Main Icon

باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 770

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَمْرَو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ اَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:رَاَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا وقَاعِدًا.

عن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده رضي الله عنه قال:رايت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم يشرب قائما وقاعدا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عَمروبن شعیبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُاپنے والد سے وہ اپنےدادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو کھڑے ، بیٹھے دونوں طرح پانی پیتے دیکھا ہے ۔

شرح حدیث

کھڑےہوکرپینے کی وجہ:شیخ عبدالحق محدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتےہیں :’’نبی کریم ، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عادتِ کریمہ بیٹھ کر پینے ہی کی تھی،مگرکبھی کبھی بیانِ جواز کے لئے کھڑے ہو کر بھی پی لیا کرتے تھے۔‘‘عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:’’آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک دو مرتبہ بیانِ جواز کے لئے یا کسی ضرورت کے تحت کھڑےہوکر پانی پیا ورنہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیشہ بیٹھ کر ہی پانی پیتے اور یہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بہت ہی پیاری سنت ہے۔‘‘مرآۃ المناجیح میں ہے:”کھڑے ہوکر پینا ضرورت کے موقعہ پرتھایا زمزم یا وضو کا بچا ہوا پانی کھڑے کھڑے پیا ۔باقی پانی بیٹھ کر پئے یا یہ کھڑے ہوکر پینا بیانِ جوازکے لیے تھابیٹھ کر پینا بیانِ استحباب کے لیے ہےلہٰذا دونوں عمل درست ہی ہیں۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 770