Main Icon

باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 754

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ سَعِيْدِ بْنِ الْحَارثِ اَنَّه سَاَلَ جَابِراً رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْوُضُوْ ءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ فقال: لَا، قَدْ كُنَّا زَمَنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَجِدُ مِثْلَ ذٰلِكَ الطَّعَامِ اِلَّا قَلِيْلًا فَاِذَا نَحْنُ وَجَدْنَاهُ لَمْ يَكُنْ لَنَا مَنَادِيلُ اِلّا اَكُفَّنَا وَسَوَاعِدَنَا وَاَقْدَامَنَا ثُمَّ نُصَلِّيْ وَلَا نَتَوَضَّأُ.

عن سعيد بن الحارث انه سال جابرا رضي الله عنه عن الوضو ء مما مست النار فقال: لا، قد كنا زمن النبي صلى الله عليه وسلم لا نجد مثل ذلك الطعام الا قليلا فاذا نحن وجدناه لم يكن لنا مناديل الا اكفنا وسواعدنا واقدامنا ثم نصلي ولا نتوضأ.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدناسعید بن حارثرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سَیِّدُناجابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے پوچھا:”کیاآگ پر پکائی گئی چیز کھانے کے بعد وضو ضروری ہے؟“فرمایا :’’نہیں ! ہم حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانے میں اِس قسم کا (یعنی آگ پر پکاہوا)کھانا کم ہی پاتے تھے، جب کبھی ایساکھانا میسر آتا تو رُومال نہ پاتے تھے بلکہ ہتھیلیوں، پنڈلیوں اور قدموں پر (ہاتھ)مل لیتے،پھرنماز پڑھ لیتے اور وضو نہیں کرتے تھے۔“

