حدیث مبارکہ
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَا لَ اَبوْ طَلْحَةَ لِاُمِّ سُلَيْمٍ : قَدْ سَمِعْتُ صَوتَ رَسُولِ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ضَعِيْفاً اَعْرِفُ فِيْهِ الجُوْعَ، فَهَل عِندَكِ مِنْ شيْءٍ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصاً مِنْ شَعِيْرٍ، ثُمَّ أَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الخُبزَ بِبَعْضِه، ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ ثَوْبي وَرَدَّتْنِيْ بِبَعضِهِ، ثُمَّ أَرْسلَتْنِيْ إِلى رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبتُ بِهِ، فَوَجَدتُ رَسُولَ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جالِسًا في الْمَسْجِدِ، ومَعَهُ النَّاسُ، فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ لِیْ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم:”اَرْسَلَكَ اَبُو طَلْحَةَ ؟“ فَقُلْتُ:نَعَمْ! فَقَالَ: ” اَلِطَعَام ٍ؟“ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:”قُوْمُوْا“ فَانْطَلَقُوْا وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ اَيْدِیْهِمْ حَتَّى جِئْتُ اَبَا طَلْحَةَ فَاَخبَرتُهُ، فَقَالَ اَبُوْ طَلْحَةَ: يَا اُمِّ سُلَيْمٍ: قَد جَاءَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ، فَقَالَتْ: اَللَّهُ وَرَسُوْلُهُ اَعْلَمُ. فَانْطَلَقَ اَبُوْ طَلْحَةَ حتّٰى لَقِيَ رَسُوْلَ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاَقبَلَ رَسُوْلُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم مَعَهُ حَتَّى دَخَلَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:” هَلُمِّي مَا عِندَكِ يا اُمَّ سُلَيْمٍ“ فَاَتَتْ بِذَالكَ الْخُبْزِ ، فَاَمَرَ بِهِ رَسُوْلُ اللَّه فَفُتَّ، وعَصَرَتْ عَلَيْه اُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً فَاَدَمَتْهُ، ثُمَّ قَالَ فِيْهِ رَسُوْلُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم مَاشَآءَ اللَّهُ اَنْ يَقُولَ، ثُمَّ قَالَ:”اِئْذَنْ لِعَشَرَةٍ “ فَاَذِنَ لَهُم، فَاَكَلُوا حَتّٰى شَبِعُوْا ثُمَّ خَرَجُوْا، ثُمَّ قَالَ:”اِئْذَنْ لِعَشَرَةٍ “ فَاَذِنَ لَهُمْ، فَاَكَلُوْا حَتّٰى شَبِعُوْا، ثُمَّ خَرَجُوْا، ثُمَّ قَالَ:”اِئْذَنْ لِعَشَرَةٍ“فَاَذِنَ لَهُمْ حَتّٰى اَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُم وَشَبِعُوا، وَالْقَوْمُ سَبْعُوْنَ رَجُلاً اَوْ ثَمَانُوْنَ.
وَفِيْ رِوَايَةٍ: فَمَا زَالَ يَدْخُلُ عَشَرَةٌ وَيَخْرُجُ عَشَرَةٌ، حَتّٰى لَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ اَحَدٌ اِلَّا دَخَلَ، فَاَكَلَ حَتّٰى شَبِعَ، ثُمَّ هَيَّاَهَا فَاِذَا هِيَ مِثْلُهَا حِيْنَ اَكَلُوا مِنْهَا. وَفِيْ رِوَايَةٍ: فَاَكَلُوْا عَشَرَةً عَشَرةً، حَتّٰى فَعَلَ ذَالِكَ بثَمانِيْنَ رَجُلاً ثُمَّ اَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بَعْدَ ذَالِكَ وَاَهْلُ البَيتِ، وَتَرَكُوْا سُؤْرًا. وَفِيْ رِوَايَةٍ: ثمَّ اَفْضَلُوْا مَا اَبْلَغُوْا جِيْرَانَهُم.
