Main Icon

باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 747

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَاَيْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم جَالِسًا مُقْعِيًا يَأْكُلُ تَمْرًا.

عن انس رضي الله عنه قال: رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسا مقعيا يأكل تمرا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا اَنَسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:میں نےرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھا کہ سُرِین پر بیٹھےدونوں گھٹنے کھڑے کئے کھجور تناول فرما رہے ہیں۔‘‘

شرح حدیث

بغیرٹیک لگائے کھانا سنت ہے:مذکورہ حدیث پاک میں اِس بات کا بیان ہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےسُرِین پر بیٹھےدونوں گھٹنے کھڑے کئے اوربغیر ٹیک لگاکرکھجور تناول فرمائی، معلوم ہوا کہ بغیر ٹیک لگائے کھانا سنت ہے۔ ”جب بھی کھانا کھائیں تو بیٹھ کر کھائیں کہ یہ سنت ہے ۔ بیٹھنے کا طریقہ یہ ہے کہ اُلٹا پاؤں بچھا دیں اور سیدھا کھڑا رکھیں یا سُرِین پر بیٹھ جائیں اور دونوں گھٹنے کھڑے رکھیں یا دو زانو بیٹھیں۔“(تینوں میں سے جس طرح بھی بیٹھیں گے سنت ادا ہوجائے گی۔)علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ القَوِیّفرماتے ہیں:” اگر بھاری بدن یا کمزور ہونے کی وجہ سے اِس طرح نہ بیٹھ سکے تو پالتی مار کر کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں ۔“مدنی گلدستہ’’اللّٰہ‘‘کے4حروف کی نِسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور اِن کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(15) ڈٹ کر کھانا سنّت نہیں،اِس سے جسم بوجھل ہوجاتا اور عبادت میں سُستی آتی ہے۔
(16) ٹیک لگا کر کھانا مکروہ ہے،اس سے بیماری بھی پیدا ہوسکتی ہے۔
(17) بیٹھ کر کھانا کھانا سنت ہے ۔ اس طرح کہ اُلٹا پاؤں بچھا دے اور سیدھا کھڑا رکھے یا سُرِین پر بیٹھ جائے اور دونوں گھٹنے کھڑے رکھے یا دو زانو بیٹھے ۔
(18) مجبوری ہو تو پالتی مار کر کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں کھانے کی سنتوں اور آداب پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 747