Main Icon

باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 149

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ جُحَيْفَةَ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ الله ِرَضِي َ الله ُ عَنْهُ قَالَ:آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَلْمَانَ وَاَبِي الدَّرْدَاءِ، فَزَارَسَلْمَانُ اَبَاالدَّرْدَاءِ فَرَاَى اُمَّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً، فَقَالَ: مَا شَاْنُكِ؟ قَالَتْ: اَخُوْكَ اَبُو الدَّرْدَاءِ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ فِي الدُّنْيَا. فَجَاءَ اَبُو الدَّرْدَاءِ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا، فَقَالَ لَہُ: کُلْ! فَانِّیْ صَائِمٌ . قَالَ: مَا اَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَاْ كُلَ. فَاَ كَلَ . فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ ذَهَبَ اَبُو الدَّرْدَاءِ يَقُوْمُ فقَالَ لَہُ: نَمْ، فَنَامَ، ثُمَّ ذَهَبَ يَقُوْمُ فَقَالَ لَہُ: نَمْ فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قَالَ سَلْمَانُ:قُمِ الْآنَ، فَصَلَّيَا جَمِیْعًا، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ: اِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَ اِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِاَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، فَاَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، فَاَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقَ سَلْمَانُ. ( )

عن ابي جحيفة وهب بن عبد الله رضي الله عنه قال:آخى النبي صلى الله عليه وسلم بين سلمان وابي الدرداء، فزارسلمان اباالدرداء فراى ام الدرداء متبذلة، فقال: ما شانك؟ قالت: اخوك ابو الدرداء ليس له حاجة في الدنيا. فجاء ابو الدرداء فصنع له طعاما، فقال لہ: کل! فانی صائم . قال: ما انا بآكل حتى تا كل. فا كل . فلما كان الليل ذهب ابو الدرداء يقوم فقال لہ: نم، فنام، ثم ذهب يقوم فقال لہ: نم فلما كان من آخر الليل قال سلمان:قم الآن، فصليا جمیعا، فقال له سلمان: ان لربك عليك حقا، و ان لنفسك عليك حقا، ولاهلك عليك حقا، فاعط كل ذي حق حقه، فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: صدق سلمان. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُناابوجُحَیْفَۃوہب بنعبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسےروایت ہے، حضور تاجدارِ رسالت شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا سلمانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاورحضرت سَیِّدُنَا ابودَرْدَاءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا۔ ایک دن حضرت سَیِّدُنَاسلمانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُحضرت سَیِّدُنَاابودَرْدَاءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکےہاں تشریف لے گئےتو حضرت سَیِّدَتُنَا اُمِّ دَرْدَاءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکو پرانے عام سے کپڑوں میں دیکھ کرفرمایا: ’’ یہ کیاحالت ہے؟ ‘‘ کہا : ’’ آپ کے بھائیاَبُو دَرْدَاءکو دنیا کی کچھ حاجت نہیں ۔ پس جب حضرت سَیِّدُنَا ابودَرْدَاءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُآئے تو انہوں نے حضرت سَیِّدُنَا سلمانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ‏لیےکھانا تیار کیا اور فرمایا : ’’ کھا ئیے! میں روزے سے ہوں ۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَاسلمانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’ جب تک تم نہیں کھاؤ گے میں بھی نہیں کھاؤں گا۔ ‘‘ چنانچہ انہوں نےبھی کھایا۔ جب رات ہوئی تو حضرت سَیِّدُنَاابودَرْدَاءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُعبادت کے ‏لیے جانے لگے۔فرمایا : ’’ ابھی سوجاؤ۔ ‘‘ تو وہ سو گئے۔کچھ دیر بعدوہ دوبارہ نماز کے ‏لیے جانے لگے توفرمایا: ’’ سوجاؤ۔ ‘‘
پھر جب رات کاآخری حصہ ہوا تو فرمایا: ’’ اب اٹھو۔ ‘‘ چنانچہ دونوں نے اکٹھے نماز ادا کی۔ حضرت سَیِّدُنَاسلمان
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’ بے شک تمہارے ربّعَزَّ وَجَلَّکاتم پر حق ہے اور تمہارےنفس کا تم پرحق ہےاور تمہارے گھر والوں کا تم پر حق ہے۔ لہٰذا ہر حقدار کو اس کا حق دو۔پھر جب حضرت سَیِّدُنَاابودَرْدَاءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُحضور نبی اکرمنورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ عرض کیا تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ سلمان (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) نے سچ کہا۔ ‘‘

