Main Icon

اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 295

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَ يْرَ ةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيْهِ اِلَّا مَلَكَانِ يَنْزِلَانِ فَيَقُوْلُ اَحَدُهُمَا:اللّٰهُمَّ اَعْطِ مُنْفِقاً خَلَفاً وَيَقُوْلُ الْاٰخَرُ : اللّٰهُمَّ اَعْطِ مُمْسِكاً تَلَفاً. ( )

عن ابي هر ير ة رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال : ما من يوم يصبح العباد فيه الا ملكان ينزلان فيقول احدهما:اللهم اعط منفقا خلفا ويقول الاخر : اللهم اعط ممسكا تلفا. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ہر صبح جب لوگ اٹھتے ہیں تو دو فرشتے اترتے ہیں۔ اُن میں سے ایک رب تعالیٰ کی بارگاہ میں یوں دعا کرتاہے : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !خرچ کرنے والے کوبدلہ عطا فرما۔ ‘‘ دوسرا یوں دعا کرتا ہے : ’’ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !روکنے والے کا مال ضائع فرما۔ ‘‘

شرح حدیث

پوری حدیث مبارکہ:“ دلیلُ الفالحین “ میں ہے کہ “ علّامہ ابنِ حجر عسقلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : حضرت سَیِّدُنَا ابودَرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے : جب سُورج طلوع ہوتا تو اُس کے کناروں کے ساتھ دو فرشتے ہوتے ہیں ، بلند آوا زسے صَدا لگاتے ہیں ، سِوائے جن واِنس کے ساری مخلوق اُن کی آواز سنتی ہے ، وہ کہتے ہیں : ’’اے لوگو!اپنے رب کی طرف آؤ! بےشک ! وہ قلیل جوکافی ہو اُس کثیر سے بہتر ہے جوغفلت میں مبتلا کر دے ۔ پھر شام کو یہ کہتے ہیں : اِلٰہی خرچ کرنے والے کو بدلہ عطا فرما اور کنجوس کا مال ہلاک فرما ۔ ‘‘( )کنجوس اورسخی کا مال:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث مذکور میں سخی کے لئے فرشتے کی دعا اور کنجوس کے لئے بددُعا کا بیان ہے اوریہ حقیقت ہےکہ جو خوش نصیب راہِ خدا میں خرچ کرتے ہیں اُن کا مال بڑھتا ہی رہتا ہے اور کنجوس کا مال بے فائدہ ہی رہتا ہے ، اگرچہ وہ اپنے زُعمِ فاسِد میں مال بڑھتا ہوا محسوس کرتا ہے لیکن وہ مال اُس کے کسی کام کا نہیں ، نہ اپنے اوپر خرچ کر سکتا ہے ، نہ دوسروں پر لہٰذا اُس کا مال نہ ہونے کے برابر ہے ۔فرشتوں کی آمین کے ساتھ آمین:اِس حدیث میں واجبات میں خرچ کرنے پر اُبھارا گیا ہے جیسا کہ اَہل وعیال پر خرچ کرنا ، صلہ رحمی کرنا وغیرہ اور اِس ترتیب میں نفلی و فرض صدقات بھی شامل ہیں ۔ یعنی اِن اُمور میں خرچ کرنے والوں کے لئے فرشتےدعا کرتے ہیں اور فرشتوں کی دُعا مقبول ہےاور حدیث مذکور اِس فرمانِ خداوندی کے مطابق ہے : )وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗۚ-((پ۲۲ ، سبا : ۳۹) (ترجمۂ کنزالایمان : اور جو چیزتم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اُس کے بدلے اور دے گا۔ )اِسی طرح اِس فرمانِ نبوی کے مِصداق ہے : “ اےا بنِ آدم !تو خرچ کر ، تجھ پر خرچ کیا جائے گا ۔ “ ( )
خرچ کرنے والے کا بدلہ مبہم کیوں؟مذکورہ حدیثِ پاک میں اِس بات کا بیان ہوا کہ فرشتہ خرچ کرنے والے کے لیے بدلے کی دعا کرتا ہے لیکن یہاں بدلے کا ذکر نہیں کیا گیا کہ بدلہ کیا ملتا ہے ؟یہ بات مُبہم ہے۔ علامہ ابنِ حجر عسقلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’اِسے مبہم لانا ہی اولیٰ ہے تاکہ یہ ثواب اور مال دونوں کو شامل ہو کیونکہ بہت سے خرچ کرنے والے مالی بدلہ ملنے سے پہلے دنیا سے رُخصت ہوجاتے ہیں تو اُن کا بدلہ آخرت میں ملے گا یا پھر بقدرِ خرچ اُن سے تکلیف دُور کر دی جائے گی۔ ‘‘( )کنجوس کے مال کی ہلاکت کا معنٰی:مذکورہ حدیثِ پاک میں یہ بھی بیان ہوا کہ دوسرا فرشتہ کنجوس کے مال کی ہلاکت کی دعا کرتا ہے۔ دلیل الفالحین میں ہے : ’’اِس ہلاکت سےمرادمال یا جان کی ہلاکت ہے یعنی کنجوس دیگر کاموں میں وقت ضائع کرکے نیک اَعمال سےمحروم ہوجاتا ہے۔ ‘‘( )
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان نے جو وضاحت فرمائی اُس کا خلاصہ کچھ یوں ہے : ’’سخی کے لیے دعا اور کنجوس کے لیے بددعا روزانہ فرشتوں کے منہ سے نکلتی ہے ، جو یقیناً قبول ہے۔ خیال رہے کہلفظ “ خَلَف “ مطلقاًعِوض کو کہتے ہیں دُنیاوی ہو یا اُخروی ، حِسی ہو یا معنوی۔ مگر “ تَلَف “ دُنیوی اور حِسّی بربادی کو کہا جاتا ہے۔ تجربہ دِن رات ہورہا ہے کہ کنجوس کا مال حکیم ، ڈاکٹر ، وکیل یا نالائق اولاد برباد کرتی ہے۔ ‘‘( )
پسندیدہ خرچ کیا ہے؟دلیل الفالحین میں ہے : “ علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں کہ پسندیدہ خرچ وہ ہے جو نیک

کاموں میں ، اَہل وعیال اور مہمانوں اور دیگر نفلی کاموں میں خرچ ہو ۔ علامہ قرطبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : یہ خرچ واجبات ومستحبات سب کو شامل ہےلیکن مستحبات سے رُکنے والا بد دعا کا مستحق نہیں سوائے یہ کہ بخلِ مذموم اُس پر غالب آ جائے اور واجبات کی ادائیگی میں اُس کا نفس تنگی محسوس کرے۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’سخاوت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)کنجوسی ترک کرکے سخاوت کو اپنائیے کہ سخی کے لئے فرشتے دُعا کرتے ہیں اور کنجوس کے لئے بددُعا ۔
(2)حقوقِ واجبہ ادا نہ کرنا یا اُن کی ادائیگی اپنے اوپر بہت گراں سمجھنا کنجوسی کی علامت ہے۔
(3)کنجوسی میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، بلکہ کنجوس کا مال خود اُس کے اپنے کام بھی نہیں آتا ، دوسرے لوگ لے جاتے ہیں وہ خود اُس سے فائدہ نہیں اُٹھاپاتا ۔
(4)بہترین خرچ وہ ہے جو نیک کاموں ، اَہل وعیال ، مہمانوں اور دیگر ثواب والے کاموں میں ہو۔
(5)وہ قلیل مال جو اِنسان کو کافی ہو اُس کثیر مال سے بہتر ہے جو اِنسان کی غفلت کا سبب بنے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کنجوسی جیسی نحوست سے پاک فرمائے اور سخاوت جیسی نعمت سے مالامال فرمائے ، نیز ہمیں اپنی راہ میں دِل کھول کر خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 295