Main Icon

باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 514

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبِيتُ اللَّيَالِي المُتَتَابِعَةَ طَاوِيًا، وَاَهْلُهُ لَا يَجِدُونَ عَشَاءً، وَكَانَ اَكْثَرُ خُبْزِ هِمْ خُبْزَ الشَّعِيرِ.

عن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يبيت الليالي المتتابعة طاويا، واهله لا يجدون عشاء، وكان اكثر خبز هم خبز الشعير.

حدیث ترجمہ

حضرت عبداللہبن عباسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُماسے مروی ہے کہ رسولِ اکرم ، نورِ مُجَسّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکئی کئی راتیں مسلسل بھوک کی حالت میں گزارتے، آپ کے گھروالوں کے پاس رات کا کھانا نہ ہوتا اور عام طور پر اُن حضرات کی خوراک جَو کی روٹی ہواکرتی تھی۔

شرح حدیث

شرح حدیث:حدیثِ مذکورسےمعلوم ہواکہ ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس دنیا سے بقدرِ ضرورت بھی نہ لیا بلکہ ضرورت سے بھی کم پر اکتفا کیا، کئی کئی رات تو کھانا میسر ہی نہ آتا اور جب کھانا میسر ہوتا تو عموماً جَو کی روٹی ہوتی تھی وہ بھی کیسی۔۔۔! بغیر چھنے آٹے کی۔عَلَّامَہ عَبْدُ الرَّؤُوْف مُنَاوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِیفرماتے ہیں:”حضورنبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا معمول تھا کہ دنیا کی کم چیزوں پر اکتفا کرتے، بھوک پر صبر کرتے اور سوال کرنے سے بالکل گریز فرماتے اور کیوں نہ ہو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتو سب سے زیادہ عزت والے اور شریف النفس ہیں۔ اس حدیث میں فقر اور بھوک کے باوجود سوال سے بچنے کی فضیلت کا بیان بھی ہے۔ اہلِ بیتِ اَطہار کی خوراک عام طور پر جَو کے بے چھنےآٹے کی روٹی ہواکرتی اور وہ بھی لگا تار دو دن پیٹ بھر کر تناول نہ فرماتے۔“
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر کسی کو یہ خیال آئے کہ ان پاکیزہ ہستیوں نے بھوک وپیاس کی اتنی صعوبتیں کیوں برداشت کیں ،حالانکہ وہ چاہتے تو دنیا جہاں کی نعمتیں حاصل کر سکتے تھے ؟تو اس کا جواب یہ ہےکہ وہ حضرات اس دنیااور اس کی نعمتوں کوفانی سمجھتے تھے،انہیں معلوم تھا کہ زیادہ کھانے میں سراسر نقصان اور کم کھانے میں فائدہ ہی فائدہ ہے اس لئے انہوں نے بھوک کو اختیارکیا دنیا اور اس کی نعمتوں سے منہ موڑلیا۔جو خوش نصیب ان کی راہ پر چلنا چاہے اور بھوک کی فضیلت وفوائد و برکات حاصل کرنا چاہےوہ آگے دئیے گئے نسخے پر عمل کرے تو اس کےلئے کافی آسانی ہوجائے گی۔
اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّکم کھانے کی عادت بنانے کا نسخہ:”دعوتِ اسلامی“ کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 103صفحات پرمشتمل کتاب ”راہِ علم“ سے کم کھانے کی عادت بنانے کا نسخہ پیش خدمت ہے:*جو شخص کم کھانے کی عادت بنانا چاہتاہے اسے چاہیے کہ کم کھانے کے فوائد پیش نظر رکھے۔صحت مند رہنا ، عفت سے متصف ہونا اورایثار کے مواقع کا میسر آنا کم کھانے کے فوائد میں سے چندایک ہیں۔*حضورتاجدارِرِسالت شہنشاہ نبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”تین افراد ایسے ہیں کہ اگر وہ مزید گناہوں کا ارتکاب نہ بھی کریں تو بھیاللہتعالیٰ ان کو پسندنہیں فرماتا: زیادہ کھانے والا،بخیل اورمتکبر۔‘‘*بندے کو کم کھانے کے فوائدپرنظر رکھنے کے ساتھ ساتھ زیادہ کھانے کے نقصانات پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ ان نقصانا ت میں مختلف اَمراض کا سامنا اور طبیعت کا بوجھل پَن قابِلِ ذِکر ہیں۔کہا جاتاہے:اَلْبِطْنَۃُ تُذْھِبُ الْفِطْنَۃَ(پیٹ بھر کر کھانا حاضر دماغی کو کم کر دیتا ہے ۔)*زیادہ کھانے کے نقصانات میں سے ایک بڑی خرابی اِتلافِ مال ہے اورشکم سیری کے باوجود کھانا تو سراسر نقصان کا باعث ہے،نیز زیادہ کھانے والا لوگوں میں ناپسند کیا جاتاہے۔*کھانے میں کمی کرنے کے لیے یہ باتیں قابِل ذِکر ہیں کہ چربی داراورروغنی اشیاء کا استعمال رکھا جائے۔ لذیذ ونفیس کھانوں کو پہلے کھایا جائے۔ بھوکے آدمی کے ساتھ کھانا نہ کھایا جائے۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ جب زیادہ کھانا کسی غرضِ صحیح کے لیے ہوتوزیادہ کھانے میں کوئی حرج بھی نہیں مثلاً بندہ زیادہ کھا کر اتنی قوت پیداکرنا چاہتاہے کہ نماز روزہ اوراَعمالِ شاقَّہ کو اَحسن طریقے سے ادا کرسکے تو یقیناً زیادہ کھانے میں کوئی حرج نہیں ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 514