Main Icon

باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 146

جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَاِذَا حَبْلٌ مَمْدُوْدٌ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ فَقَالَ: مَا هَذَا الْحَبْلُ؟ قَالُوْا: هَذَاحَبْلٌ لِزَ يْنَبَ، فَاِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حُلُّوْهُ، لِيُصَلِّ اَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ، فَاِذَا فَتَرَ فَلْيَرْ قُدْ. ( )

وعن انس رضي الله عنه قال:دخل النبي صلى الله عليه وسلم المسجد فاذا حبل ممدود بين الساريتين فقال: ما هذا الحبل؟ قالوا: هذاحبل لز ينب، فاذا فترت تعلقت به. فقال النبي صلى الله عليه وسلم: حلوه، ليصل احدكم نشاطه، فاذا فتر فلير قد. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرت سَیِّدُنَا اَنَسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ سرکارِدوعالَم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسجد میں داخل ہوئےتودو۲ستونوں کےدرمیان ایک رسی بندھی ہوئی دیکھ کر استفسار فرمایا: ’’ یہ رسی کیسی ہے؟ ‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: ’’ یہ حضرت سَیِّدَتُنَا زینبرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی رسی ہے جب وہ (عبادت کرتے کرتے) تھک جاتی ہیں تو اس کے ساتھ سہارا لیتی ہیں ۔ ‘‘ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا: ’’ اِسے کھول دو!جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو خشوع خضوع کے ساتھ پڑھےاور جب تھک جائے تو آرام کرے۔ ‘‘

شرح حدیث

عبادت میں شدت کب مکروہ ہے؟عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں : ’’ عبادت میں شدت اِختیارکرنا تھکاوٹ اور اُ کتاہٹ کے خوف کی وجہ سے مکروہ ہے ۔حضورنبی اکرم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ بہترین عمل وہ ہے جسے ہمیشہ کیا جائے اگرچہ تھوڑاہو۔ ‘‘ اوراللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اِرشاد فرماتا ہے: (لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ-) (پ۳، البقرہ:۲۸۶) (ترجمۂ کنزالایمان:اللہکسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اُس کی طاقت بھر) ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے: (وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍؕ-)(پ۱۷، الحج:۷۸) (ترجمۂ کنزالایمان:اور تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی۔)رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عبادت میں اِفراط ( زیادتی) کوناپسند فرمایاہے تاکہ اکتاہٹ نہ ہو ۔ ‘‘ ( )نمازی اپنے ربّ سے مناجات کرتاہے:عَلَّامَہ شَھَابُ الدِّیْن اَحْمَد قَسْطلانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو خشوع خضوع کے ساتھ پڑھےاور جب تھک جائے تو آرام کرے۔ مراد یہ ہے کہ تم میں سےہرایک اپنے نشاط کے وقت نمازپڑھے یااُس وقت نماز پڑھےجواُس نماز کے ‏لیے نشاط کاوقت ہےاور بعض نے فرمایا: نمازی کو چاہیے کہ کامل اِرادے اورکامل ذوق سےنمازادا کرے کیونکہ حالت نماز میں بندہ اپنے ربّ کے حضورمناجات کرتا ہے۔پس اُس وقت اُکتاہٹ میں مبتلاہونا درست نہیں ۔ ‘‘ ( )کثرتِ عبادت کی ممانعت کن کےلیے ہے؟شارحِ بخاری حضرت علامہ سَیِّد محمود اَحمد رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ واضح رہے کہ وہ تمام حدیثیں جن میں کثرتِ عبادت کی ممانعت آئی ہے تو یہ نہی (ممانعت ) صرف ایسے افراد کے ‏لیےہے جو عبادت ورِیاضت میں ایسے مشغول ومعروف ہو جائیں کہ حقوق العباد تک تلف ہوجائیں اور عبادت اُن کے ‏لیےبار ہوجائے۔لیکن وہ لوگ جنہیں کثرتِ عبادت میں دِقّت نہ ہو بلکہ عبادت اُن کی غذا بن جائے تو ایسے اَفراد کے ‏لیے کثرتِ عبادت ممنوع نہیں ہے بلکہ محمودومطلوب ہے۔قرآن مجید میں فرمایا:(كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ (۱۷)) (پ۲۶، الذّٰریٰت:۱۷) (ترجمۂ کنزالایمان:وہ رات میں کم سویا کرتے۔) نیز حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی عبادت ایسی ہوتی تھی کہ آپ کے قدم مبارک مُتَوَرَّم ہوجاتے تھے۔رمضان کے آخری عشرے میں حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ساری رات عبادت میں گزار دیتے تھے۔حضرت عثمان غنی و حضرت عمر فاوق (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا) ساری رات عبادت میں مشغول رہتے تھے۔غرضیکہ مطلقاً کثرت ِعبادت ممنوع نہیں ہے، بلکہ عبادت میں ایسی کثرت جس کی طاقت نہ ہو او رطبع پر گراں ہو اس کی ممانعت آئی ہے۔حضورعَلَیْہِ السَّلَامکا ارشادلِیُصَلِّ اَحَدُکُمْ نَشَاطَہُیعنی جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو خشوع خضوع کے ساتھ پڑھے۔جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگرکوئی شخص ساری رات قیام کرسکے اور ساری رات کی عبادت گزاری اس کو دشوارنہ ہوتو اس کی ممانعت نہیں ہے۔ ‘‘ ( )
¥
بعض صورتوں میں نیند بھی عبادت ہے :مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ اگر کھڑے کھڑے نوافل پڑھتے تھک گیاہے توبیٹھ کر پڑھے۔ اس بیٹھنے میںاِنْ شَآءَاللہقیام کا ثواب ملے گا۔ یا اگر نماز نفل سے تھک گیاہے تو کچھ دیرآرام کےلیے بیٹھ جائے۔ اس آرام میں نفل کا ثواب ملے گا کیونکہ یہ آرام آئندہ نفل کی تیاری کے ‏لیےہے۔جوعادت عبادت کی تیاری کےلیے ہووہ عبادت ہے۔ اس لیے کہا جاتاہےکہ عالِم کی نیند عبادت ہے کہ اس کے ذریعہ وہ بہت سے کام کرے گا۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’ سُنَّت ‘‘ کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)
جب تک دل جمعی باقی رہے، نفلی عبادت کی جائے، جب اکتاہٹ محسوس ہو تو کچھ دیر آرام کر لیا جائے اور پھر دوبارہ نفلی عبادت کی جائے تاکہ رغبت باقی رہے ۔
(2) اگر کوئی کھٹرےکھڑے نوافل پڑھتے تھک گیا ہے تو بیٹھ کر پڑھے، اس بیٹھنے میں قیام کا ثواب ملے گا، اور اگر نماز ہی سے تھک گیا ہے تو کچھ دیر آرام کے لیے بیٹھ جائے، اس آرام میں بھی نفل کا ثواب ملے گا کیونکہ یہ آرام آئندہ نوافل کی تیاری کے لیے ہے۔
(3) کثرتِ عبادت سے انہیں منع کیا گیا ہے جو اکتاہٹ کاشکارہوجائیں اور جن کے ‏لیے کثرتِ عبادت سکون اور دل جمعی کا باعث ہو اُن کے لیے کثرتِ عبادت کی ممانعت نہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں خشوع وخضوع سے عبادت کرنے کی توفیق عطافرمائے، ہمارا دل اپنی عبادات میں لگادے، ہمیں تنگی اور غفلت اور عبادات میں اکتاہٹ سےمحفوظ فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 146