Main Icon

باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 751

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا وَقَعَتْ لُقْمَةُ اَحَدِكُمْ، فَلْيَأْخُذْهَا فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ اَذًى وَلْيَأْ كُلْهَا، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، وَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيْلِ حَتّٰى يَلْعَقَ اَصَابِعَهُ، فَاِنَّهُ لَا يَدْرِيْ فِي اَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ.

عن جابر رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: اذا وقعت لقمة احدكم، فليأخذها فليمط ما كان بها من اذى وليأ كلها، ولا يدعها للشيطان، ولا يمسح يده بالمنديل حتى يلعق اصابعه، فانه لا يدري في اي طعامه البركة.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا:” جب کسی کا لقمہ گر جائےتو اُسے اُٹھا کر صاف کرکے کھالے، شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور جب تک اُنگلیاں چاٹ نہ لےرُومال سے صاف نہ کرے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ برکت کھانے کے کس حصے میں ہے۔“

شرح حدیث

لقمہ گر جائے تو۔۔۔:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمفتی اَحمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں:”اگر گرے ہوئے لقمہ میں مٹی وغیرہ پاک چیز لگ گئی ہے تو اسے صاف کرکے لقمہ کھائے یوں ہی نہ چھوڑ دے کہ اس میں مال ضائع کرنا ہے اور ربّ تعالیٰ کی نعمت کی ناقدری ہےکہ اس چھوڑے ہوئے لقمہ کو یا تو شیطان کھا لے گا یا اسکے ضائع ہونے پر خوش ہوگا، دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا کچھ بھی نہ چھوڑے سب ہی چاٹ لے۔مذکورہ حدیث میں اگرچہ لقمہ گر جانے کا ذکر ہے لیکن یہ حکم عام ہے یعنی اگر کوئی بھی کھانے کی چیز گر جائے تو یہی عمل کیا جائے جو اوپر مذکور ہوا، مزید یہ بھی یاد رہے کہ یہ اسی صورت میں ہے کہ لقمہ صاف کرنا ممکن ہو اگر مٹی صاف نہ ہوسکے تو کھانے کی اجازت نہیں کہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔گراہوا کھانا کھا لینے کے فضائل:(1)کھانے کے دَوران اگر کوئی دانہ یا لقمہ وغيرہ گر جائے تو اُٹھاکرپُونچھ کر کھالیجئے کہ مغفرت کی بِشارت ہے۔(2)حدیثِ پاک میں ہے:” جو کھانے کے گِرے ہوئے ٹکڑے اُٹھا کر کھائے وہ فَرَاخی (یعنی خوش حالی) کی زندگی گزارتا ہے اور اس کی اولاد اور اولاد کی اولاد کم عقلی سے محفوظ رہتی ہے۔(3)حُجَّۃُ الْاِسلامحضرتِ سَیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِینَقل فرماتے ہيں :”روٹی کے ٹکڑوں اور ریزوں کو چُن لیجئےاِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّخوش حالی نصیب ہو گی۔بچے صحيح وسلامت اور بے عَیب ہوں گے اور وہ ٹکڑے حُوروں کا مہر بنیں گے۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 751