Main Icon

باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 752

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ اَحَدَكُمْ عِنْدَ كُلِّ شَيْءٍ مِنْ شَأْنِهِ، حَتّٰى يَحْضُرَهُ عِندَ طعَامِهِ، فَاِذا سَقَطَتْ لُقْمةُ اَحَدِكم فَليَأْخُذْهَا فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِن اَذًى، ثُمَّ لِيَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، فَاِذا فَرغَ فَلْيَلْعَقْ اَصابِعَهُ فَاِنَّه لَا يَدْرِيْ فِيْ اَيِّ طَعَامِهِ الْبرَكَةُ.

عن جابر رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:ان الشيطان يحضر احدكم عند كل شيء من شأنه، حتى يحضره عند طعامه، فاذا سقطت لقمة احدكم فليأخذها فليمط ما كان بها من اذى، ثم ليأكلها ولا يدعها للشيطان، فاذا فرغ فليلعق اصابعه فانه لا يدري في اي طعامه البركة.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا :”بے شک!شیطان ہر کام کے وقت تمہارے پاس آجاتا ہے یہاں تک کہ کھانے کے وقت بھی، لہٰذا جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے اٹھا کر صاف کر کے کھالے، شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور جب کھانے سے فارغ ہو تو اپنی انگلیاں چاٹ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔“

شرح حدیث

برکت سمیٹ لیجئے:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:”انسان نہیں جانتا کہ برکت کھانے کے کس حصے میں ہے؟ جو کھالیا اُس میں یاجو انگلیوں پر باقی ہے اس میں یا جو برتن پر لگا رہ گیا ہے اس میں یا پھر جو گر گیا اس میں، لہٰذا چاہئے کہ سب کھالے تاکہ برکت حاصل ہو جائے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 752