Main Icon

باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 512

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا، اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:”قَدْ اَفْلَحَ مَنْ اَسْلَمَ، وَکَانَ رِزْقُہُ كَفَافًا، وَقَنَّعَهُ اللهُ بِمَا آتَاهُ.“

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:”قد افلح من اسلم، وکان رزقہ كفافا، وقنعه الله بما آتاه.“

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:” کامیاب ہے وہ شخص جو اسلام لایا اور اُس کے پاس بقدرِ کفایت رِزق ہو اوراللہ عَزَّوَجَلَّنے اُسے اپنے دئیے پر قناعت عطا فرمائی ہو۔‘‘

شرح حدیث

اِسلام ہرچیز کی بنیاد ہے:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:” کامیابی کے لیے سب سے پہلی چیز اسلام ہےکیونکہ اسلام پر اَعمالِ صالحہ کی قبولیت کا دار و مدار ہےاور مسلمان ہونے سے کامل اِخلاص والا مسلمان ہونامراد ہے۔بقدرِ کفایت رِزق سے مراد یہ ہے کہ نہ ضرورت سے کم ہو نہ زیادہ۔ یہ حدیث اِس بات کی دلیل ہے کہ بقدرِ کفایت رِزق فَقر اورغنا دونوں سے افضل ہے۔بقدرِ کفایت رزق اور اس پر قناعت،اِن دو باتوں کو ایک ساتھ ذکرکرنے میں اِس طرف اِشارہ ہے کہ یہ چیزیں طبیعتِ انسانی پر دشوار ہیں، اِن کے حصول کے لئے بہت زیادہ جدوجہد کرنی پڑے گی کیونکہ انسان کی طبیعت کثرتِ مال کی طرف مائل ہوتی ہے سوائے اُن کے جنہیںاللہ عَزَّوَجَلَّمحفوظ رکھے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔‘‘عَلَّامَہقُرْطُبِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں :”حدیث کا معنیٰ یہ ہے کہ جسے یہ نعمتیں عطا ہوئیں اُس نے اپنا مطلوب و مقصود پالیا اور وہ دارَین میں اپنی مرغوب چیز پانے میں کامیاب ہوگیا۔“چارنعمتیں:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث کی شرح کرتے ہوئےفرماتے ہیں:” یعنی جسے ایمان و تقویٰ، بقدرِ ضرورت مال اور تھوڑے مال پر صبر ،یہ چار نعمتیں مل گئیں اس پراللہکا بڑا ہی کرم و فضل ہوگیا،وہ کامیاب رہا اور دنیا سے کامیاب گیا۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 512