شرح حدیث

پنڈلیوں اور قدموں سے ہاتھ پونچھنے کی وجہ:فقیہ اعظم، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیاس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:”پانی کی قلت کی وجہ سے ایسا کیا کرتے تھے نیز اُس عہد میں کپڑے کی بھی کمی تھی، عام طور پر لوگ رومال نہیں رکھتے تھے اور آج جبکہ پانی کی بھی فراوانی ہےاور کپڑے کی بھی تو مستحب یہ ہے کہ (چاٹنے کے بعد) ہاتھ دھولیا جائے اور کپڑے سے پونچھ لیا جائے اس لئے کہ اس میں صفائی زیادہ ہے۔“کھانا کھا کر ہاتھ منہ دھونا مستحب ہے:کھانا کھا کر ہاتھ منہ دھونا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے۔چنانچہمُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمفتی اَحمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”مطلب یہ ہے کہ آگ کی پکی چیزکھاکر ہاتھ دھونا اور کلی کرنا بہتر ہے۔پھل فروٹ کھانے کے بعد اِس کی ضرورت نہیں،نیز ایک بارحضورعلیہ السَّلاَمنے گوشت کھا کر ہاتھ دھوئے،کلی کی اور فرمایا آگ کی پکی چیز کا وضو یہ ہے،اس صورت میں یہ حدیث منسوخ نہیں،کھانا کھا کر ہاتھ دھونا مستحب ہے۔“حدیث پاک میں ہے:’’وضو نہیں کرتے تھے۔‘‘یعنی (نہ تو کھانے والا وضو کرتے تھے کہ)دونوں ہاتھوں کو دھوتےاور نہ ہی وضو شرعی (یعنی نماز والاوضو)کرتے تھے۔‘‘پکے ہوئے کھانوں سے پرہیز:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیاِس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:”صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانعموماً پکے ہوئے کھانوں سے پرہیز کیا کرتے تھے (اورکھجور وپانی پر ہی گزارہ کر تے)اورنفس کی لذتوں سے اِعراض کر کے فقط اِس کے واجبی حقوق ہی ادا کرتے تھے۔“رُوح کی موت:آہ!صدکروڑآہ!ہمارے زمانے میں فوڈ کلچرکو عام کیا جارہا ہے اور نہ صرف پکے ہوئے کھانوں کی بھرمار ہے بلکہ اعلی ٰسطحی مرغن کھانے عام ہوتے جارہے ہیں اور اب تو گھر کے پکے ہوئے کھانوں کو بھی کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی بلکہ ہوٹلوں کے فاسٹ فوڈ (تیکھےکھانوں) کی طرف دُوردراز کے سفر کی صعوبتیں جھیل کرجایا جاتا ہے۔ مزید برآں اب تو زیادہ کھانا کھانے کےمقابلے بھی ہوا کرتے ہیں۔ہمیں یاد نہیں کہ پوری اِسلامی تاریخ میں کہیں بھی کبھی بھی زیادہ کھانا کھانے کی تعریف کی گئی ہو بلکہ اسکی مذمت ونقصانات ہی بیان ہوئے ہیں۔یاد رہے کہ اگرچہ مذکورہ قسم کے کھانے کھانا شرعاً جائز ہے لیکن اِن میں اِنہماک وکثرت شریعت وطب دونوں کی رُو سے اچھی نہیں۔اِسلام میں فاقہ کشوں اور روزہ رکھنے والوں نیز کم کھانے والوں کی فضیلت تو ہے لیکن زیادہ کھانے کا مقابلہ کرنے والوں کی کوئی فضیلت نہیں بلکہ مذمت ہے۔ آجکل نئی نئی ڈشیں کھانے پر فخر کیا جاتا ہےلیکن افسوس بزرگوں کے واقعات تو بالکل اِسکے برعکس ہیں۔مثلاً: *حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماختیاری طور پر بھوک برداشت فرماتے، آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفاتِ ظاہری تک اہلِ بیتِ اطہارعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے کبھی جو کی روٹی بھی دو روز برابر نہ کھائی بلکہ پورا پورا مہینہ گزر جاتا تھا دولت سرائے اَقدس میں آگ نہ جلتی، چند کھجوروں اور پانی پر گزر بسر کی جاتی،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکئی راتیں مسلسل فاقہ فرماتے،*صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےحضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں بھوک کی شکایت کی اوراپنے پیٹوں پر پتھر بندھا ہوا دکھایا توآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے شکمِ اطہر سے کپڑا اٹھایا اس پر دو پتھر بندھے ہوئے تھے،* حضرت موسٰیعَلَیْہِ السَّلامجب مَدیَن کے کنویں پر تشریف لائے تو کمزوری کے باعث ترکاری کی سبزی آپعَلَیْہِ السَّلامکے پیٹ مبارک کے باہر سے نظر آتی تھی اور جن چالیس دنوں میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے ہم کلام ہونے کا شرف پایا آپعَلَیْہِ السَّلامنے کچھ نہیں کھایا،* حضرت داودعَلَیْہِ السَّلامجو شریف کی روٹی نمک کے ساتھ تناول فرماتے،*حضرت عیسٰیعَلَیْہِ السَّلامدرخت کے پتے تناول فرماتے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!خوب ڈَٹ کر کھا لینےکی عادت بنانا باعث غفلت ہے ،جب بھی کھائیں بھوک کے تین حصے کرلیں ایک حصہ غذا کےلئے ، ایک حصہ پانی کے لئے اور ایک حصہ ہوا کے لئے۔ بھوک کے فضائل اور پیٹ بھرنے کے نقصانات جاننے کے لئے شیخ طریقت امیر اہل سنت
دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی مایہ ناز تالیف”فیضانِ سنت“کے باب ”آداب طعام“ اور”پیٹ کا قفل مدینہ“ کا مطالعہ انتہائی مفید رہے گااِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ۔مدنی گلدستہ’’حبیب خدا ‘‘کے 7 حروف کی نِسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(19) کھانا کھانے کے بعد انگلیاں اور برتن چاٹ لینا سنت ہے۔
(20) تین انگلیوں سے کھانا سنت ہے اورضرورتا ًچار یا پانچ انگلیاں بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔
(21) گِرا ہوا لقمہ اٹھا کر صاف کرکے کھالینا چاہیے۔
(22) خوب ڈٹ کر کھانے کی عادت بنانے سےغفلت پیدا ہوتی ہے۔
(23) کھانے کے کسی بھی حصے میں برکت ہو سکتی ہے لہٰذا کھانے کا کوئی جزء بھی ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
(24) انگلیاں چاٹنے کے بعد ہی رومال وغیرہ سے صاف کی جائیں تاکہ انگلیوں پر لگاہواکھانا ضائع نہ ہو۔
(25) شیطان انسان کو بہکانے کی کوشش کرتا ہے،ہر کام سنت کے مطابق کر کے شیطان کو رُسوا کرنا چاہیے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اَدائیں اَپنانے اور ہر کام سنت کے مطابق کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 754