- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 3
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ایک دیناروہ ہےجوتوراہِ خدامیں خرچ کرےاور ایک وہ ہے جس کے
ذریعے غلام آزادکرائے ، ایک وہ جسے تو مسکین پر صدقہ کرے اورایک وہ ہےجسے تو اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے تو اِن میں سب سے زیادہ فضیلت والا وہ ہے جسے تو اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے۔ ‘‘
عَنْ اَبِي هُرَ يْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دِيْنَارٌ اَنْفَقْتَهُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ وَدِيْنَارٌاَنْفَقْتَهُ فِيْ رَقَبَةٍ وَدِيْنَارٌتَصَدَّقْتَ بِهِ عَلَى مِسْكِينٍ وَدِيْنَارٌاَنْفَقْتَهُ عَلَى اَهْلِكَ اَعْظَمُهَا اَجْرًاالَّذِي اَنْفَقْتَهُ عَلٰی اَهْلِكَ.( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 289 ، اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے غلام حضرت سیدنا ابو عبداللہ ، ثوبان بن بجدد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جنہیں ابوعبد الرحمن بھی کہا جاتا ہے ، اِن سے روایت ہےکہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’بندہ جو دینار خرچ کرتاہے اُن میں افضل وہ ہے جسے اپنے عیال پر خرچ کرے اور وہ جسے اپنے راہِ خدا کے جانور پر خرچ کرےاور وہ جسے اپنے راہ ِخدا کے ساتھیوں پر خرچ کرے۔ ‘‘
عَنْ اَبِي عَبْدِاللهِ ويُقَالُ لَهُ اَبُوْ عَبْدِالرَّحمٰنِِ ثَوبَانُ بْنُ بُجْدُد مَوْلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى عِيَالِهِ وَدِيْنَارٌ
يُنْفقُهُ عَلَى دَابَّتِهِ في سَبِيْلِ الله وَدِيْنَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى اَصْحَابهِ في سَبيلِ اللهِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 290 ، اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمّ سلمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں : ’’میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی : یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !میں ابو سلمہ کی اولادپر خرچ کروں تو کیا مجھے اجر ملے گا ، میں اُنہیں اِدھراُدھر نہیں چھوڑسکتی وہ میری اولاد ہیں۔ ‘‘فرمایا : ’’ہاں !جوتو اُن پر خرچ کرے گی تجھے اُس کااجر ملے گا۔ ‘‘
عَنْ اُمِّ سَلمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُول الله هَلْ لِي اَجْرٌ فِي بَنِي اَبي سَلَمَة اَنْ اُنْفِقَ عَلَيْهِمْ
وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هٰكَذَا وَهٰكَذَا اِنَّمَا هُمْ بَنِيّ؟ فَقَالَ : نَعَمْ! لَكِ اَجْرُ مَا اَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 291 ، اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
ریاض الصالحین کے نیت کے باب میں مذکور ایک طویل حدیث پاک میں حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِن سے ارشاد فرمایا : ’’تم رضائے اِلٰہی کے لئے جو کچھ بھی خرچ کرو گے تمہیں اُس کااجر دیاجائے گا یہاں تک کہ جولقمہ تم اپنی زوجہ کو کھلاتے ہو اُس پر بھی اَجر دیا جائے گا۔ ‘‘
عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبي وَقَّاصِِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ في حَدِ يْثِهِ الطَّوِيْلِ الَّذِي قَدَّمْنَاهُ فِي اَوَّلِ الْكِتَابِ فِي بَابِ النِّيَةِ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : وَ اِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللهِ اِلَّا اُجِرْتَ بِهَا حَتّٰى مَا تَجْعَلُ فِيْ في امْرَاَتِكَ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 292 ، اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
حضرتِ سَیِّدُناابو مَسعود بدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’جب کوئی ثواب کی اُمید رکھتے ہوئے اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے تو وہ اُس کے لئے صدقہ ہے ۔ ‘‘
وَعَنْ اَبِي مَسْعُوْدِ الْبَدْرِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِذَا اَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلٰی اَهْلِهِ نَفَقَةً يَحْتَسِبُهَا فَهِيَ لَهُ صَدَقَةٌ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 293 ، اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عَمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مَروی ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سُلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا : ’’آدمی کے گناہگار ہونے کے لئے یہی بات کافی ہےکہ وہ اُن کے حقوق ضائع کر دے جن کے رِزق کا یہ کفیل ہے۔ ‘‘ اور امام مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی صحیح میں اِس کے ہم معنی یہ روایت بیان کی کہ ’’آدمی کے گناہ کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے غلاموں کی
خوراک روک دے ۔ ‘‘
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَفَى بِالْمَرْءِ اِثْمًا اَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوْتُ. ( )وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي صَحِيْحِهِ بِمَعْنَاهُ قَالَ : كَفَى بِالمَرْءِ اِثْمًااَنْ يحْبِسَ عَمَّنْ يَّمْلِكُ قُوتَهُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 294 ، اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ہر صبح جب لوگ اٹھتے ہیں تو دو فرشتے اترتے ہیں۔ اُن میں سے ایک رب تعالیٰ کی بارگاہ میں یوں دعا کرتاہے : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !خرچ کرنے والے کوبدلہ عطا فرما۔ ‘‘ دوسرا یوں دعا کرتا ہے : ’’ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !روکنے والے کا مال ضائع فرما۔ ‘‘
عَنْ اَبِي هُرَ يْرَ ةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيْهِ اِلَّا مَلَكَانِ يَنْزِلَانِ فَيَقُوْلُ اَحَدُهُمَا:اللّٰهُمَّ اَعْطِ مُنْفِقاً خَلَفاً وَيَقُوْلُ الْاٰخَرُ : اللّٰهُمَّ اَعْطِ مُمْسِكاً تَلَفاً. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 295 ، اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’اوپروالا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ خرچ کی ابتدا اپنے اہل وعیال سے کرو ، بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد بھی مالداری رہے ، جو سوال سے بچنا چاہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُسے بچالیتاہےاورجو بے نیازی چاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے بے نیاز کردیتاہے۔ ‘‘
عَنْهُ عَنِِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اَ لْيَدُ الْعُلْيَاخَيْرٌ مِّنَ الْيَدِ السُّفْلٰی وَابْدَاْ بِمَنْ تَعُوْلُ
وَخَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنىً وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللهُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللهُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 296 ، اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان