Main Icon

باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 772

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:لَا يَشْرَ بَنَّ اَحَدٌ مِّنْكُمْ قَائِمًا فَمَنْ نَسِيَ فَلْيَسْتَقِيءْ.

عن ابی هريرة رضي الله عنه عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم:لا يشر بن احد منكم قائما فمن نسي فليستقيء.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمَروی ہےکہ حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’ تم میں سے کوئی بھی کھڑے ہوکر نہ پئے ،جو بھول کر پی لے تو قے کر دے ۔ ‘‘

شرح حدیث

عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین اَحْمَد بِنْ مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:محدثین کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامکےنزدیک یہ نہی استحباب پرمحمول ہےاور یہاں اَولیٰ واکمل عمل کی ترغیب ہے ۔ یعنی کھڑے ہو کر پانی پیناخلافِ مستحب ہے،لہٰذا بیٹھ کر پانی پینا چاہیے کہ یہ اَولیٰ واکمل ہے ۔ کھڑے ہوکر پینے سےاَخلاط کو تحریک ملتی ہے جس سے جسم کو نقصان ہوتا ہے اور اس کا علاج قے کرنا ہے،اس لئے قے کا حکم دیا گیا ۔ حدیثِ مذکور میں قے کرنے کا حکم بھولنے والے کے ساتھ خاص نہیں،جان بوجھ کرپینے والے کا بھی یہی حکم ہے بلکہ اس کےلئے تو بدرجہ اَولیٰ ہے۔اِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتےہیں:یہاں قے کرنے کاحکم بطورِوجوب نہیں بلکہ بطریقِ استحباب ہے۔چنانچہ جو کھڑے کھڑے پانی پی لے اسے قے کرنا مستحب ہے واجب نہیں،کیونکہ جب امر کو وجوب پر محمول کرنا مشکل ہو تو استحباب پر محمول کیا جاتا ہے۔اَحادیثِ مبارکہ میں تطبیق:اس باب میں دو طرح کی احادیث آئی ہیں بعض میں کھڑے ہوکر پینے کا ثبوت ہے جبکہ بعض میں کھڑے ہو کر کھانے پینے کی ممانعت کا بیان ہے۔محدثینِ کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامنے ان اَحادیث میں تطبیق بیان فرمائی ہے۔چنانچہ اِرْشَادُا لسَّارِی میں ہے :”کھڑے ہو کر پینے کی ممانعت والی احا دیث میں محدثین کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامکے کئی موقف ہیں۔ سب سےبہتر توجیہ یہ ہے کہ انہیں کراہتِ تنزیہی پرمحمول کیا جائے اور جن احادیث میں کھڑےہو کر پینے کاثبوت ہے انہیں بیانِ جواز کے لئے مانا جائے ۔ یہ بھی کہا گیا ہےکہ کھڑے ہوکر پینے کی ممانعت اس لئے ہےکہ یہ طبّی اعتبار سے مُضِر ہے۔ بیٹھ کر پینے سے پانی بتدریج اعضاء کی طرف منتقل ہوتاہے اس طرح حلق و جگر میں درد کی بیماریوں سے حفاظت رہتی ہے۔جبکہ کھڑے ہو کرپینے کی صورت میں ان بیماریوں میں مبتلا ہونے کا واضح خطرہ موجود ہوتا ہے۔مدنی گلدستہ’’مسجدِقبا‘‘کے7 حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) کھڑے ہو کر پانی پینا مکروہِ تنزیہی ہے،ناجائز وگناہ نہیں البتہ بیٹھ کر پینا اَولیٰ واکمل اورمستحب ہے ۔
(2) حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماورصحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکاکبھی کبھی کھڑے ہوکر پانی پینا بیانِ جواز کے لئے تھا۔
(3) کھانےمیں شمارنہ ہونے والی چیزیں جیسے چنے دانے کھجوروغیرہ چلتے پھرتے کھڑے کھڑےکھا سکتے ہیں۔
(4) جوبغیر کسی عذر کے کھڑے ہوکر پانی پی لے اسے قے کردینے کا حکم استحبابی ہے ۔
(5) بیٹھ کرپانی پیناسنت ہےاس کی برکت سے حلق وجگر کے کئی اَمراض سے حفاظت رہتی ہے۔
(6) آبِ زمزم،وضو کا بچا ہوا پانی اور بزرگوں کاجھوٹاپانی کھڑے ہوکر پینا مستحب ہے۔
(7) جہاں حاجت ہو وہاں اصل مسئلہ و ضاحت کے ساتھ بتادینا چاہیے تاکہ لوگ غلط فہمی میں مبتلا نہ رہیں ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں سنت کے مطابق کھانے اور پینے کی توفیق عطا فرمائی۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 772