- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 7
حضرت سَیِّدُنا زید بن ثابترَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”اے لوگو! (نفل )نماز اپنے گھروں میں پڑھو کیونکہ مردکے لئے گھر میں (نفل )نماز پڑھنا افضل ہے سوائے فرائض کے ۔“
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثابتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَلُّوْا ا َيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوْ تِكُمْ فَاِنَّ اَفْضَلَ الصَّلَاةِ صَلَاةُ الْمَرْءِ في بَيْتِهِ اِلَّا الْمَكْتُوْبَةَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1128 ، باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”اپنی کچھ نمازیں گھروں میں بھی پڑھو اور گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔“
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اجْعَلُوْا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوْ تِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوْهَا قُبُورًا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1129 ، باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
حضرت سَیِّدُنا جابررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضورِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنی مسجد میں (فرض)نماز پڑھ لےتو وہ اپنی نماز کا کچھ حصہ اپنے گھر کے لئے بھی رکھے کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کی نماز کی برکت سے اس کے گھر میں خیروبرکت رکھے گا۔“
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِذَا قَضٰى اَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ فِيْ مَسْجِدِهِ فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيْبًا مِّنْ صَلَاتِهِ فَاِنَّ اللهَ جَاعِلٌ في بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1130 ، باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
حضرت عُمربِن عطاءرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”حضرت سَیِّدُنا نافِع بِن جبیررَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہنے انہیں نَمِرکے بھانجےحضرت سَیِّدُنا سائب بن یزیدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس وہ بات پوچھنے کے لئے بھیجا جو حضرت سَیِّدُنا امیرِ معاویہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے ان کی نماز میں دیکھی تھی۔تو انہوں نے فرمایا (وہ بات یہ تھی )کہ میں نے حضرت سیدنا امیر مُعاویہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکے ساتھ مقصورہ میں نمازِ جمعہ ادا کی ،امام کے سلام پھیرنے کے بعد میں اسی جگہ کھڑا ہوگیا اوربقیہ نماز ادا کی توحضرت امیرِ معاویہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے مجھے اپنے گھر بلا کر فرمایا: آئندہ ایسا نہ کرنا، جب تم نمازِ جمعہ ادا کر لو تو جگہ تبدیل کئے بغیر یا کوئی بات کئے بغیراسے کسی اور نماز سے نہ ملاؤ کیونکہ ہمیں رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےحکم دیا کہ کلا م کئے بغیر یاجگہ تبدیل کئے بغیر نماز کو نماز سے نہ ملائیں۔“
عَنْ عُمَرَ بْنِ عَطَاءٍاَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ اَرْسَلَهُ اِلَى السَّائِبِ ابْنِ اُخْتِ نَمِرٍ يَسْاَلُهُ عَنْ شَيْءٍرَاٰهُ مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ:نَعَمْ صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُوْرَةِ فَلَمَّا سَلَّمَ الْاِمَامُ قُمْتُ في مَقَامِيْ فَصَلَّيْتُ فَلَمَّا دَخَلَ اَرْسَلَ اِلَيَّ فَقَالَ: لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ. اِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلاَ تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّى تَتَكَلَّمَ اَوْ تَخْرُجَ فَاِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَمَرَنَا بِذٰلِكَ اَنْ لَّا نُوْ صِلَ صَلَاةً بِصَلَاةٍ حَتّٰى نَـتَكَلَّمَ اَوْ نَخْرُجَ .
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1131 ، باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان