حدیث مبارکہ
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ: مَا رَاٰى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِىَّ مِنْ حِينَ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ تَعَالٰی حَتّٰی قَبَضَهُ اللَّهُ تَعَالٰی. فَقِیْلَ لَہُ: هَلْ كَانَ لَكُمْ فِى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنَاخِلُ؟ قَالَ: مَا رَاٰى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْخُلًا مِنْ حِينَ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ تَعَالٰی حَتّٰى قَبَضَهُ اللہ تَعَالٰی. فَقِیْلَ لَہُ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ غَيْرَ مَنْخُولٍ؟ قَالَ: كُنَّا نَطْحَنُهُ وَنَنْفُخُهُ ، فَيَطِيرُ مَا طَارَ وَمَا بَقِىَ ثَرَّيْنَاهُ.
عن سهل بن سعد رضی اللہ عنہ قال: ما راى رسول الله صلى الله عليه وسلم النقى من حين ابتعثه الله تعالی حتی قبضه الله تعالی. فقیل لہ: هل كان لكم فى عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم مناخل؟ قال: ما راى رسول الله صلى الله عليه وسلم منخلا من حين ابتعثه الله تعالی حتى قبضه اللہ تعالی. فقیل لہ: كيف كنتم تأكلون الشعير غير منخول؟ قال: كنا نطحنه وننفخه ، فيطير ما طار وما بقى ثريناه.
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُناسہل بن سعدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”جب سےاللہ عَزَّوَجَلَّنے رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو مبعوث فرمایا ہے اس وقت سے رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میدہ نہیں دیکھا یہاں تک کہاللہتعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی۔“پوچھا گیا: ” کہ یارسولَاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانے میں آپ لوگوں کے پاس چھلنیاں ہوتی تھیں؟“∞حضرت سہل بنسعدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے جواب دیا: ”جب سےاللہ عَزَّوَجَلَّنے رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو مبعوث فرمایا ہے اس وقت سے رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے چھلنی نہیں دیکھی یہاں تک کہاللہتعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی۔“پوچھا گیا:”آپ لوگ جَو کو چھانے بغیر کیسے کھاتے تھے؟“حضرت سہلرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے جواب دیا:”ہم جَو کو پیستے تھے اور پھونک مارتے تھے جوکچھ اُڑنا ہوتا تھا وہ اُڑ جاتا تھا اور جو باقی بچتا تھا اس کو گوندھ لیتے تھے۔“
شرح حدیث
حضورعَلَیْہِ السَّلَامکا دُنیوی نعمتوں کو چھوڑ دینا:اس حدیث پاک میں بیان ہواکہ حضورنبی کریم،رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہت سادہ زندگی گزارتے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دنیا سے کوئی رغبت نہ تھی۔آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی غذا اکثر کھجور پانی یا جَو کے بے چھنے آٹے کی موٹی روٹی ہوا کرتی تھی ۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:’’حدیثِ مذکور سے معلوم ہواکہ سرورِ کائنات شاہِ موجوداتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدنیاوی تکلفات اور کھانے پینے کا بہت زیادہ اہتمام نہ فرماتے تھے کیونکہ ان چیزوں کے اہتمام میں لگے رہنا غافلوں، احمقوں اور بے کارلوگوں کاشیوہ ہے۔“اَسلافِ کر ام اور ہمارا طرزِعمل :عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں:”حدیث مذکورسےمعلوم ہوا کہ سلف صالحین کھانے پینے میں نرم ولذیذ چیزوں کو چھوڑ کر سخت غذا استعمال فرماتے اور بے چھنے آٹے کی روٹی کھاتے تھے حالانکہ اُن کے لیے (نرم ولذیذ چیزیں کھانا اور )آٹا چھاننا مباح تھا لیکن انہوں نے سختی کو اختیار کیا اورسہل پسندی کو ترک کیا تاکہ بعد میں آنے والے اُن کی پیروی کریں مگر ہم نے ان کی مخالفت کی اور کھانے پینے میں لذیذ چیزوں کو اختیار کیا اور ہم اس چیز پر راضی نہ ہوئے جس پر وہ راضی تھے تو ہم کیسے اُن پاک ہستیوں سے جاملنے کی امید رکھتے ہیں؟‘‘حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی سادہ غذا:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:(حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے کبھی میدہ کی روٹی ملاحظہ نہ فرمائی )یعنی میدہ کھانا تو بہت دور،کبھی ملاحظہ بھی نہ فرمایا۔اللہکی شان ہے کہ اب مدینہ منورہ میں میدہ کی روٹی عام ہے آٹے کی روٹی بہت کم ملتی ہے اور کہتے ہیں میدہ کی روٹی بہت قسم کی ہوتی ہے مغربی،شامی وغیرہ۔(سرکارِ دوعالَمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجَو کے بے چھنے آٹے کی موٹی تناول فرمایا کرتے تھے ۔)سبحان اللہ! یہ ہے حضور کی سادہ اور بے تکلف زندگی۔ بعض روایات میں ہے کہ کسی صاحب نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِاسے تمنا کی کہ میں حضورِ انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا کھانا کھاؤں،آپ فرمانے لگیں تم نہ کھا سکو گے یہ تو ان کی ہی شان تھی جو کھا گئے اور واقعہ (حقیقت)ہے کہ ہم گندم کی روٹی بے چھنے آٹے کی نہیں کھاسکتے چہ جائیکہ جَو کی روٹی وہ بھی بے چھنے آٹے کی۔