Main Icon

باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 509

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الحُصَيْن رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّہُ قَالَ:”خَيْرُكُمْ قَرْنِى، ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ.“ قَالَ عِمْرَانُ فَمَا اَدْرِیْ قَالَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَیْنِ اَوْ ْ ثَلَاثًا. ”ثُمَّ یَکُوْنُ بَعْدَہُمْ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَنْذِرُونَ وَلَا يُوْفُوْنَ وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ.“

عن عمران بن الحصين رضی اللہ عنہما عن النبى صلى الله عليه وسلم انہ قال:”خيركم قرنى، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم.“ قال عمران فما ادری قال النبى صلى الله عليه وسلم مرتین او ثلاثا. ”ثم یکون بعدہم قوم يشهدون ولا يستشهدون، ويخونون ولا يؤتمنون، وينذرون ولا يوفون ويظهر فيهم السمن.“

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا عمران بن حُصینرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسےمروی ہےکہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”تم میں سب سے بہتر میرے زمانے کے لوگ ہیں، پھر وہ لوگ ہیں جو اُن سے قریب ہوں، پھر وہ لوگ جو اُن سے قریب ہوں۔“حضرت عمران بن حصینرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ حضورنبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے (ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُونَهُمْ)دو بار فرمایا یا تین بار۔ ارشاد فرمایا: ”پھر اُن کے بعد ایسی قوم ہوگی جو گواہی دے گی حالانکہ اس سے گواہی طلب نہ کی جائے گی اور وہ خیانت کرے گی اورانہیں امانت دارنہیں سمجھا جائے گا، نذر مانے گی اورنذر پوری نہ کرے گی اور اُن میں موٹاپا ظاہر ہوگا۔“

شرح حدیث

صحابہ کر ام، تابعین، تبع تابعین کا زمانہ:مرآۃ المناجیح میں ہے:”یہاں پہلے قَرن( زمانے)سے مرادصحابہ ٔ کرام ہیں،دوسرے سے مراد تابعین،تیسرے سے مراد تبعِ تابعین ہیں۔خیال رہے کہ زمانہ ٔصحابہ حضور(صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی ظہورِ نبوت سے120سال تک رہا یعنی قریبًا100ہجری تک اور زمانہ تابعین100سے170 تک اور زمانہ تبع تابعین170سے220تک،اس کے بعدمسلمانوں میں بڑے فتنے تفرقہ بازیاں شروع ہوگئیں۔معتزلہ، فلاسفہ،جہمیہ وغیرہ فرقے بعدہی کی پیداوار ہیں بدعات کا زور بعد ہی میں ہوا۔“حضور جانتے ہیں:امام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:اِن احادیث میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نبوت اور آپ کے معجزات کی دلیل ہے کہ وہ تمام واقعات جن کے بارے میں آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خبر دی بالکل اُسی طرح واقع ہوئے جس طرح آپ نے خبر دیبغیر طلب گواہی :’’وہ قوم گواہی دے گی حالانکہ اس سے گواہی طلب نہ کی جائے گی۔“مرآۃ المناجیح میں ہے :”اس فرمانِ عالی کے بہت مَطالِب بیان کیے گئے ہیں مگر آسان اور قوی مَطلَب یہ ہے کہ وہ لوگ واردات کے موقعہ پر موجود نہ کیے گئے ہوں گے بُلائے نہ گئے ہوں گے مگر قاضی کے ہاں گواہی دیں گے یعنی جھوٹی گواہی جیساکہ آج کل دیکھاجارہا ہے کہ کچہریوں میں لوگ مقدمہ والوں سے پوچھتے پھرتے ہیں کہ کیا تمہیں گواہ چاہئیں تو ہم حاضر ہیں، اتنے روپیہ دو جو بتاؤ اس کی گواہی دے دیں۔ لہٰذا یہ فرمانِ عالی اس حدیث کے خلاف نہیں کہ ”اچھے گواہ وہ ہیں جو بغیر بلائے گواہی دیں۔“ وہاں سچی گواہی مراد ہے۔(خیانت کریں گے ) یعنی وہ لوگ امین نہ ہوں گے خائن ہوں گے یا وہ لوگ خائن ہوں گے انہیں کوئی امین نہ بنائے گااپنی امانت ان کے سپرد نہ کرے گا جانتا ہوگا کہ یہ خائن ہے۔(نذر پوری نہ کریں گے)یعنی مانی ہوئی نذریں پوری نہ کریں گے۔ معلوم ہوا کہ نذر پوری کرنا بڑا ضروری ہے۔خیال رہے کہ زیادہ نذریں ماننا اچھا نہیں مگر مانی ہوئی نذر کا پورا کرنا بہت ضروری ہے یہ شرعی نذر کا حکم ہے،لغوی نذر جواولیاءُ اللہکے نام کی ہو اس کا پوراکرنا بہتر ہے فرض نہیں جیسے میلاد شریف یا گیارہویں شریف کی نذریں ماننا۔“زیادہ کھانے کی مذمت:حدیث کے آخر میں فرمایا کہ”اُن میں موٹاپا ظاہر ہوگا۔“حدیث کا یہ حصہ ہمارے باب سے تعلق رکھتا ہے اسی لیے علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِینے اس حدیث کو اس باب میں بیان فرمایا۔ واقعی بہت سے لوگ زیادہ کھانے پینے بلکہ صرف اور صرف کھانے پینے کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتے ہیں بلکہ بہت سے لوگ تو یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ ”زندگی کھانے پینے کا نام ہے بھائی !کھاؤ پیو جان بناؤ۔“ ایسے لوگ جینے کے لیے نہیں کھاتے بلکہ کھانے کے لیے جیتے ہیں اور دنیا میں اِس قدر مگن رہتے ہیں کہ انہیں آخرت کی بالکل فکر نہیں ہوتی۔عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:”ان میں موٹاپا ظاہر ہوگا۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ دنیا کی طرف بہت زیادہ راغب ہونگے ،دنیاوی خواہشات کو آخرت پر اوران ہمیشہ رہنے والی نعمتوں پر ترجیح دیں گے جنہیںاللہ عَزَّوَجَلَّنے اپنے اولیاء کے لیے تیارکر رکھا ہے۔وہ فانی نعمتو ں کوجانوروں کی طرح استعمال کریں گے ،اپنے ان اسلاف کی پیروی نہ کریں گے جنہوں نے بقدرِکفایت غذاپر اکتفا کیااوراپنی خواہشات کو آخرت کے لیے مؤخر کردیا۔“مدنی گلدستہ’’ تابعین ‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) سب سے بہترین اَفرادحضور
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانہ ٔمبارکہ کے افرادیعنی صحابہ ٔ کرام ہیں، پھر تابعین اور اُن کے بعد تبع تابعینرِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن۔
(2) ہمارے غیب دان آقا
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسب کچھ جانتےہیں، جو ہوچکا اورجو ہوگا سب آپ پر عیاں ہے،آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آج سے چودہ سو سال پہلے جو خبریں دیں وہ ویسے ہی وقوع پذیر ہوئیں جیسا آپ نے فرمایا تھا۔
(3) جھوٹی گواہی دینا بہت بُرا ہے احادیثِ مبارکہ میں اس کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے ۔
(4) بغیر طلب کے جھوٹی گواہی دینا بہت برا ہے لیکن کسی مسلمان کا حق ڈوب جانے یا جانی و مالی نقصان ہونے کا اندیشہ ہوتو بغیر طلب سچی گواہی دی جاسکتی ہے بلکہ دینا بہترہے۔
(5) خیانت کرناکم ہمت غافل اور نکمے لوگوں کا کام ہے لہٰذا ہمیشہ امانت داری سے کام لینا چاہیے۔
(6) زیادہ نذریں ماننا اچھا نہیں مگر مانی ہوئی نذرِشرعی کا پورا کرنا ضروری ہے،لُغَوِی نذر جو اولیاءُ
اللہکے نام کی ہو اس کا پوراکرنا بہتر ہے فرض نہیں جیسے میلاد شریف یا گیارہویں شریف کی نذریں ماننا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سیرتِ طیبہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 509