1 ) بندے کیاللہ عَزَّوَجَلَّسے محبت کی علامت یہ ہے کہ بندہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کرے ، ان کے طریقے پر چلے اور ان کی سنت کی اقتدا کرے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے :
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ۳ ،آل عمران: ۳۱ )ترجمۂ کنزالایمان: اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تماللہکو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤاللہتمہیں دوست رکھے گا ۔
( 2 ) جو شخصاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے کسی نیک بندے سے محبت کرے تواللہ عَزَّ وَجَلَّان دونوں کو جنت میں جمع فرمادے گا اگرچہ اس کے عمل میں تقصیر ( کمی ) ہو کیونکہ جب بندہ صالحین سے اس لیے محبت رکھے کہ وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت کرتے ہیں تواللہ عَزَّ وَجَلَّایسے شخص کو اُس کی اچھی نیت کی بنا پر انہی جیسا ثواب عطا فرماتا ہے کیونکہ محبت دل کا عمل ہے اور اس کا تعلق نیت سے ہے اور نیت ہی تمام اَعمال کی اصل ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے فضل سے جس کو چاہے عطا فرماتا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥صالحین کی معیت سے کیا مرادہے ؟عَلَّامَہ اَبُوزَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ان روایات میںاللہ عَزَّ وَجَلَّاور رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور صالحین و اہل خیر سے محبت رکھنے کی فضیلت معلوم ہوتی ہے خواہ وہ حیات ہوں یا نہ ہوں اوراللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کا افضل درجہ یہ ہے کہ ان کے اوامر یعنی جن باتوں پر عمل کرنے کا انہوں نے حکم دیا ہے ان پر عمل کیا جائے اور نواہی یعنی جن باتوں سے بچنے کا حکم دیا ہے ان سے اجتناب کیا جائے اور مستحباتِ شرعیہ پر عمل کیا جائے ۔ نیز صالحین کی محبت کے نفع مند ہونے کے لیے ان جیسے اعمال کرنا شرط نہیں بلکہ ان جیسے اعمال نہ ہونے کے باوجود بھی ان کی معیت نصیب ہوگی ۔ ‘‘ ( ) ’’لیکن ان کی معیت نصیب ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ تمام اشیاء یعنی مقام و مرتبے اور درجات میں صالحین کے مساوی ہو بلکہ معیت تو محض دخولِ جنت ہی سے نصیب ہوگئی اگرچہ دونوں کے درجات میں تفاوت پایا جائے کیونکہ درجات کی بلندی کا دارو مدار تو اَعمالِ صالحہ پر ہے ۔ ‘‘ ( )
مدنی گلدستہ
’’ مُلْتَزَمْ ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)نیک لوگوں سے محبت کرنے والا حشر میں نیکوں کے ساتھ ، بُرے اور بد عقیدہ لوگوں سے محبت کرنے والا بُرے لوگوں کے ساتھ ہوگا ۔
(2) صالحین سے محبت کرنے والے کو حسنِ نیت کی وجہ سے صالحین کی مثل ثواب دیا جاتا ہے ۔
(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت کرنے کی علامت یہ ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کی جائے ، آپ کی اطاعت کی جائے اور آپ کی سنت پر عمل کیا جائے ۔
(4) صالحین کی محبت کے نفع مند ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ بعینہٖ ان جیسے سارے اعمال کیے جائیں بلکہ اعمال میں تقصیر ہونے کے باوجود بھی صالحین کی معیت نصیب ہوگی ۔
(5) صالحین کی معیت ملنے سے یہ مراد نہیں کہ بندے کو جنت میں ان جیسا درجہ اور مقام عطا ہو بلکہ اس سے مراد ان کے ساتھ جنت میں داخل ہونا اور ان کا قرب نصیب ہونا ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک لوگوں سے محبت و عقیدت رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور قیامت کے دن ہمارا حشر صدیقین و صالحین کے ساتھ فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 368