Main Icon

باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 749

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَأْكُلُ بِثَلاثِ اَصَابِعَ فاِذَا فَرَغَ لَعِقَهَا.

عن كعب بن مالك رضي الله عنه قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يأكل بثلاث اصابع فاذا فرغ لعقها.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا کَعْب بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”میں نے دیکھا کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتین اُنگلیوں سے کھانا تناول فرمارہے ہیں اورکھانےسے فراغت کے بعدآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی مبارک انگلیاں چاٹ لیں۔“

شرح حدیث

بِلا ضرورت تین سے زائد اُنگلیاں استعمال نہ کریں:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناِس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:”یعنی روٹی کا لقمہ تین انگلیوں سے کھاتے تھے۔ انگوٹھا،کلمہ کی انگلی، بیچ کی انگلی۔سنت یہ ہی ہے کہ روٹی ان تینوں انگلیوں سے ہی کھائے، بلاضرورت زیادہ انگلیاں استعمال نہ کرے،چاول تو بغیر پانچ انگلیوں کے کھائے جاسکتے ہی نہیں اس لیے پانچوں انگلیوں سے ان کا لقمہ بنایا جائے۔“”جن روایات میں پانچ انگلیوں سے کھانے کا ذکر آیا ہے وہاں یا تو مائع (پتلی) چیز کھانا مراد ہے یا ایسا کبھی کبھی ہواجوکہ بیانِ جواز کے لئے تھا ورنہ تین انگلیوں سے ہی کھانے کی عادتِ مبارکہ تھی۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 749