Main Icon

باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 940

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ اَبِیْ اَوْفَی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا:اَنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جَنَازَةِ ابْنَةٍ لَهُ اَرْبَعَ تَكْبِيْرَاتٍ فَقَامَ بَعْدَ الرَّابِعَةِ كَقَدْرِ مَا بَيْنَ التَّكْبِيْرَتَيْنِ يَسْتَغْفِرُ لَهَا وَيَدْعُو ثُمَّ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَصْنَعُ هٰكَذَا.( )وَفِیْ رِوَايَةٍ: کَبَّرَ اَرْبَعًا فَمَكَثَ سَاعَةً حَتَّى ظَنَنْتُ اَنَّهُ سَيُكَبِّرُ خَمْسًا ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِيْنِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْنَا لَهُ:مَا هٰذَا؟ فَقَالَ:اِنِّیْ لَا اُزِيْدُكُمْ عَلَى مَا راَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَصْنَعُ اَوْ: هٰكَذَا صَنَعَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عن عبد الله بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما:انه كبر على جنازة ابنة له اربع تكبيرات فقام بعد الرابعة كقدر ما بين التكبيرتين يستغفر لها ويدعو ثم قال: کان رسول الله صلى الله عليه وسلم یصنع هكذا.( )وفی رواية: کبر اربعا فمكث ساعة حتى ظننت انه سيكبر خمسا ثم سلم عن يمينه وعن شماله فلما انصرف قلنا له:ما هذا؟ فقال:انی لا ازيدكم على ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم یصنع او: هكذا صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن ابی اوفیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی صاحبزادی کے جنازے پر چار تکبیریں پڑھیں پھر چوتھی تکبیر کے بعد دوتکبیروں کے درمیانی وقفہ کی مقدار کھڑے رہے اور اس کے لیے مغفرت طلب کی اور دعا مانگی پھر فرمایا:”نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماسی طرح کیا کرتے تھے۔“اورایک روایت میں ہے کہ آپ نے چار تکبیریں کہیں پھر کچھ دیر توقف کیا (راوی کہتے ہیں) یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ آپ پانچویں تکبیر کہیں گے پھر آپ نے اپنی دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرا۔ پس جب وہ مُڑے تو ہم نے ان سے عرض کی: یہ کیا ہے؟ فرمایا: ”میں نے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو جس طرح کرتے دیکھا تھا میں نے اُس پر زیادتی نہیں کی۔“ یا فرمایا کہ ”حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماسی طرح کیا کرتے تھے۔“

شرح حدیث

چار تکبیروں پر اجماع ہے:مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ نمازِ جنازہ میں صرف چار تکبیریں ہی کہی جائیں گی، پانچویں تکبیر کہنا درست نہیں۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”چاروں اماموں کا اس پر اتفاق ہے کہ نمازِ جنازہ میں چارتکبیریں ہیں جن پربےشمار احادیث صحیحہ وارد ہیں۔ خیال رہے کہ نبیصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے پانچ چھ تکبیریں بھی ثابت ہیں مگر وہ سب منسوخ ہیں۔ چنانچہ مؤطا امام محمد میں ایک حدیث ہے جس میں ہے کہ عہد فِاروقی تک صحابہ نمازِ جنازہ میں کبھی تکبیریں چار کہتے، کبھی پانچ،کبھی چھ۔ حضرت عمرفاروق(رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ)نے سب کو جمع کرکے فرمایا کہ اگر تم میں ہی اختلاف رہے گا تو قیامت تک سارے مسلمانوں میں اختلاف رہے گا۔ تحقیق کرو کہ حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے آخری جنازوں میں تکبیریں کتنی کہیں۔تحقیق سے ثابت ہوا کہ آپ نے چارتکبیریں کہیں،اسی پرصحابہ کا اجماع ہوا۔ چنانچہ حضرت عمر نے صدیق اکبر پر، حضرت ابن عمر نے عمرفاروق پر، حضرت حسن ابن علی نے جناب علی مرتضٰی پر، امام حسین نے حضرت حسن(رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمْ) پر چارتکبیریں ہی کہیں بلکہ فرشتوں نے آدمعَلَیْہِ السَّلَامکا جنازہ پڑھا تو آپ پر چارتکبیریں ہی کہیں۔“
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں: ”پانچ تکبیریں تو ہمارے ائمہ بلکہ ائمہ اربعہ بلکہ جمہور ائمہ کے نزدیک منسوخ ہیں بلکہ امام ابو عمر یوسف بن عبدالبرمالکی نے فرمایا: چار پر اِجماع منعقد ہوگیا و لہٰذا ہمارے علماء کرام حکم فرماتے ہیں کہ امام پانچویں تکبیر کہے تو مقتدی ہر گز ساتھ نہ دیں خاموش کھڑے رہیں، یہی صحیح ہے۔مدنی گلدستہ’’تکبیر‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) نمازِ جنازہ میں چار تکبیریں ہیں، اِس پر چاروں ائمہ کا اتفاق ہے۔
(2) نبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پانچ، چھ تکبیریں بھی ثابت ہیں لیکن وہ سب منسوخ ہیں۔
(3) عہدِ فاروقی تک صحابہ کرام نمازِ جنازہ میں پانچ،چھ تکبیریں کہتے رہے پھر حضرت عمرفاروقِ اعظم
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے حکم پر اس مسئلہ کی تحقیق کی گئی اور یہ بات ثابت ہوئی کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے آخری جنازوں میں چار تکبیریں کہیں لہٰذا چار تکبیروں پر صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا اجماع ہوا۔
(4) فرشتوں نے حضرت آدم
عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر چار تکبیریں کہیں۔
(5) امام پانچویں تکبیر کہے تو مقتدی ہر گز ساتھ نہ دیں بلکہ خاموش کھڑے رہیں اور جب وہ سلام پھیرے تو اس کے ساتھ سلام پھیر دیں۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحیح طریقے کے مطابق نمازِ جنازہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 940