شعرکھانا جو دیکھو جَو کی روٹی بے چھنا آٹا روٹی موٹی***وہ بھی شکم بھر روز نہ کھاناصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمجس کی تمنا روز نہ کھانا اک دن ناغہ اک دن کھانا***جس دن کھانا شکر کا کرناصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمظہورِ نبوت کے بعد میدہ کی روٹی ملاحظہ نہ فرمائی۔اس سے پہلے حضورِ انور نے شام کا سفر کیا ہے اور بحیرہ راہب کی دعوت میں میدہ کی روٹی ملاحظہ فرمائی ہے۔اس زمانہ میں شام و رُوم میں میدہ کی روٹی بہت مروج تھی۔بعدِ اِعلانِ نبوت حضورصِرف حجاز میں رہے اور مال سے بے رغبتی بھی بہت رہی۔حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی سادہ زندگی:برادرِ اعلیٰ حضرت حضرت علامہ مولانا حَسَن رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں:” ہمارے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوخداعَزَّوَجَلَّنے اشرف ترین مخلوق بنایااور محبوبیتِ خاص کا خلعتِ فاخرہ عطا فرمایا۔ اسی وجہ سے دنیاکی جوبلائیں آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اٹھائیں اورجومصیبتیں آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے برداشت کیں کسی سے ان کا تحمل ممکن نہیں۔اللہ اللہ!محبوبیت کی تووہ ادائیں کہ فرمایا جاتا ہے: ”لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الدُّنْیَااے محبوبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں اگرتم کونہ پیداکرتاتودنیاہی کونہ بناتا ۔“ علوِّمرتبت کی وہ کیفیتیں کہ اپنے خزانے کی کنجیاں دے کرمختارکل بنادیاکہ جو چاہو کرو،سیاہ و سپید کا تمہیں اختیارہے۔ایسے بادشاہ جن کے مقدس سرپردونوں عالَم کی حکومت کا چمکتاتاج رکھا گیا، ایسے رفعت پناہ جن کے مبارک پاؤں کے نیچے تختِ الٰہی بچھایا گیا،شاہی لنگرکے فقیرسلاطین ِعالم، سلطانی باڑے کے محتاج شاہانِ معظم، دنیا کی نعمتیں بانٹنے والے، زمانے کی دولتیں دینے والے، بھکاریوں کی جھولیاں بھریں ،منہ مانگی مرادیں پوری کریں۔ اب کاشانہ اَقدس اور دولت سرائے مقدس کی طرف نگاہ جاتی ہےاللہتعالیٰ کی شان نظرآتی ہے۔ایسے جلیل القدربادشاہ جن کی قاہرحکومت مشرق مغرب کوگھیرچکی اورجن کاڈنکا ہفت آسمان وتمام روئے زمین میں بج رہا ہے،ان کے برگزیدہ گھر میں آسایش کی کوئی چیزنہیں ،آرام کے اسباب تودرکنار، خشک کھجوریں اورجَو کے بے چھنے آٹے کی روٹی بھی تمام عمرپیٹ بھرکرنہ کھائی ۔
کل جہاں مِلک اور جَو کی روٹی غذا***اس شکم کی قناعت پہ لاکھوں سلام
شاہی لباس دیکھئے توسترہ سترہ پیوند لگے ہیں،وہ بھی ایک کپڑے کے نہیں۔ دو دومہینے سلطانی باورچی خانے سے دھواں بلند نہیں ہوتا ۔دنیوی عیش وعشرت کی تویہ کیفیت ہے، دینی وجاہت دیکھئے تو اس تاجدارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شوکت اوراس سادگی پسند کی وجاہت سے دونوں عالم گونج رہے ہیں ۔
مالکِ کونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیں***دو جہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں
یہاں یہ امر بھی بیان کردینے کے قابل ہے کہ یہ تکلیفیں، یہ مصیبتیں محض اپنی خوشی سے اٹھائی گئیں، اس میں مجبوری کو ہر گز دخل نہ تھا۔ایک بارآپ کے بِہی خواہ (بھلائی چاہنے والے) اوررضاجو(خوشی چاہنے والے)دوستجَلَّ جَلَالُہُنے پیام بھیجا کہ”تم کہوتومکہ کے دوپہاڑوں کوسونے کا بنا دوں کہ وہ تمہارے ساتھ رہیں۔“عرض کی:”یہ چاہتا ہوں کہ ایک دن دے کہ شکربجا لاؤں،ایک دن بھوکا رکھ کہ صبر کروں۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ’’یانبی ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکوراور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) سرکارِ دو جہاںصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاعلانِ نبوت کے بعد میدے کی روٹی تناول نہ فرمائی ،ہاں! بعثت سے قبل بحیرہ راہب کی دعوت کے موقع پر میدے کی روٹی تناول فرمائی تھی۔
(2) حضورنبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دنیاوی نعمتوں اور لذات کو اپنی مرضی سے ترک کیا ۔
(3) دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ درِ مصطفےٰکے فقیر ہیں،ساراجہاں انہیں کے در کا سوالی ہےکہ وہ حضور نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے ربّ قدیر جَلَّ جَلَالُہ کی نعمتوں کے قاسم ہیں۔
(4) ہر وقت عمدہ غذاؤں اورکھانے پینے ہی کی فکر میں لگے رہنا عقلمندوں کا کام نہیں، بے کار اورفضول لوگ ان چیزوں کے شیدائی ہوتے ہیں۔
(5) تعجب ہے ایسے لوگوں پر جو سادہ غذائیں کھانے میں اَسلاف کی پیروی تو نہیں کرتے لیکن ان سے جاملنے کی امیدرکھتے ہیں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں اپنے اسلاف کی صحیح معنوں میں پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 496