Main Icon

باب: جُودوسَخاوت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 552

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ اُمَامَةَ صُدَّيِّ بْنِ عَجْلَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا ابْنَ آدَمَ! اِنَّكَ اَنْ تَبْذُلَ الْفَضْلَ خَيْرٌ لَكَ وَاَنْ تُمْسِكَهُ شَرٌّ لَكَ وَلَا تُلَامُ عَلَى كَفَافٍ وَابْدَاْ بِمَنْ تَعُوْلُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِّنَ الْيَدِ السُّفْلَى.

عن ابي امامة صدي بن عجلان رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا ابن آدم! انك ان تبذل الفضل خير لك وان تمسكه شر لك ولا تلام على كفاف وابدا بمن تعول واليد العليا خير من اليد السفلى.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو اُمامہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”اے ابنِ آدم! تیرا ضرورت سے زائد مال کو (راہِ خدا میں) خرچ کرنا تیرے لیے بہتر ہے اور تیرا اُس مال کو روکے رکھنا تیرے لیے بُرا ہےاور بقدرِ ضرورت روکنے پر تجھے ملامت نہیں کیا جائے گا اور (خرچ کرنے میں) اپنے اہل و عیال سے ابتدا کر اور اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے۔“

شرح حدیث

نیا کپڑا پاؤ تو پراناخیرا ت کردو:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیثِ پاک میں ضرورت سے زائد مال کو راہِ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور ضرورت سے زائد مال جمع کرنے کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ مُفَسِّرِ شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”اپنی ضروریات سے بچا ہوا مال خیرات کردینا خود تیرے لیے ہی مفید ہے کہ اس سے تیرا کوئی کام نہ رُکے گا اور تجھے دنیا و آخرت میں عوض مل جائے گا اور اسے روکے رکھنا خود تیرے لیے ہی بُرا ہے کیونکہ وہ چیز سڑ، گل یا اور طرح ضائع ہوجائے گی اور تو ثواب سے محروم ہوجائے گا اسی لیے حکم ہے کہ نیا کپڑا پاؤ تو پرانا بیکار کپڑا خیرات کردو نیا جوتا رب تعالیٰ دے تو پرانا جوتا جو تمہاری ضرورت سے بچا ہے کسی فقیر کو دے دو کہ تمہارے گھر کا کوڑا نکل جائے گا اور اس کا بھلا ہو جائے گا۔(حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: ”بقدرِ ضرورت روکنے پر تجھے ملامت نہیں کیا جائے گا اور خرچ کرنے میں اپنے اہل و عیال سے ابتداء کر۔“) اس میں دو حکم بیان ہوگئے: ایک یہ کہ جو مال اس وقت تو زائد ہے کل ضرورت پیش آئے گی اسے جمع رکھ لو آج نفلی صدقے دے کر کل خود بھیک نہ مانگو۔دوسرے یہ کہ خیرات پہلے اپنے عزیز غریبوں کو دو پھر اجنبیوں کو کیونکہ عزیزوں کو دینے میں صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی ۔“اوپر والے اور نچلے ہاتھ سے کیا مراد ہے؟عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں: ”حدیثِ پاک میں اوپر والے ہاتھ سے دینے والا اور نچلے ہاتھ سے مانگنے والا مراد ہے۔ دینے والا اپنے ہاتھ سے مال نکالنے کے سبب فضیلت والا ہو جاتا ہے اور لینے والا مال لینے کے سبب ناقص کیونکہ غنی کچھ مال دینے کے سبباللہ عَزَّ وَجَلَّکا قُرب حاصل کرتا ہے اور فقر کی جانب بڑھتا ہے جبکہ فقیر کچھ مال لینے کی وجہ سے فقر سے غنا کی طرف بڑھتا ہے جس کی وجہ سے اس کی حالت میں نقص پیدا ہو جاتا ہے اور یہی چیز اس بات پر بہت بڑی دلیل ہے کہ صبر کرنے والا فقیر شکر کرنے والے غنی سے افضل ہے۔“( )مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”اوپر والے ہاتھ سے مراد دینے والا ہے اور نیچے والے سے مانگ کر لینے والا،خواہ دینے والا نذرانہ کے طور پر نیچا ہاتھ کرکے ہی دے اور لینے والا اوپر ہاتھ کرکے ہی اُٹھائے مگر پھر بھی دینے والا ہی اونچا ہے،یہاں دینے اور لینے سے مراد بھیک دینا اور لینا ہے،اولاد کا ماں باپ کو دینا،مریدِ صادق کا اپنے شیخِ کامل کی خدمت میں کچھ پیش کرنا،انصار کا حضورِ انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی بارگاہ میں نذرانے پیش کرنا اس حکم سے علیحدہ ہیں،اگر ہماری کھالوں کے جوتے بنیں اور رشتہ ٔجان کے تسمے اور حضورِ انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّماسے استعمال فرمائیں تو ان کے حق کا کروڑواں حصہ ادا نہ ہو۔اس حدیث سے بعض لوگ کہتے ہیں کہ غَنا فقر سے بہتر ہے اور غنی شاکر فقیر صابر سے افضل مگر حق یہ ہے کہ فقیر صابر غنی شاکر سے افضل ہے۔ہماری اس تقریر سے یہ حدیث غنی کے افضل ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتی کیونکہ یہاں بھکاری فقیر کا ذکر ہے نہ کہ صابر کا۔“مدنی گلدستہ’’خیرات ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) ضرورت سے بچا ہوا مال صدقہ کردینا بہتر ہے کہ آخرت میں اس کا اچھا عوض ملے گا۔
(2) ضرورت سے زائد مال جمع کرکے رکھنا نقصان کا باعث ہے کیونکہ یہ مال تو کسی نہ کسی طرح ختم ہو جائے گا اور ثواب سے بھی محروم رہے گا۔
(3) جو مال فی الحال ضرورت سے زائد ہے لیکن بعد میں اس کی ضرورت ہوگی تو ایسا مال جمع کرنے میں حرج نہیں۔
(4) خیرات کرنے میں سب سے پہلے اپنے اہل و عیال اور رشتہ داروں کو دے پھر اجنبیوں کو۔
(5) عطا کرنے والا لینے والے سے بہتر ہے کیونکہ وہ مال دے کر
اللہ عَزَّ وَجَلَّکا قُرب حاصل کرتا ہے اور فقر کی جانب قدم بڑھاتا ہے جبکہ لینے والا مال لے کر فقر سے غنا کی طرف جاتا ہے اور فقر غنا سے افضل ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں ضرورت سے زائد مال جمع کرنے سے محفوظ فرمائے اور خوب صدقہ خیرات کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 552