- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- حدیث نمبر 294
اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 294
جلد 3
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَفَى بِالْمَرْءِ اِثْمًا اَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوْتُ. ( )وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي صَحِيْحِهِ بِمَعْنَاهُ قَالَ : كَفَى بِالمَرْءِ اِثْمًااَنْ يحْبِسَ عَمَّنْ يَّمْلِكُ قُوتَهُ. ( )
عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كفى بالمرء اثما ان يضيع من يقوت. ( )ورواه مسلم في صحيحه بمعناه قال : كفى بالمرء اثماان يحبس عمن يملك قوته. ( )
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عَمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مَروی ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سُلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا : ’’آدمی کے گناہگار ہونے کے لئے یہی بات کافی ہےکہ وہ اُن کے حقوق ضائع کر دے جن کے رِزق کا یہ کفیل ہے۔ ‘‘ اور امام مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی صحیح میں اِس کے ہم معنی یہ روایت بیان کی کہ ’’آدمی کے گناہ کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے غلاموں کی
خوراک روک دے ۔ ‘‘
شرح حدیث
اِسلام نے ہر ایک کے حقوق بیان فرمائے:حدیث مذکور میں اپنے متعلقین کے حقوق کی ادائیگی میں غفلت برتے والوں کے لئے وعید ہے کہ لوگوں کا حق پامال کر کے وہ بہت بڑے گناہ کے مُرتکب ہوتے ہیں جبکہ دِین اِسلام ہر مسلمان کو حقوق کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے ۔ دامنِ اِسلام میں آنے والے ہر شخص کی جان و مال اوراَولاد و عزت بلکہ اُس کی ہر شے محفوظ ہو جاتی ہے ۔ اِسلام نے اپنے ماننے والے ہر شخص پر اُس کے متعلقین کے حقوق کی ادائیگی لازم فرمائی ہے ، چاہے وہ باپ ہو یا بیٹا ، شوہر ہو یا بیوی ، غلام ہو یا آقا ، مالک ہو یا خادِم ، امیر ہو یا غریب ، سب پر حسب حال ایک دوسرے کے حقوق لازم فرمائے بلکہ یہ تو وہ پیارا مذہب ہے کہ جس نے جانوروں کے حقوق کی حفاظت کا بھی حکم دیا اور اُن بے زبانوں پر ظلم کرنے والوں کو سزا کا مستحق ٹھہرایا۔ غلام جن کے حقوق کی پامالی اوراُن پر ظلم وستم کو لوگ اپنا حق سمجھتے تھے اِسلام نے اُن مظلوموں پر شفقت ومہربانی کا حکم دیا اُن کے ساتھ حسن سلوک پر دنیا اورآخرت میں اِنعامات کی بشارت دی ۔حقوق کا ضیاع بھیانک جُرم ہے:“ دلیل الفا لحین “ میں اِس حدیث کی جو شرح کی گئی ہے اُس کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے : “ اپنے زیر ِکفالت لوگوں کے حقوق کا ضیاع ایسا بھیانک جرم ہے کہ اگر کوئی اور گناہ نہ بھی ہوں تب بھی یہی ایک گناہ ہلاکت کے لئے کافی ہے ۔ حدیث کا معنیٰ یہ ہے کہ اپنے ماں باپ ، بیوی بچوں اور دیگر زیرِ کفالت قریبی رشتہ داروں کو چھوڑ کر دوسروں پر خرچ کرے تو گناہ گار ہوگا ۔ ‘‘مسلم شریف میں ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عَمر و رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے خزانچی سے پوچھا : ’’غلاموں کو کھانا دیا ہے یا نہیں؟‘‘ اُس نے نفی میں جواب دیا توفرمایا : جاؤ اور انہیں کھا ناکھلاؤ۔ بے شک میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’آدمی کے گناہ گار ہونے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ اپنے غلاموں کا کھاناروک دے ۔ ‘‘( )
کھانا روک لینا سخت ظلم اور قتل ہے:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان حدیثِ مذکور کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’انسان کے گناہ کے لئے یہی کافی ہے کہ جن کا وہ مالک ہے ان کی خوراک روک لے۔ اس طرح کہ انہیں کھانا نہ دے حتی کہ وہ ہلاک ہوجائیں یہ تو سخت ظلم ہے بلکہ قتل ہے۔ یا اِس طرح کہ انہیں بہت کم روزی دے جس سے وہ دُبلے کمزور ہوجائیں ، دو چار فاقے کرا کر ایک وقت دے دے یا پیٹ بھر کر نہ دے یہ بھی ظلم ہے۔ اِس حکم میں لونڈی ، غلام ، پالے ہوئے جانور سب شامل ہیں۔ بنی اسرائیل کی ایک بوڑھی عورت اِسی لئے دوزخ میں گئی کہ اُس نے پالی ہوئی بلی کو بھوکا باندھے رکھا حتی کہ وہ مَر گئی ۔ آج کل بعض قصائی جانوروں کو کئی کئی وقت بھوکا پیاسا رکھ کر ذبح کرتے ہیں ، یہ سخت ظلم ہے۔ شرعی حکم تو یہ ہے کہ شکم سیر جانور کو بھی ذبح سے پہلے کھانا پانی دکھالو ، کھلالو۔ علماء فرماتے ہیں کہ جانور پر ظلم کرنا انسان پر ظلم کرنے سے زیادہ گناہ ہے کیونکہ انسان تو کسی سے اپنا دکھ درد کہہ سکتا ہے ، بے زبان جانور کس سے کہے؟ اس کا اللہکے سوا فریاد سننے والا کون ہے؟ بھوکے پیاسے اونٹوں نے حضورِ اَنور( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )سے اپنے مالکوں کی شکایت کیں اور سرکار نے اُن کے اعلیٰ انتظامات فرمائے۔ شعر
خلق کے داد رَس سب کے فریاد رَس
کہفِ روزِ مصیبت پہ لاکھوں سلام
اِن اَحادیث سے پتا چلتا ہے کہ حضو رحمۃ للعالمین ہیں۔ آج ہم سگے بھائیوں سے وہ سلوک نہیں کرتے جو سلوک( اس زمانۂ اقدس میں) غلاموں سے کیا جاتا تھا۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’بریلی‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول(1)اپنے زیرِ کفالت لوگوں کے حقوق ضائع کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔
(2)قریبی حق دار رشتہ داروں کو چھوڑ کر دوسروں پر خرچ کرنے والا سزا کا مستحق ہے۔
(3)اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس کی پناہ میں آنے والا ہر شخص اپنی جان و مال ، اہل و عیال بلکہ اپنی سب اَشیاء کو محفوظ کر لیتاہے ۔
(4)اِسلام میں اِنسان تو اِنسان جانوروں کے حقوق کی ادائیگی کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
(5)حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ساری مخلوق کے فریاد رَس ہیں کہ جو آپ کی بارگاہِ بے کَس پناہ میں فریاد کرتا ہے وہ اپنی مُراد پا لیتا ہے ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے زِیر کفالت لوگوں کے حقوق کی اچھی طرح ادائیگی کرنے کی توفیق عطا فرمائے نیز ہمیں حقوق العباد کے ساتھ ساتھ حقوق اللہ کی ادائیگی کی بھی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 294