- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- حدیث نمبر 374
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُوْرُ قُبَاءَ رَاكِبًا وَمَاشِيًا فَيُصَلِّي فِيْهِ رَكْعَتَيْنِ.وَفِيْ رِوَايَةٍ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَاْتِيْ مَسْجِدَ قُبَاءَ كُلَّ سَبْتٍ رَاكِبًا وَمَاشِيًا وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ. ( )
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال : كان النبي صلى الله عليه وسلم يزور قباء راكبا وماشيا فيصلي فيه ركعتين.وفي رواية : كان النبي صلى الله عليه وسلم ياتي مسجد قباء كل سبت راكبا وماشيا وكان ابن عمر يفعله. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ’’حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسوار ہوکر اور پیدل مسجد قباء کی زیارت کے لیے تشریف لے جاتے اور وہاں دو رکعت نفل ادا فرماتے ۔ ‘‘ اور ایک روایت میں ہے کہ نبی رحمت شفیع امتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہر ہفتے کے دن سوار ہوکر اور پیدل مسجد قباء تشریف لے جاتے تھے اور جلیل القدر صحابی رسول حضرت سیدناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابھی اسی طرح کیا کرتے تھے ۔
شرح حدیث
مسجد قباء کی تعمیر :مذکورہ حدیث پاک میں مسجد قباء کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ قباءمدینہ منورہ سے تین میل دور ایک بستی ہے ، وہاں کی مسجدکانام قباءہے ۔ اسی جگہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے ہجرت کے دن مدینہ منورہ میں تشریف آوری سے پہلے قیام فرمایا ۔ ہجرت کے بعد اسلام کی پہلی مسجد ہونے کا اعزاز اسی مسجد کو حاصل ہے ۔ نیز اس سے بھی بڑا اعزاز یہ ہے کہ خودحضور اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کی تعمیر اپنے دست مبارک سے فرمائی ۔ نیز سابقین ، اولین مہاجرین و انصار صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اس کی تعمیر میں حصہ لیا ۔ سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ’’میں نےرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو دیکھا کہ پیٹھ پر پتھر رکھ کرایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے تھے اوررسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس کی بنیاد رکھتے تھے ۔ اگر یہ مسجد کہیں دور دراز اطراف میں ہوتی تو وہاں جانے کے لیے ہم اونٹوں کی مدد لیتے ۔ ‘‘ ( ) حدیث پاک میں اس مسجد میں نماز پڑھنے کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے ۔ چنانچہ حضورعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا : ’’مسجد قباء میں نماز پڑھنا عمرہ کی مثل ہے ۔ ‘‘ ( )
¥ہفتے کے دن علماء وبزرگان دِین کی زیارت :سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہفتے کے روز کبھی پیدل اور کبھی سوار ہوکر مسجد قباء تشریف لے جاتے اور دو رکعت تحیۃ المسجد یا اس کے قائم مقام کوئی دوسری نماز ادا فرماتے تھے ۔عَلَّامَہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس سے معلوم ہوا کہ مساجد اورصالحین کے مقامات سے تقرب حاصل کرنا مستحب اور ہفتہ کے دن ان کی زیارت کے لیے جانا سنت ہے ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں مقام قباء ، مسجد قباء اور وہاں نماز پڑھنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے ، نیز مسجد قباء کی زیارت کرنا مستحب ہے اور وہاں نماز ادا کرنے میں حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی اقتداء ہے اور ہفتے کے دن مسجد قباء کی زیارت کرنا مستحب ہے ۔ ‘‘ ( )
