باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟

فیضان ریاض الصالحین جلد 6

حضرت سَیِّدُنا عوف بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ”رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک میت کی نمازِ جنازہ پڑھی تو میں نے آپ کی دعا کو یاد کرلیا، آپ نے یوں دعا مانگی:”اےاللّٰہ! اس کی مغفرت فرما ،اس پر رحم فرما، اس کو عافیت دے،اسے معاف فرما ، اسے عزت والا مقام عطا فرما، اس کی قبر کشادہ فرما ، اسے پانی، برف اور اولے سے دھو دے اور اسے گناہوں سے اس طرح صاف کردے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل سے صاف رکھا ہے، اسے اس کے دنیاوی گھر کے بدلے بہتر گھر عطا فرما ،اس کے اہل سے بہتر اہل اور اس کی بیوی سے بہتر بیوی عنایت فرما، اسے جنت میں داخل فرما اور اسے عذاب ِ قبر و عذاب جہنم سے پناہ دے۔“(حضرت عوف بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:یہ سن کر)میں نے خواہش کی کہ کاش میں ہی وہ میت ہوتا۔“

عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: صَلَّى رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَنَازَةٍ فَحَفِظْتُ مِنْ دُعَائِهِ وَهُوَ يَقُوْلُ:اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَاَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَـرَدِ وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْاَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَاَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ وَاَهْلًاخَيْرًامِّنْ اَهْلِهِ وَزَوْجًا خَيْرًا مِّنْ زَوْجِهِ وَاَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَاَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ حَتّٰى تَمَنَّيْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَنَا ذٰلِكَ الْمَيِّتَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 935 ، باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ،حضرت سَیِّدُنا ابو قتادہ اور حضرت سَیِّدُنا ابراہیماَشْہَلِیاپنے والدماجد سے کہ جو صحابی ہیںرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمْ،اِن سب سے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک آدمی کی نمازِ جنازہ پڑھی تو یوں دعا مانگی:اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَصَغِيْرِنَا وَكَبِيْرِنَا وَذَكَرِنَا وَاُنْثَانَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا اللّٰهُمَّ مَنْ اَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَاَحْيِهِ عَلَى الْاِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْاِيْمَانِ اللّٰهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا اَجْرَهُ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُیعنی اےاللّٰہ(عَزَّ وَجَلَّ)! ہمارے زندوں اور مُردوں کو، ہمارے چھوٹوں اور بڑوں کو، ہمارے مَردوں اور عورتوں کو اور ہمارے حاضِر و غائِب کو بخش دے، اےاللّٰہ!تو ہم میں سے جسے بھی زندہ رکھے اُسے اسلام پر زندہ رکھ اور تو ہم میں سے جسے بھی موت دے اُسے ایمان پر موت دے، اےاللّٰہ!ہمیں اس کے ثواب سے محروم نہ کر اور ہمیں اس کے بعد فتنہ میں نہ ڈال۔

عَنْ اَبِیْ ہُرَيْرَةَ وَاَبِيْ قَتَادَةَ وَ اَبِيْ اِبْرَاهِيْمَ الْاَشْهَلِيِّ عَنْ اَبِيْهِ وَاَبُوْهُ صَحَابِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ عَنِ النَّبِیِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّهُ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَقَالَ:اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَصَغِيْرِنَا وَكَبِيْرِنَا وَذَكَرِنَا وَاُنْثَانَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا اللّٰهُمَّ مَنْ اَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَاَحْيِهِ عَلَى الْاِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْاِيْمَانِ اللّٰهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا اَجْرَهُ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 936 ، باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا ہے:”جب تم میت پر نماز پڑھو تو اس کے لیے خلوص کے ساتھ دعا کرو۔“

عَنْ اَبِیْ ہُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ:اِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الْمَيِّتِ فَاَخْلِصُوْا لَهُ الدُّعَاءَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 937 ، باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُحضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے نمازِ جنازہ کی یہ دعا روایت کرتے ہیں:”اَللّٰهُمَّ اَنْتَ رَبُّهَا وَاَنْتَ خَلَقْتَهَا وَاَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْاِسْلَامِ وَاَنْتَ قَبَضْتَ رُوْحَهَا وَاَنْتَ اَعْلَمُ بِسِرِّھَا وَعَلَانِيَتِهَا جِئْنَاكَ شُفَعَاءَ لَهُ فَاغْفِرْ لَهُ‘‘یعنی اےاللّٰہ! تو اس کا رب ہے، تونے اسے پیدا کیا، تونے ہی اسے اسلام کی ہدایت دی ، تونے ہی اس کی روح قبض کی، تو اس کے باطن و ظاہر کو خوب جانتا ہےاور ہم اس کے سفارشی بن کر آئے ہیں، پس تو اسے بخش دے۔

