- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- حدیث نمبر 366
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا تُصَاحِبْ اِلَّا مُؤْمِنًا وَلَا يَاْكُلْ طَعَامَكَ اِلَّا تَقِيٌّ. ( )
عن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : لا تصاحب الا مؤمنا ولا ياكل طعامك الا تقي. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خُدْرِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’مؤمن کے سوا کسی کو دوست نہ بناؤ اور پرہیزگار کے علاوہ تیرا کھانا کوئی نہ کھائے ۔ ‘‘
شرح حدیث
مؤمن سے کون مراد ہے ؟مذکورہ حدیث پاک کے دو جز ہیں ۔ پہلے جز میں مؤمن ہی کو دوست بنانے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ دوسرے جز میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ تمہاری کمائی متقی و پرہیزگار لوگوں پر ہی خرچ ہونی چاہیے اور تمہارا کھانا پرہیزگار ہی کھائیں ۔ مؤمن ہی کو دوست بنانے کے حوالے سےعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’یہاں مؤمن سے مراد یا تو خاص کامل مؤمن ہے جو فاسق کے مقابلے میں بولاجاتا ہے یعنی کامل مسلمان ہی کو اپنا ہم نشیں بناؤ اور گناہ گار و فاسق لوگوں سے کنارہ کش رہو یا مؤمن سے مراد عام مسلمان ہے جو کفار و منافقین کے مقابلے میں بولاجاتا ہے یعنی اپنی رفاقت مسلمانوں ہی کے ساتھ رکھو اور کفار و منافقین کی دوستی سے بچو کیونکہ اُن کی مصاحبت دِین میں نقصان کا سبب ہے ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’مؤمن ہی کو دوست بنانے کے حکم میں اس بات کی دلیل ہے کہ حضور نبی پاک ، صاحب لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کفار سے میل جول ، الفت و محبت اور رفاقت و مُصَاحَبَت رکھنے سے منع فرمایا ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے :لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ(پ۲۸ ،المجادلۃ: ۲۲ )ترجمۂ کنزالایمان: تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیںاللہاور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نےاللہ
اور اس کے رسول سے مخالفت کی ۔ ( )
¥بدمذہبوں سے اِختلاط جائزنہیں :صَدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِیاس آیت کے تحت فرماتے ہیں : ’’ یعنی مؤمنین سے یہ ہوہی نہیں سکتا اور ان کی یہ شان ہی نہیں اور ایمان اس کو گوارا ہی نہیں کرتا کہ خدا اور رسول کے دشمن سے دوستی کرے ۔ مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ بددینوں اور بدمذہبوں اور خداو رسول کی شان میں گستاخی اور بے ادبی کرنے والوں سے مَوَدَّت و اختلاط جائز نہیں ۔ ‘‘ ( )
¥مخلص مومن کی صحبت کی فضیلت :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حدیث پاک میں نیک متقی وپرہیزگار لوگوں کی رفاقت و ہم نشینی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے کہ ان کی صحبت کے طفیلاللہ عَزَّ وَجَلَّعام مسلمانوں پر بھی رحم و کرم فرماتا ہے ۔ اگر ہم دنیا میں نیک لوگوں سے اُلفت و محبت کا رشتہ قائم کریں گے تواللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے امید ہے کہ وہ آخرت میں ہمارا حشر ان کے ساتھ فرمائے گا ۔مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ا گرچہ محب کے اعمال محبوب جیسے نہ ہوں مگر محبت کی بنا پراللہتعالیٰ اسے محبوب سے جدا نہ کرے گا ، پھول کے ساتھ گھاس بندھ جاوے تو گلدستہ میں اس کی بھی عزت ہوجاتی ہے ، اگر کسی گنہگار کو حضور احمد مختارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت نصیب ہوجاوے تواِنْ شَآءَاللہحضور ہی کے ساتھ ہوا ۔ ( لہٰذا ) مخلص مومنوں کی خصوصًا ان کی کہ جو تم کواپنی صحبت میں کامل مکمل کردے ، تم کواللہرسول کے رنگ میں رنگ دے ان کی ہمراہی ان کے ساتھ رہنا ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اختیار کرو ۔ ‘‘ ( )
¥متقی کو کھانا کھلانے کے دومعنٰی :مذکورہ حدیث پاک کے دوسرے جز میں اس بات کا بیان ہے کہ تمہارا کھانا متقی کے علاوہ کوئی نہ