وَفِيْ رِوَايَةٍ عَنْ اَنَسٍ قَالَ: جِئتُ رَسُوْلَ اللَّه صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم يوْمًا فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا مَعْ اَصْحَابِهِ، وَقد عَصَبَ بَطْنَهُ بِعِصَابَةٍ، فقلتُ لِبَعضِ اَصْحَابِهِ: لِمَ عَصَبَ رَسُولُ اللہ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم بطْنَهُ ؟ فَقَالُوْا: مِنَ الْجُوْعِ . فَذَهَبْتُ اِلٰى اَبِيْ طَلحَةَ ، وَهُوَ زَوْجُ اُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ ، فَقُلْتُ: يَا اَبَتَاه ، قَدْ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم عَصَبَ بَطْنَهُ بِعِصَابَةٍ، فَسَاَلْتُ بَعضَ اَصْحَابِهِ، فَقَالُوْا: مِنَ الجُوعِ . فَدَخل اَبُو طَلْحَةَ عَلٰى اُمِّي فَقَالَ: هَلْ مِنْ شَيْءٍ ؟ قَالَتْ:نَعَمْ عِنْدِيْ كِسَرٌ مِنْ خُبْزٍ وَتَمَرَاتٌ، فَاِنْ جَاءَنَا رَسُوْلُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم وَحْدَهُ اَشْبَعَنَاهُ، وَاِنْ جَاءَ آخَرُ مَعَهُ قَلَّ عَنْهُمْ، وذَكَرَ تَمَامَ الْحَديث.
عن انس رضي الله عنه قال: قا ل ابو طلحة لام سليم : قد سمعت صوت رسول الله صلى الله عليه وسلم ضعيفا اعرف فيه الجوع، فهل عندك من شيء؟ فقالت: نعم، فأخرجت أقراصا من شعير، ثم أخذت خمارا لها فلفت الخبز ببعضه، ثم دسته تحت ثوبي وردتني ببعضه، ثم أرسلتني إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فذهبت به، فوجدت رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسا في المسجد، ومعه الناس، فقمت عليهم، فقال لی رسول الله صلى الله عليه وسلم:”ارسلك ابو طلحة ؟“ فقلت:نعم! فقال: ” الطعام ؟“ فقلت: نعم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:”قوموا“ فانطلقوا وانطلقت بين ايدیهم حتى جئت ابا طلحة فاخبرته، فقال ابو طلحة: يا ام سليم: قد جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم بالناس وليس عندنا ما نطعمهم، فقالت: الله ورسوله اعلم. فانطلق ابو طلحة حتى لقي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم معه حتى دخلا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:” هلمي ما عندك يا ام سليم“ فاتت بذالك الخبز ، فامر به رسول الله ففت، وعصرت عليه ام سليم عكة فادمته، ثم قال فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم ماشاء الله ان يقول، ثم قال:”ائذن لعشرة “ فاذن لهم، فاكلوا حتى شبعوا ثم خرجوا، ثم قال:”ائذن لعشرة “ فاذن لهم، فاكلوا حتى شبعوا، ثم خرجوا، ثم قال:”ائذن لعشرة“فاذن لهم حتى اكل القوم كلهم وشبعوا، والقوم سبعون رجلا او ثمانون.
وفي رواية: فما زال يدخل عشرة ويخرج عشرة، حتى لم يبق منهم احد الا دخل، فاكل حتى شبع، ثم هياها فاذا هي مثلها حين اكلوا منها. وفي رواية: فاكلوا عشرة عشرة، حتى فعل ذالك بثمانين رجلا ثم اكل النبي صلى الله عليه وسلم بعد ذالك واهل البيت، وتركوا سؤرا. وفي رواية: ثم افضلوا ما ابلغوا جيرانهم.
وفي رواية عن انس قال: جئت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما فوجدته جالسا مع اصحابه، وقد عصب بطنه بعصابة، فقلت لبعض اصحابه: لم عصب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم بطنه ؟ فقالوا: من الجوع . فذهبت الى ابي طلحة ، وهو زوج ام سليم بنت ملحان ، فقلت: يا ابتاه ، قد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم عصب بطنه بعصابة، فسالت بعض اصحابه، فقالوا: من الجوع . فدخل ابو طلحة على امي فقال: هل من شيء ؟ قالت:نعم عندي كسر من خبز وتمرات، فان جاءنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وحده اشبعناه، وان جاء آخر معه قل عنهم، وذكر تمام الحديث.
