Main Icon

باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 519

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَسْمَاءَ بنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللہ عَنْهَا قَالَتْ: كانَ كُمُّ قَمِيْصِ رَسُوْلِ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّم اِلَى الرُّصْغِ.

عن اسماء بنت يزيد رضي اللہ عنها قالت: كان كم قميص رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم الى الرصغ.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدَتُنااسماء بنت یزیدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں:”رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قمیص کی آستین کلائی تک تھی۔“

شرح حدیث

مختلف روایات اور ان میں تطبیق:مرقاۃ المفاتیح میں حدیثِ مذکور کے تحت جو شرح بیان کی گئی ہے اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے:”حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قمیص مبارک کی آستین سے متعلق اَحادیث مختلف ہیں، کسی میں کلائی تک آستین کی لمبائی کا ذکر ہے ،کسی میں انگلیوں کے پوروں تک اور کسی میں کلائی سے نیچے تک لمبائی بیان کی گئی ہے۔ ان اَحادیث میں تطبیق اس طرح ہوگی کہ سرکار دوعالَمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس کئی طرح کی قمیصیں تھیں جن کی آستینیں بھی مختلف سائز کی تھیں۔یا پھر کلائی تک لمبائی کی روایات بیان ِ افضلیت کےلئے ہیں اور انگلیوں کے پوروں تک لمبائی والی اَحادیث بیان ِ جواز کےلئے ہیں۔ سنت یہ ہےکہ قمیص کی آستین کلائی کے جوڑ تک ہواور قمیص کے علاوہ دیگر لباس جیسے جُبّہ وغیرہ سنت یہ ہےکہ آستین انگلیوں کے پوروں تک ہو۔“بہارِ شریعت میں ہے:”سنت یہ ہے کہ دامن کی لمبائی آدھی پنڈلی تک ہو اور آستین کی لمبائی زیادہ سے زیادہ انگلیوں کے پوروں تک اور چوڑائی ایک بالشت ہو۔“کلائی تک آستین کی حکمت:دلیل الفالحین میں ہے:”آستین کا کلائی تک ہونے میں حکمت یہ ہے کہ ہاتھوں سے دراز آستین پہننے والےکو اس کی وجہ سے کام کرنے، تیزی سے حرکت کرنے اورکسی چیز کو پکڑنے میں دُشواری ہوتی ہے اورکلائی سے چھوٹی آستین پہننے والا اپنی کلائی کو سردی گرمی سے نہیں بچاسکتا اس لیے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میانہ روی کو اختیار فرمایا کیونکہ سب سے بہتر کام میانہ روی والا ہوتا ہے۔“مدنی گلدستہ’’غوث‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّملباس وغیرہ میں تکلفات سے پرہیز کرتے، جو پہننے کو میسر آجاتا وہی لباس زیب تن فرما لیتے۔
(2) صحابہ ٔکرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناپنے پیارے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مبارک اداؤں کوبغور دیکھتے پھر خود بھی ان پرعمل کرتے اور انہیں دوسروں تک پہنچاتے۔
(3) بہترین کام وہ ہوتا ہے جو میانہ روی سے کیا جائے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّہمیں بھی سنت کے مطابق لباس پہننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 519