عَنْ اَبِیْ ہُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ:اَللّٰهُمَّ اَنْتَ رَبُّهَا وَاَنْتَ خَلَقْتَهَا وَاَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْاِسْلَامِ وَاَنْتَ قَبَضْتَ رُوْحَهَا وَاَنْتَ اَعْلَمُ بِسِرِّہَا وَعَلَانِيَتِهَا جِئْنَاكَ شُفَعَاءَ لَهُ فَاغْفِرْ لَهُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 938 ، باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟

حضرت سَیِّدُنا واثلہ بن اسقعرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اقتدا میں ایک مسلمان کی نمازِ جنازہ پڑھی۔میں نے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا :”اَللّٰهُمَّ اِنَّ فُلَانَ ابْنَ فُلَانٍ فِیْ ذِمَتِّكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ فَقِهِ فِتْنَةَ القَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ وَاَنْتَ اَهْلُ الوَفَاءِ وَالْحَمْدِ اللّٰهُمَّ فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ اِنَّكَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْم‘‘یعنی اےاللّٰہ! فلاں بن فلاں تیرے ذمہ ہے اور تیرے عہد کی پناہ میں ہے، اسے قبر کے فتنے اور دوزخ کے عذاب سے بچا، تو وعدہ پورا کرنے والا اور تعریف کا مستحق ہے۔اےاللّٰہ! اسے بخش دے اور اس پر رحم فرما، بے شک توہی بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔

عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْاَسْقَعِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ فَسَمِعْتُهُ يَقُوْلُ:اللّٰهُمَّ اِنَّ فُلَانَ ابْنَ فُلَانٍ فِیْ ذِمَتِّكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ فَقِهِ فِتْنَةَ القَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ وَاَنْتَ اَهْلُ الوَفَاءِ وَالْحَمْدِ اللّٰهُمَّ فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ اِنَّكَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 939 ، باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟

حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن ابی اوفیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی صاحبزادی کے جنازے پر چار تکبیریں پڑھیں پھر چوتھی تکبیر کے بعد دوتکبیروں کے درمیانی وقفہ کی مقدار کھڑے رہے اور اس کے لیے مغفرت طلب کی اور دعا مانگی پھر فرمایا:”نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماسی طرح کیا کرتے تھے۔“اورایک روایت میں ہے کہ آپ نے چار تکبیریں کہیں پھر کچھ دیر توقف کیا (راوی کہتے ہیں) یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ آپ پانچویں تکبیر کہیں گے پھر آپ نے اپنی دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرا۔ پس جب وہ مُڑے تو ہم نے ان سے عرض کی: یہ کیا ہے؟ فرمایا: ”میں نے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو جس طرح کرتے دیکھا تھا میں نے اُس پر زیادتی نہیں کی۔“ یا فرمایا کہ ”حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماسی طرح کیا کرتے تھے۔“

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ اَبِیْ اَوْفَی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا:اَنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جَنَازَةِ ابْنَةٍ لَهُ اَرْبَعَ تَكْبِيْرَاتٍ فَقَامَ بَعْدَ الرَّابِعَةِ كَقَدْرِ مَا بَيْنَ التَّكْبِيْرَتَيْنِ يَسْتَغْفِرُ لَهَا وَيَدْعُو ثُمَّ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَصْنَعُ هٰكَذَا.( )وَفِیْ رِوَايَةٍ: کَبَّرَ اَرْبَعًا فَمَكَثَ سَاعَةً حَتَّى ظَنَنْتُ اَنَّهُ سَيُكَبِّرُ خَمْسًا ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِيْنِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْنَا لَهُ:مَا هٰذَا؟ فَقَالَ:اِنِّیْ لَا اُزِيْدُكُمْ عَلَى مَا راَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَصْنَعُ اَوْ: هٰكَذَا صَنَعَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 940 ، باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