Main Icon

باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 504

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہَا قَالَتْ تُوُفِّىَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِىٍّ فِي ثَلاَثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ .

عن عائشة رضی اللہ عنہا قالت توفى رسول الله صلى الله عليه وسلم ودرعه مرهونة عند يهودى في ثلاثين صاعا من شعير .

حدیث ترجمہ

ام المومنین حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں:”جب رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وصال ہواتو اُس وقت آپ کی زِرہ مبارکہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جَوکے عوض گِروی رکھی ہوئی تھی۔“

شرح حدیث

رسولِ خداکا بے مثال زُھد وتقو ی ٰ:حدیثِ مذکور سے معلوم ہواکہ نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدنیوی سہولیات سے بہت دور رہا کرتے تھے ۔فتوحاتِ اسلامیہ کے بعد مسلمانوں کے پاس بہت مال آیا، رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حصے میں بھی کثیر مال آیا لیکن آپ نے کبھی بھی مال جمع نہیں کیا بلکہ راہِ خدا میں خرچ کردیا یہاں تک کہ ایسا وقت آیا کہ آپ کو اپنے گھر والوں کے لیے کھانا خریدنے کے لیے اپنی زِرہ اُدھار رکھوانی پڑی، یہ ہےآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا بے مثال زُھد و تقویٰ۔عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّیْن اَحْمَد بِنْ مُحَمَّد قسطلانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:”معلوم ہواکہ حضورنبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہتمُنکسِرُ الْمِزاجاور دنیا سے بہت بے رغبت تھے،آپعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامچاہتے تو بہت کچھ ما ل واَسباب جمع فرما لیتے مگر آپ نے فقر کو پسند فرمایا۔یہ آ پ کا کرم تھا کہ اپنا مال بھی لوگوں پر خرچ کردیتے ،اپنے لئے کچھ جمع نہ فرماتے،یہاں تک کہ اپنی اور اہلِ خانہ کی ضروریات پوری کرنے کے لئے اپنی زِرَہ رَہن رکھوانی پڑی۔آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عادتِ مبارکہ تھی کہ تنگیٔ معاش پر صبرکرتے اور جو مل جاتا اُس پر قناعت فرماتے ۔“زِرہ گروی رکھوانے کی وجوہات:عمدۃ القاری میں رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے یہودی کے پاس زرہ گروی رکھوانے پر چند سوالات قائم کیے گئے ہیں جن کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ ایسی کیا ضرورت پیش آئی کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواپنی زِرہ ایک یہودی کے پاس رہن رکھوانی پڑی؟آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتواہلِ بیتِ اَطہار کے لئے سال بھر کا راشن رکھوادیا کرتے تھے پھرقرض کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ نیزآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کسی مالدار صحابی سے قرض لینے کے بجائے یہودی سےقرض کیو ں لیا؟ علامہ بدرالدین عینیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِیکی طرف سے دیے گئے جوابات کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ گھر والوں کے لئے کھانے کو کچھ نہ تھا اس لئے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے زرہ گروی رکھ کر راشن ادھارلیا یا پھر بیانِ جواز کے لیے ایسا کیا یعنی یہ بات بتانے کے لئےکہ بوقتِ ضرورت کفار سے لین دَین جائز ہے۔جہاں تک سال بھرکے راشن کی بات ہے توہو سکتا ہے کہ وہ راشن ختم ہوگیا ہواور کھانےکو کچھ نہ بچا ہو۔ایک قول یہ بھی ہے کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس اچانک مہمان آگئے تھےاور گھر میں کوئی چیز کھانےکو نہ تھی اس لیے ادھارلینا پڑا۔ پھر حضرت سیدنا صدیق اکبررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنےیہودی کو قرض کی رقم ادا کر کے وہ زِرہ مبارک واپس لے لی ۔یہودی کے پاس زرہ اس لیے گروی رکھوائی تاکہ کسی کا احسان نہ رہے ۔اگرکسی صحابی سے قرض لیا جاتاتو وہ کبھی بھی قرض کی رقم واپس لینے پر تیار نہ ہوتے اور یوں احسان کی صور ت بنتی اس لئے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاسے اختیار نہ فرمایا۔“ ” اُس وقت اُس یہودی کے علاوہ کسی صحابی کے پاس جَو وغیرہ نہیں تھے کہ ان سے لئے جاتے۔ ایک قول یہ ہے کہ صحابہ ٔ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے نہ تو کوئی چیز گِروی لیتے اور نہ ہی اس کی قیمت کا تقاضا کرتے ( بلکہ بغیر قرض کے ہی آپ کی خدمت کرتے )اس لیے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس یہودی سے قرض لیا تاکہ کسی صحابی پر بوجھ نہ پڑے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 504