Main Icon

اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 294

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَفَى بِالْمَرْءِ اِثْمًا اَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوْتُ. ( )وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي صَحِيْحِهِ بِمَعْنَاهُ قَالَ : كَفَى بِالمَرْءِ اِثْمًااَنْ يحْبِسَ عَمَّنْ يَّمْلِكُ قُوتَهُ. ( )

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كفى بالمرء اثما ان يضيع من يقوت. ( )ورواه مسلم في صحيحه بمعناه قال : كفى بالمرء اثماان يحبس عمن يملك قوته. ( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عَمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مَروی ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سُلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا : ’’آدمی کے گناہگار ہونے کے لئے یہی بات کافی ہےکہ وہ اُن کے حقوق ضائع کر دے جن کے رِزق کا یہ کفیل ہے۔ ‘‘ اور امام مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی صحیح میں اِس کے ہم معنی یہ روایت بیان کی کہ ’’آدمی کے گناہ کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے غلاموں کی

خوراک روک دے ۔ ‘‘

شرح حدیث

اِسلام نے ہر ایک کے حقوق بیان فرمائے:حدیث مذکور میں اپنے متعلقین کے حقوق کی ادائیگی میں غفلت برتے والوں کے لئے وعید ہے کہ لوگوں کا حق پامال کر کے وہ بہت بڑے گناہ کے مُرتکب ہوتے ہیں جبکہ دِین اِسلام ہر مسلمان کو حقوق کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے ۔ دامنِ اِسلام میں آنے والے ہر شخص کی جان و مال اوراَولاد و عزت بلکہ اُس کی ہر شے محفوظ ہو جاتی ہے ۔ اِسلام نے اپنے ماننے والے ہر شخص پر اُس کے متعلقین کے حقوق کی ادائیگی لازم فرمائی ہے ، چاہے وہ باپ ہو یا بیٹا ، شوہر ہو یا بیوی ، غلام ہو یا آقا ، مالک ہو یا خادِم ، امیر ہو یا غریب ، سب پر حسب حال ایک دوسرے کے حقوق لازم فرمائے بلکہ یہ تو وہ پیارا مذہب ہے کہ جس نے جانوروں کے حقوق کی حفاظت کا بھی حکم دیا اور اُن بے زبانوں پر ظلم کرنے والوں کو سزا کا مستحق ٹھہرایا۔ غلام جن کے حقوق کی پامالی اوراُن پر ظلم وستم کو لوگ اپنا حق سمجھتے تھے اِسلام نے اُن مظلوموں پر شفقت ومہربانی کا حکم دیا اُن کے ساتھ حسن سلوک پر دنیا اورآخرت میں اِنعامات کی بشارت دی ۔حقوق کا ضیاع بھیانک جُرم ہے:“ دلیل الفا لحین “ میں اِس حدیث کی جو شرح کی گئی ہے اُس کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے : “ اپنے زیر ِکفالت لوگوں کے حقوق کا ضیاع ایسا بھیانک جرم ہے کہ اگر کوئی اور گناہ نہ بھی ہوں تب بھی یہی ایک گناہ ہلاکت کے لئے کافی ہے ۔ حدیث کا معنیٰ یہ ہے کہ اپنے ماں باپ ، بیوی بچوں اور دیگر زیرِ کفالت قریبی رشتہ داروں کو چھوڑ کر دوسروں پر خرچ کرے تو گناہ گار ہوگا ۔ ‘‘مسلم شریف میں ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عَمر و رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے خزانچی سے پوچھا : ’’غلاموں کو کھانا دیا ہے یا نہیں؟‘‘ اُس نے نفی میں جواب دیا توفرمایا : جاؤ اور انہیں کھا ناکھلاؤ۔ بے شک میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’آدمی کے گناہ گار ہونے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ اپنے غلاموں کا کھاناروک دے ۔ ‘‘( )
کھانا روک لینا سخت ظلم اور قتل ہے:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان حدیثِ مذکور کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’انسان کے گناہ کے لئے یہی کافی ہے کہ جن کا وہ مالک ہے ان کی خوراک روک لے۔ اس طرح کہ انہیں کھانا نہ دے حتی کہ وہ ہلاک ہوجائیں یہ تو سخت ظلم ہے بلکہ قتل ہے۔ یا اِس طرح کہ انہیں بہت کم روزی دے جس سے وہ دُبلے کمزور ہوجائیں ، دو چار فاقے کرا کر ایک وقت دے دے یا پیٹ بھر کر نہ دے یہ بھی ظلم ہے۔ اِس حکم میں لونڈی ، غلام ، پالے ہوئے جانور سب شامل ہیں۔ بنی اسرائیل کی ایک بوڑھی عورت اِسی لئے دوزخ میں گئی کہ اُس نے پالی ہوئی بلی کو بھوکا باندھے رکھا حتی کہ وہ مَر گئی ۔ آج کل بعض قصائی جانوروں کو کئی کئی وقت بھوکا پیاسا رکھ کر ذبح کرتے ہیں ، یہ سخت ظلم ہے۔ شرعی حکم تو یہ ہے کہ شکم سیر جانور کو بھی ذبح سے پہلے کھانا پانی دکھالو ، کھلالو۔ علماء فرماتے ہیں کہ جانور پر ظلم کرنا انسان پر ظلم کرنے سے زیادہ گناہ ہے کیونکہ انسان تو کسی سے اپنا دکھ درد کہہ سکتا ہے ، بے زبان جانور کس سے کہے؟ اس کا اللہکے سوا فریاد سننے والا کون ہے؟ بھوکے پیاسے اونٹوں نے حضورِ اَنور( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )سے اپنے مالکوں کی شکایت کیں اور سرکار نے اُن کے اعلیٰ انتظامات فرمائے۔ شعر
خلق کے داد رَس سب کے فریاد رَس
کہفِ روزِ مصیبت پہ لاکھوں سلام
اِن اَحادیث سے پتا چلتا ہے کہ حضو رحمۃ للعالمین ہیں۔ آج ہم سگے بھائیوں سے وہ سلوک نہیں کرتے جو سلوک( اس زمانۂ اقدس میں) غلاموں سے کیا جاتا تھا۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’بریلی‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)اپنے زیرِ کفالت لوگوں کے حقوق ضائع کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔
(2)قریبی حق دار رشتہ داروں کو چھوڑ کر دوسروں پر خرچ کرنے والا سزا کا مستحق ہے۔
(3)اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس کی پناہ میں آنے والا ہر شخص اپنی جان و مال ، اہل و عیال بلکہ اپنی سب اَشیاء کو محفوظ کر لیتاہے ۔
(4)اِسلام میں اِنسان تو اِنسان جانوروں کے حقوق کی ادائیگی کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
(5)حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ساری مخلوق کے فریاد رَس ہیں کہ جو آپ کی بارگاہِ بے کَس پناہ میں فریاد کرتا ہے وہ اپنی مُراد پا لیتا ہے ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے زِیر کفالت لوگوں کے حقوق کی اچھی طرح ادائیگی کرنے کی توفیق عطا فرمائے نیز ہمیں حقوق العباد کے ساتھ ساتھ حقوق اللہ کی ادائیگی کی بھی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 294