¥نیک اعمال کے لیے دن مقرر کرلینا :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حدیث پاک میں اس بات کا واضح بیان ہے کہ کوئی خاص دن کسی کارِ خیر کے لیے مقرر کرنا جائز ہے جیساکہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے ہفتے کا دن مسجد قباء جانے کے لیے مقرر فرمایا تھا لہذا سوئم ، چہلم ، بزرگان دین و اولیاء کرامرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکے عرس کی مجالس قائم کرنا اور بارہ ربیع الاول کو جشن عید میلاد النبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممنانا بالکل جائز ہے ۔ چنانچہعَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں اس بات کی دلیل ہے کہ بعض ایام کو بعض اعمال صالحہ کے ساتھ خاص کرلینا جائز ہے اور اس پر ہمیشگی اور مداومت اختیار کرنا بھی جائز ہے ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں دلیل ہے کہ بعض ایام کو نفلی عبادت کے ساتھ خاص کرلینا جائز ہے ۔ حضرت سیدنا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورِ اکرم نورِ مجسمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسترہ ۱۷ رمضان المبارک کی صبح مسجد قباء تشریف لے جاتے تھے ۔ البتہ جن اوقات کو عبادت کے ساتھ خاص کرنے کی واضح ممانعت موجود ہے وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جیساکہ شبِ جمعہ کو عبادت کے لیے خاص کرنے اور صرف جمعہ کا روزہ رکھنے سے حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے منع فرمایا ہے ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ اَبُوزَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حضورعَلَیْہِ السَّلَامکا ہفتے دن مسجد قباء کی زیارت کو جانا بعض ایام کو زیارت کرنے کے ساتھ خاص کرنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے اور یہی بات درست ہے ۔ ‘‘ ( )مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’معلوم ہوا کہ بزرگوں کی مسجدوں اور ان کے قیام گاہ متبرک ہیں ان کی زیارت ثواب ۔ کیونکہ مسجدقباءانصارکی مسجدہے اور وہ حضرات مقبولینِ بارگاہ تھے ، وہاں پیشانیاں رگڑنا اورسجدے کرنا قبولیت کا ذریعہ ہے ۔ حضور خواجہ اجمیرقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِینے لاہور آکر حضرت داتا صاحبعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکی پائنتی چلہ کیا وہ اسی حدیث سے ماخوذ تھا ۔ خیال رہے کہ جہاں بزرگوں کے قدم پڑجائیں وہ جگہ تاقیامت متبرک ہوجاتی ہے ۔ اب قباءمیں انصارنہیں لیکن اس کی شرافت وہی ہے ۔ ‘‘ ( )
¥ہفتے کومسجدقباء جانے کی وجوہات :حدیث پاک میں بیان ہوا کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامہفتے کے دن مسجد قباء تشریف لے جاتے ، حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے خاص طور پر ہفتے کے دن ہی کو کیوں مقرر فرمایا؟ شارحین حدیث نے اس کی چند وجوہات بیان فرمائی ہیں :
( 1 ) ہجرت کے بعد حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے سب سے پہلے مسجد قباء کی بنیاد رکھی پھر اس کے بعد مسجد نبوی بنائی گئی اور یہیں جمعہ کی نماز ہوتی تھی ۔ تو اہل قباء اور مدینہ کے بالائی علاقے کے لوگ مسجد نبوی میں جمعہ ادا کرتے جس کی وجہ سے مسجد قباء جمعہ کے دن نماز سے معطل ہو جاتی تھی تو اسی کی تلافی اور تدارک میں حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہفتے کے دن قباء تشریف لے جاتے تھے ۔ ( 2 ) اہل قباء میں سے بعض حضرات جن پر جمعہ لازم نہیں تھا یا وہ کسی عذر کی وجہ سے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہونے اور زیارت کا شرف پانے سے محروم ہوجاتے تھے تو ہفتے کے دن آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکرم فرماکر خود قباء تشریف لے جاتے اور انہیں اپنی ملاقات و زیارت کے اعزاز سے نوازتے تھے ۔ ( 3 ) ہفتے کے علاوہ باقی دنوں میں آپ لوگوں کے مسائل کی تدبیر فرمانے میں مصروف ہوتے جبکہ ہفتے کے دن آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفارغ ہوتے اسی وجہ سے اس دن آپ اپنے احباب سے ملاقات کے لیے تشریف لے جاتے تھے ۔ ‘‘ ( )
¥ایک اہم بات کی وضاحت :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حدیث پاک کی شرح میں بیان ہوا کہ مسجد قباء کی زیارت کے لیے جانا اور وہاں نماز ادا کرنا مستحب ہے جبکہ احادیث میں حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے تین مساجد ( مسجدحرام ، مسجد نبوی ، مسجد اقصیٰ ) کے علاوہ دیگر مساجد کی طرف بالقصد اور اہتمام کے ساتھ جانے سے منع فرمایا ہے تو پھر مسجد قباء میں جانا کیسے مستحب ہوسکتا ہے ؟ علامہ سید محمود احمد رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’کسی مسجد کے لیے اس نیت سے سفر کرنا کہ وہاں نماز کا ثواب زیادہ ملے گا سوائے مساجد ثلاثہ کے ممنوع ہے ۔ لیکن مطلق کسی نیک کام کے لیے جانا یا کسی بزرگ نے جہاں نماز پڑھی ہے وہاں جاکر نماز پڑھنا یا کسی مزار کی زیارت و فاتحہ کے لیے جانا اور حصول ثواب و برکت کی امید رکھنا ہرگز ہرگز ممنوع نہیں ہے ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالابو جعفر داؤدیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے حوالے سے نقل فرماتے ہیں کہ ’’حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا مسجد قباء میں جانا ا س بات پر
دلالت کرتا ہے کہ جو مسجد شہر کے قریب ہو اس میں پیدل یا سوار ہوکر جانے میں کوئی حرج نہیں اور یہ تین مسجدوں کے علاوہ جانے کی ممانعت میں داخل نہیں ۔ ‘‘ ( )
¥سیدناعبداللہبن عمراور متبرک مقامات :مذکورہ حدیث پاک کے آخر میں یہ بھی بیان ہوا کہ حضرت سیدناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبھی ویسا ہی کیا کرتے تھے جیسا کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرمایا کرتے ۔ سیدناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجلیل القدر صحابی ہیں ، آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی یہ عادت مبارکہ تھی کہ حضور نبی رحمت شفیع امتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے منسوب چیزوں اور مقامات کے متعلق معلومات لیتے اور پھر ان کی زیارت کے لیے جاتے ، وہاں نماز وغیرہ ادا فرماتے ۔ چنانچہ تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۸۶۴صفحات پر مشتمل کتاب ’’فیضانِ فاروق اعظم ‘‘ جلداول ، صفحہ ۸۴سے حضرت سیدناعبد اللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی سیرت طیبہ کے چند گوشے پیش خدمت ہیں :
حضرت سیدناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ۲ بعثت نبوی میں پیدا ہوئے اور اپنے والد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ساتھ ہی بچپن میں اسلام قبول فرمایا ۔رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صحابی ہونے کا شرف حاصل کیا ۔ تقریباً دس سال کی عمر میں ہجرت مدینہ بھی اپنے والدین ہی کے ساتھ کی ۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی کنیت ابو عبد الرحمٰن ہے ۔ غزوۂ بدر وغزوۂ اُحد کے علاوہ تمام جنگوں میں سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ شریک رہے ۔ عالم باعمل ، مجتہد ، عابد وزاہد ، سنتوں کے پابند ، بدعاتِ قبیحہ سے نفرت کرنے والے اور لوگوں کو وعظ ونصیحت فرمانے والے تھے ۔ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’عبداللہبن عمر نیک آدمی ہیں ۔ ‘‘ ( )یہ بھی کہا جاتاہے کہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاس وقت تک دنیا سے تشریف نہ لے گئے جب تک اپنے
والد گرامی کی حیات طیبہ کا مظہر نہ بن گئے ۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے خلفاء راشدین سمیت کم وبیش تیس ۳۰صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ایک ہزار چھ سو تیس احادیث مبارکہ روایت کی ہیں ۔ میٹھے میٹھے آقا ، مکی مدنی مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محبت آپ کی نس نس میں بسی ہوئی تھی ، آپ کے عشق رسول کو علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکچھ یوں بیان فرماتے ہیں : ’’حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُحضورنبی ٔرحمت ، شفیعِ اُمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اتباع کے شیدائی تھے یہاں تک کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجہاں تشریف فرما ہوئے ، یہ بھی وہیں بیٹھتے ، جہاںرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نماز ادا فرمائی ، یہ بھی وہیں نماز ادا فرماتے ، جہاں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اونٹنی باندھی یہ بھی وہیں اپنی اونٹنی باندھتے ۔ ‘‘ ( ) گویا جس چیز کیاللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے نسبت ہوجاتی آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاس کی بے حد تعظیم وتوقیر فرماتے ۔ علامہ نووی مزید فرماتے ہیں : ’’آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے بارے میں یہ بھی منقول ہے کہ ایک بار نورکے پیکر ، تمام نبیوں کے سَروَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک درخت کے نیچے تشریف فرما ہوئے تو بعد میں حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاس کو پانی لگادیا کرتے تھے تاکہ وہ مبارک درخت کہیں خشک نہ ہوجائے ۔ ‘‘ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے تقریباًتہتر ۷۳ہجری میں ۸۴سال کی عمر میں وفات پائی ۔ ( )
¥سیدناعبد اللہبن عمر کی مدنی تربیت :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! والدین کے اوصاف کا اثر ان کی اولاد میں بھی ہوتاہے ، جبکہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتو وہ تھے جن کی مدنی تربیت امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُخود فرمایا کرتے تھے ، حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو یہ عشق رسول اور سرکارِ مکۂ مکرمہ ، سردارِ مدینۂ منورہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے آثار مقدسہ کی تعظیم وتوقیر اپنے والد گرامی سیِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہی ملی تھی ۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُخود ان کے لیے درازیٔ عمر کی
خواہش فرمایا کرتے تھے ۔ چنانچہ ایک بار آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ’’ میرے گھر والوں ، اولاد اور مال میں ہرکوئی ایسا ہے کہ میں اس پراِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَکہنا پسند کروں گا مگرعبداللہبن عمر کے بارے میں میں یہ پسند کروں گا کہ وہ میرے بعد بھی زندہ رہیں ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’چل مدینہ ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
(1)مسجد قباء کی زیارت کرنا اور اس میں نماز پڑھنا مستحب ہے نیز یہاں نماز پڑھنا عمرے کی مثل ہے ۔
(2) ہجرت کے بعد سب سے پہلے حضورعَلَیْہِ السَّلَاماور مہاجرین و اَنصار صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے مل کر اپنے مبارک ہاتھوں سے مسجد قباء تعمیر فرمائی ۔
(3) بزرگانِ دِین و اولیاء کرامرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکی زیارت کے لیے دن مقرر کرنا جائز ہے ۔
(4) بعض ایام کو نیک اعمال کے لیے خاص کرنا اور اس پر ہمیشگی اختیار کرنا بالکل جائز ہے ۔
(5) بزرگوں کی مساجد و قیام گاہ متبرک ہیں اور ان کی زیارت کرنا ثواب ہے کیونکہ جہاں بزرگوں کے قدم پڑ جائیں وہ جگہیں تاقیامت برکت والی ہوجاتی ہیں ۔
(6) مسجد حرام ، مسجد نبوی اور مسجد اقصٰی کے علاوہ کسی مسجد کی طرف اس نیت سے جانا ممنوع ہے کہ وہاں نماز پڑھنے کا ثواب زیادہ ملے گا ۔
(7) صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبھی متبرک مقامات واشیاء کی تعظیم کیا کرتے تھے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّہمیں مسجد قباء و دیگر مقدس مقامات کی زیارت ،اولیاء اللہکی خدمت میں حاضری اور ان سے فیض پانے کا شرف عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 374