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:حضرت سیدناابو طلحہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت سیدتنا اُمّ سُلَیمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِاسے کہا:”میں نے رسولِ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی آواز میں کمزوری محسوس کی ہے مجھے حضورپر بھوک کے آثار معلوم ہوتے ہیں، کیا تمہارے پاس کھانے کو کچھ ہے؟“ حضرت اُمّ سُلَیمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِانے کہا:”ہاں۔‘‘ پھر انہوں نے جَو کی کچھ روٹیاں نکالیں، پھر اپنا دوپٹہ لیا اور روٹیوں کو اس میں لپیٹا اور میرے کپڑوں کے نیچے چھپا دیااور کپڑے کا کچھ حصہ مجھ پر ڈال دیا، پھر مجھے رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس بھیج دیا۔ میں وہاں پہنچا تو دیکھا کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسجد میں تشریف فرما ہیں اور آپ کے ساتھ دیگر اصحاب بھی ہیں، میں وہاں کھڑا ہوگیا۔ نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’کیا تمہیں ابو طلحہ نے بھیجا ہے؟“میں نے عرض کی:”جی ہاں۔“ پوچھا: ”کھانے کے لیے؟“عرض کی:”جی ہاں۔“ پھر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اعلان فرمادیا:”کھڑے ہوجاؤاور چلو۔“میں بھی ان کے ساتھ ساتھ چل دیا اور جلدی سے ابو طلحہ کے پاس آیا اور انہیں (رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور صحابہ کرام کے آنے کی) خبر دی۔ حضرت ابو طلحہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا: اے اُمِّ سُلَیم! رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے اصحاب کے ساتھ تشریف لارہےہیں اور ہمارے پاس اتنا کھانا نہیں کہ ہم ان سب کو کھلاسکیں۔ اُمّ سُلَیم نے کہا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اُس کا رسولصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخوب جانتے ہیں۔“پس ابوطلحہ نے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا استقبال کیا، حضور اُن کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے اور فرمایا: ”اے اُمِّ سُلَیم! تمہارے پاس کھانے کے لیےجو کچھ ہے وہ لے آؤ۔“ وہ جَو کی روٹیاں لے آئیں، پھر حضور نے حکم دیا روٹیاں توڑی گئیں، اُمّ سُلَیم نے روٹیاں توڑ کر گھی کا ڈبہ اُن پر نچوڑ دیا اور اسے سالن بنا دیا، پھررسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مشیتِ الٰہی کے مطابق دعا و برکت کے کلمات پڑھے اور فرمایا: ”دس آدمیوں کو اندر آنے دو۔“دس آدمیوں کو بھیجا گیا، انہوں نے سیر ہوکر کھایا اور چلے گئے۔ پھر فرمایا:”دس آدمیوں کو اندر آنے دو۔“دس آدمیوں کو بھیجا گیا، انہوں نے سیر ہوکر کھایا اور چلے گئے۔ پھر فرمایا:”دس آدمیوں کو اندر آنے دو۔“دس آدمیوں کو بھیجا گیا یہاں تک کہ ساری قوم نے پیٹ بھر کر کھانا کھالیا، اُن کی تعداد ستّر یا اسّی افرادتھی۔ایک روایت میں ہے کہ دس دس آدمی آتے رہےاورکھا کر جاتے رہے یہاں تک کہ کوئی بھی ایسا نہ رہا جو اندر داخل ہوا ہو اور اس نے پیٹ بھر کر نہ کھایا ہو۔ پھر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کھانے کو جمع فرمایا تووہ اتنا ہی تھا جتناپہلے تھا۔ایک روایت میں ہے کہ دس دس افراد کھانا کھاتے یہاں تک کہ اسّی اصحاب نے کھانا کھالیا، اس کے بعد آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور گھر والوں نے کھانا کھایا پھربھی کھانا بچ گیا۔ایک روایت میں ہے : جو کھانا بچ گیا اسے پڑوسیوں کے ہاں بھیج دیا گیا۔ایک روایت میں یوں ہےکہ حضرت سیدناانسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس گیا تو آپ اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرماتھے اور آپ نےپیٹ مبارک پر پٹی باندھی ہوئی تھی، میں نے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے پوچھا کہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے بطن مبارک پر پٹی کیوں باندھ رکھی ہے؟ انہوں نے کہاکہ بھوک کی وجہ سے۔ پس میں حضرت ابو طلحہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس آیا جو کہ اُمّ سُلَیم بنت مِلحانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِاکے شوہر ہیں۔ میں نے کہا : اے ابا جان! میں نےرسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو پیٹ پر پٹی باندھے دیکھا ہے، میں نے حضور کے اصحاب سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ بھوک کی وجہ سے باندھی ہے۔حضرت ابو طلحہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمیری والدہ اُمّ سُلَیمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِاکے پاس گئے اور کہا:” کیا تمہارے پاس کھانے کو کچھ ہے؟“انہوں نےکہا:”ہاں!روٹی کے ٹکڑے اور کچھ کھجوریں ہیں اگر حضور تنہا ہمارے ہاں تشریف لائیں تو ہم انہیں شکم سیر کردیں گے اوراگر اُن کےساتھ کچھ اور لوگ بھی ہوئے تو کھانا کم پڑ جائے گا۔“(پھرآگے پوری حدیث ذکر کی۔)
شرح حدیث
حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی دنیا سے بے رغبتی:حدیثِ مذکور میں بھی حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور آپ کے اصحاب کی دنیا سے بےر غبتی کا بیا ن ہے کہ وہ حضرات بھوکے پیاسے رہ کر، انتہائی سادگی کے ساتھ بہت کامیاب زندگی گزار گئے اور دنیا کو پیغام دے گئے کہ ہر حال میں اپنے رب سے راضی رہنا چاہیے،غربت ومحتاجی میں بھی دِین کا کام کرتے رہنا چاہیے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں ان کاصدقہ عطافرمائے ۔آمین۔دنیا نیک لوگوں کے لیے نہیں:حدیث مذکور سے معلوم ہواکہ دنیا کو انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامسے روک دیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ حضرات بھوک پیاس کی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں اور ان کی یہ صعوبتیں اختیاری ہوتی ہیں، جیسا کہ نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ اختیار دیا گیا کہ چاہیں تو نبی بندہ بنیں، چاہیں تو نبی بادشاہ، آپ نے نبی بندہ ہونے کو اختیار فرمایا۔آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دنیا پیش کی گئی تو آپ نے اُسے ٹھکرادیا اور اُخروی نعمتوں کواختیار فرمایا تاکہ آپ کی اُمَّت اس معاملہ میں آپ کی پیروی کرے اور دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے میں آپ کی اتباع کرے۔ نیز یہ بھی پتا چلا کہ جب مہمان گھر پر آئے تو اِحتراماً اور اَخلاقاً باہر نکل کر اُس کا استقبال کرنا چاہیے۔ نیز پیٹ بھر کر کھانا کھانا بھی جائز ہے اگر چہ بعض اوقات شکم سیری ترک کرنا افضل ہے جیسا کہ ایک روایت میں ہے:”قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکا وہ ہوگا جو دنیا میں زیادہ پیٹ بھرتا ہوگا۔“علامہ طبریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ پیٹ بھر کر کھانا اگر چہ جائز ہے لیکن اس کی بھی ایک حد ہے اور اس حد سے آگے بڑھنا حرص ہے۔کھانا کھانے کی حد یہ ہے کہ اتنی مقدار میں کھانا کھائے جو رَبّعَزَّوَجَلَّکی اطاعت میں معاون ہواوراتنا زیادہ نہ کھائے کہ بوجھل ہوکرفرائض و واجبات کی ادائیگی سے غافل ہوجائے۔ بندۂ مومن پراللہ عَزَّوَجَلَّکا یہ حق ہے کہ وہ اتنا نہ کھائے پئے جس سے بھوک ختم ہوجائے اور پیاس بجھ جائے۔(یعنی بھوک سے کم کھائے پئے۔)حدیث مذکور سےماخوذ فوائدو مسائل:حدیث شریف میں ہے کہ جب حضرت سیدنا انسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُحضور سید عالَمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں بتادیا کہ تمہیں ابو طلحہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی
عَنْہُنے بھیجا ہے اور کھانے کے لیے بھیجا ہے۔ اس سے پتا چلا کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعلمِ غیب جانتے ہیں۔اِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:”ان دونوں باتوں کی خبر دینا نبوت کی نشانیوں میں سےدو نشانیاں ہیں۔ پھر صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے ہجوم کو ان کے گھر لے چلنا یہ تیسری نشانی ہے اور تھوڑے سے کھانے کو بہت زیادہ کردینا یہ چوتھی نشانی ہے۔ یہ بھی پتا چلا کہ انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامکا بھوک وغیرہ مصائب میں مبتلا ہونا اس لیے ہوتا ہے کہ وہ ان مصائب پر صبر کریں اور اُن کے درجات و اجر میں اضافہ ہو۔ یہ بھی معلوم ہواکہ ایک دوسرے کو تحفے بھیجنے چاہئیں، اگرچہ جس شخصیت کو تحفہ دیا جارہا ہے تحفہ اس کے شایانِ شان نہ ہو کیونکہ چھوٹا تحفہ ہونا نہ ہونے سے بہتر ہے۔ یہ بھی پتا چلا کہ عالِم کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے درمیان بیٹھے تاکہ انہیں دِین کی باتیں بتاکر فائدہ پہنچائے اور انہیں اخلاقی تربیت دے اوراس مجلس کا مسجد میں ہونا مستحب ہے۔“اُمِّ سُلَیمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِاکی عظمت ودانش مندی:جب حضرت سیدنا ابو طلحہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے گھبرا کر حضرت اُم سُلیمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِاسے کہا کہ اے اُم سُلیم! حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ کثیر صحابہ کرام بھی آرہے ہیں اب کیا ہوگا کھانا تو بہت کم ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اُس کا رسولصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہتر جانتے ہیں۔“ آپ کا یہ جواب آپ کی عظمت اور دانشمندی کی بہت بڑی دلیل ہے کہ جب حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو کھانے کی مقدار کا علم ہے پھر بھی آپ اتنے بڑے مجمع کو لےکر آ رہے ہیں تو یقیناً اس میں کوئی مصلحت ہوگی، اگر اس میں کوئی مصلحت نہ ہوتی تو حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکبھی ایسا نہ کرتے لہٰذا اے ابو طلحہ !تم غم نہ کرو۔اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کا رسولصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہتر جانتے ہیں ۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہجنت کے 8 دروازوں کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1)اللہ عَزَّوَجَلَّاپنے نیک بندوں سے دنیا کو دُور کردیتا ہے، انہیں مصائب میں مبتلاکیاجاتاہے تاکہ وہ ان مصائب پر صبر کریں اور ان کے درجات مزید بلندہوں ۔
(2) سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنہ صرف لوگوں کے دلوں کے حالات جانتے ہیں بلکہ بسا اوقات ان کی دلی حالت کو ان پر ظاہر بھی فرمادیتے ہیں۔
(3) ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور آپ کے اصحاب نے دنیا سے بے رغبتی اختیار فرمائی لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ ہم حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پیروی کریں اور اس دنیا کے پیچھے ذلیل و خوار نہ ہوں جو نصیب میں ہے وہ مل کر رہے گا۔
(4) میزبان کو چاہیے کہ جب کوئی مہمان آئے تو گھر سے باہر آکر اُس کا استقبال کرے۔
(5) کھانا اتنی مقدارمیں کھانا چاہیے جو فرائض و واجبات کی ادائیگی میں معاون ہو، اتنا زیادہ نہ کھایاجائے کہ جسم بوجھل ہوجائے اور عبادت کی ادائیگی میں سُستی ہو۔
(6) آپس میں تحفے وغیرہ بھیجنے چاہئیں چاہے تحفہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو،کچھ ہونا نہ ہونے سے بہتر ہے۔
(7) عالم کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے درمیان بیٹھے تاکہ لوگ دینی مسائل سیکھیں اورتربیت حاصل کریں۔
(8) حضرت سیدنااُمِّ سُلَیمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِابہت ہی ذہین و فطین خاتون تھیں سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حکمتِ عملی کو پہچان جایا کرتی تھیں۔اللہ عَزَّوَجَلَّہمیں پیٹ کا قفل مدینہ لگانے اور کم کھانے کا عادی بنائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 521