شرح حدیث

مسلمانوں کے درمیان بھائی چارہ:دوعالَم کے مالک ومختار، مکی مدنی سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا سلمان او رحضرت سَیِّدُنَاابودرداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا۔اہل سیرت اورمغازی ذکر کرتے ہیں کہ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے درمیان دومرتبہ مؤاخات (یعنی بھائی چارہ) قائم ہوا۔پہلاخاص طورپر مہاجرین کے درمیان ہجرت سے قبل ہوایہ ایک دوسرے کی مدداوردین کے حقوق قائم کرنے پر تھا۔اوردوسری مرتبہ جب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہجرت فرما کرمدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے مہاجرین اور انصارکے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا۔ ( )عبادت میں حدسے زیادہ نہ بڑھنے کی حکمت:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتےہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا ابودرداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت سَیِّدُنَا سلمانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی عزت و احترام کی بناپر آپ کے ‏لیے کھانے کا اہتمام کیا خود چونکہ روزے سے تھے، اس ‏لیے کھانے سے انکار کیا۔ حضرت سَیِّدُنَا سلمان فارسیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے انہیں ساتھ کھلانے پر اِصرار کیا، غرض یہ تھی کہ حضرت سَیِّدُنَا ابودرداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُعبادت میں اپنے نفس کو بہت زیادہ مشقت میں ڈالنےکی رائےبدل دیں اوریہی شکایت ان کی زوجہ کوبھی تھی۔حضرت سَیِّدُنَا ابودرداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت سَیِّدُنَاسلمانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی تعظیم کرتے ہوئے نفلی روزہ توڑدیا اور آپ کا یہ روزہ توڑناعذر کی وجہ سے تھا لہٰذا آپ کو اس پر ثواب دیاجائے گا۔
حضرت سَیِّدُنَا سلمان
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت سَیِّدُنَا ابودرداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکومیانہ روی اختیار کرنے کی حکمت کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا: ’’ تم پر تمہارے ربّ کا حق ہے اور وہ حق عبادت ہے اورتم پر تمہارےنفس کابھی حق ہےاور وہ کھانا پینا ہے جس کے ذریعےقوت حاصل ہوتی ہے اور نیند ہے جس کے ذریعے صحت ملتی ہےاور تم پر تمہارے گھر والوں یعنی تمہاری زوجہ کا حق ہے اور وہ حق یہ ہے کہ تم ان کے پاس آؤ اور ان کی خواہش پوری کرو۔ ‘‘ ( )¥نفلی روزہ توڑنے کے اَحکام:ضیافت مہمان اور میزبان دونوں کے ‏لیے نفلی روزہ توڑنے کا عذر ہے۔ شریعت مطہرہ نے اس کی اجازت دی ہے بلکہ اپنے مسلمان بھائی کی دِل جوئی پر ثواب بھی رکھاہے جیسا کہ”مَرَاقِی الفَلاح شرح نُورِ الاِیضاح“میں ہے: ’’ کوئی شخص نفلی روزہ رکھے اور اپنے بھائی کے گھر جائے ، وہ اسے کھانے کی دعوت دے تو اسے روزہ توڑ نا جائز ہے۔حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِس فرمان کی بنا پر کہ ”جس نے اپنے مسلمان بھائی کے حق کے ‏لیے اپنا (نفلی ) روزہ توڑ دیا تو اس کے ‏لیے ایک ہزار روزوں کا ثواب لکھا جاتا ہے اور پھر جب وہ اس روزے کی قضا کرتا ہے تو اس کے ‏لیے دو ہزار روزوں کا ثواب لکھا جاتا ہے۔“ ( )صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہحضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ نفل روزہ بلاعذر توڑ دینا ناجائز ہے، مہمان کے ساتھ اگرمیزبان نہ کھائے گا تو اسے ناگوار ہوگا یا مہمان اگر کھانا نہ کھائے تو میزبان کو اذیت ہوگی تو نفل روزہ توڑ دینے کے لیے یہ عذر ہے، بشرطیکہ یہ بھروسہ ہو کہ اس کی قضا رکھ لے گا اور بشرطیکہ ضحوہ کبریٰ سے پہلے توڑے بعد کو نہیں ۔ زوال کے بعد ماں باپ کی ناراضی کے سبب توڑ سکتا ہے اور اس میں بھی عصر کے قبل تک توڑ سکتا ہے بعد عصر نہیں ۔ ‘‘ ( )
¥
مدنی گلدستہ
ماہِ ’’ رمضان ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)
مسلمانوں کاآپس میں بھائی چارہ قائم کرنااُمَّت مسلمہ کی دینی ودنیاوی مصلحتوں کاپیش خیمہ ہے۔
(2) اپنے دوستوں کی تعظیم وتوقیر کرنا اور ان کی جائز خواہشات کو پوری کرناصحابۂ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا طرزِعمل ہے، نیز ا س میں اپنے مسلمان بھائی کی دلجوئی بھی ہے جو کہ کارِ ثواب ہے۔
(3) جب مہمان اپنےساتھ کھانےکی خواہش کرے تومیزبان کےلیےنفلی روزہ توڑدینا جائزبلکہ کارِ ثواب ہے کیونکہ یہ حکم شرعی پرعمل ہےنیز بعدمیں روزہ کی قضاء لازم ہے۔
(4) نفل روزہ بلاعذر توڑدینا ناجائز ہے، میزبان کے ساتھ کھانا نہ کھانا مہمان کو ناگوار گزرے گا، یا میزبان کو اذیت ہوگی تو اس عذر کی وجہ سے نفلی روزہ توڑنا جائز ہے جبکہ یہ بھروسہ ہو کہ بعد میں اس کی قضا رکھ لے گا اور یہ توڑنا ضحویٰ کبری سے پہلے ہو۔
(5) بندےپر
حقوقُ اللہکےساتھ ساتھ حقوق ُالعباد بھی لازم ہیں لہٰذاتمام حقوق اداکرنے چاہئیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے پیارے حبیب، حبیب لبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے عطا کردہ احکامات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطافرمائے، دنیا وآخرت میں کامیابیاں عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 149