Main Icon

باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 495

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِىَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَقَدْ رَاَيْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَجِدُ مِنَ الدَّقَلِ مَا يَمْلَاُ بِهِ بَطْنَهُ.

عن النعمان بن بشير رضى الله عنهما قال: لقد رايت نبيكم صلى الله عليه وسلم وما يجد من الدقل ما يملا به بطنه.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا نعمان بن بشیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:”میں نے تمہارے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواس حال میں دیکھاکہ انہیں ردی کھجوریں بھی پیٹ بھر میسر نہ ہوتیں ۔‘‘

شرح حدیث

دنیا میں رغبت پر توبیخ:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”جب لوگوں نے لذیذکھانے ،مشروبات، دنیوی آسائش اور دیگر خواہشات ترک کرنے میں اپنے پیارے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پیروی نہ کی تو حضرت سیدنا نعمان بن بشیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے انہیں زجر وتوبیخ کرتے ہوئے یہ فرمایاکہ تمہارے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زُہد کا یہ عالَم تھاکہ وہ ردی کھجوریں بھی شکم سیرہوکر نہ کھاتے تھے جبکہ تمہاری حالت اس کے برعکس ہے ۔“ مرآۃ المناجیح میں ہے:”یہ خطاب حضورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی وفات کے بعد صحابہ ٔ کرام و تابعین سے ہے جب کہ مسلمانوں کواللہتعالیٰ نے بڑی فراخی عطا فرمادی تھی خصوصًا عَہدِ فاروقی و عثمانی میں۔مقصد یہ ہے کہ اِس فراخیٔ رزق پراللہتعالیٰ کا شکر کرو یا اعتراضًا فرمایا کہ تم لوگوں نے دنیا کی فراوانی پاکر حضورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا زُہد تقویٰ اور ترکِ دنیا کا طریقہ چھوڑ دیا۔
نوٹ:مزیدوضاحت کے لئے فیضانِ ریاض الصالحین،جلد4،باب55،حدیث473کامطالعہ فرمائیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 495