کھائے ۔ حدیث پاک کے اس جملے کے دو معنیٰ ہو سکتے ہیں : ( 1 ) روزی حلال ذریعے سے حاصل کرو تاکہ نیک و پرہیزگار مسلمانوں کے کھانے کے قابل ہو ۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’یعنی تو حرام روزی کمانے سے اعراض کر کہ متقی حرام نہیں کھاتے اور ایسی کمائی سے بچ جس سے پرہیزگار لوگ متنفر ہوتے ہیں ۔ حاصل کلام یہ ہے کہ تو کسب حلال کر تاکہ مطیع و فرمانبردار لوگ ہی تیرے صاحب و خلیل ہوں ۔ ( ) ( 2 ) حضورنبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرمان کا دوسرا معنی یہ ہے کہ تم اپنا مال نیک لوگوں ہی پر خرچ کرو اور پرہیزگاروں ہی کو کھانا کھلاؤ ۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یہ فرمان بہت جامع ہے یعنی روزی حلال کماؤ تاکہ نیک لوگوں کے لائق بنو اور کوشش کرو کہ تمہاری روزی کفار و فساق منافقین نہ کھائیں ،اللہکے مقبول بندے کھائیں ، جو کھا کر نماز پڑھیں عبادات کریں اور ان کے ثواب میں تمہارا بھی حصہ ہو ۔ تم کو دعائیں دیں تو تمہارا بھلا ہو جائے ۔ اس كھانا دانے کی وجہ سے انہیں تم سے محبت ، اُلفت ہوجاوے ، یہ اُلفت خدا رسی کا ذریعہ بنے ۔ کھانے میں کپڑا اور دوسرے خرچ بھی داخل ہیں ( ليكن ) اب تو مسلمانوں کی کمائی میراثی ، بھانڈ ، قوال کھاتے ہیں یا پھر حاکم حکیم وکیلوں کے ہاتھ لگتی ہے ۔اللہتعالیٰ نیک توفیق دے ، اس حدیث کو ہمارے لیے مشعل راہ بنائے ، ہماری کمائی میں علماء صالحین طلباء کا حصہ ہو ، حج و زیارت میں خرچ ہو ، ایسی جگہ خرچ ہو جہاں خرچ سےاللہرسول خوش ہوجاویں ۔ ‘‘ ( )
¥کیا کافر کو کھانا کھلاناجائزہے ؟میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حدیث پاک میں فرمایا گیا ہے کہ : ” تمہارا کھانا پرہیزگاروں کے سوا کوئی نہ کھائے ۔ “ یاد رکھیں اس سے مراد وہ کھانا ہے جودعوت یا کسی شخص پر تنگی نہ ہونے کی صورت میں اسے کھلایا جائے تو اس وقت اس بات کا لحاظ رکھیں کہ نیک لوگوں ہی کو کھلائیں لیکن جب کسی غریب و نادار حاجت مند کی بھوک مٹانے کا موقع ہو تو اس وقت حاجت مند چاہے فاسق ہو اسے کھلانے میں حرج نہیں ۔ اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اِس طعام سے مراد طعامِ دعوت ہے ، طعام حاجت نہیں اسی لیےاللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا :وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا(۸)(پ۲۹ ،الدھر: ۸ )ترجمۂ کنزالایمان: اور کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبّت پر مسکین اور یتیم اور اسیر ( قیدی ) کو ۔
مذکورہ آیت مبارکہ میں مسکینوں اور یتیموں کے ساتھ اسیروں کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور مسلمانوں کے یہاں اسیر کفار تھے ۔ لہٰذا رفع حاجت یعنی بھوک سے بچانے کے لیے کفار کو کھلانے میں حرج نہیں ۔ بہر حال حضورعَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَامکا پرہیزگاروں کے علاوہ دیگر افراد کو کھلانے سے منع فرمانا مسلمانوں کو بُری صحبت سے ڈرانے اور ان سے مصاحبت و مخالطت رکھنے سے دور کرنے کے لیے تھا کیونکہ ایک ساتھ کھانے پینے سے دل میں محبت و مَوَدَّت پیدا ہونے کا اندیشہ ہے ۔ ‘‘ ( ) ( اور یقیناً یہ مسلمان کے لیے ضرر رساں ہے ۔ )عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمان : ” تمہارا کھانا متقی ہی کھائیں ۔ “اس میں پرہیزگاروں سے میل جول اور ہمیشہ ان کی صحبت میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے نیز اس میں فساق و فجار کو ترک کرنے ، غیر متقی کی تعظیم اور ان سے اچھائی کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
سیدنا’’ابوبکر ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)کفار و فساق کی صحبت اختیار کرنے اور ان سے محبت و مَوَدَّت رکھنے سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
(2) حدیث پاک میں متقی و پرہیزگار لوگوں کی رفاقت و ہم نشینی اختیار کرنے اور ان سے بھلائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔
(3) بھوکے فاسق کو کھانا کھلانے میں حرج نہیں ۔
(4) بددینوں ، بدمذہبوں اور خداو رسول کی شان میں گستاخی کرنے والوں سے محبت و اختلاط جائز نہیں ۔
(5) اپنی کمائی نیک و صالح افراد پر خرچ کرنا چاہیے اور گناہگاروں پر خرچ کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
(6) بُرے لوگوں کی تعظیم اور ان پر احسان کرنے سے گریز کرنا چاہیے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں متقی و پرہیزگار لوگوں کی رفاقت اختیار کرنے اور بُرے لوگوں کی صحبت سے اجتناب کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنا مال علماء ، صلحاء اور دینی طالب علموں پر خرچ کرنے کی سعادت مرحمت فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 366