Main Icon

باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 503

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَ عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ :لَقَدْ رَ اَيْتُنِى وَ اِنِّى لَاَخِرُّ فِيمَا بَيْنَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِلىٰ حُجْرَ ةِ عَائِشَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہَا مَغْشِيًّا عَلَىَّ، فَيَجِىءُ الْجَائِى فَيَضَعُ رِجْلَهُ عَلَى عُنُقِى وَيَرَى اَنِّى مَجْنُونٌ وَمَا بِى مِنْ جُنُونٍ مَا بِى اِلَّا الْجُوعُ.

عن محمد بن سیرین عن ابي هريرة رضی اللہ عنہ قال :لقد ر ايتنى و انى لاخر فيما بين منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم الى حجر ة عائشة رضی اللہ عنہا مغشيا على، فيجىء الجائى فيضع رجله على عنقى ويرى انى مجنون وما بى من جنون ما بى الا الجوع.

حدیث ترجمہ

امام محمد بن سیرینعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمُبِیْنسے مروی ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :”بے شک میں منبرِ رسولصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور حُجرۂ عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِاکے درمیان غش کھاکر گر جاتا، گزرنے والا یہ سمجھ کر اپنا پاؤں میری گردن پر رکھ دیتا کہ اسے جنون لاحق ہوگیا ہےحالانکہ مجھے جنون نہیں ہوتا تھا بلکہ بھوک کی شدت سے یہ حالت ہواکرتی تھی۔“

شرح حدیث

شان ِ ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ:شرح ابنِ بطال میں ہے:”منبرِ رسول اور حجرۂ عائشہ دونوں دِین کی نشانیاں ہیں اوراُن کی درمیانی جگہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے۔ حضرت ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکا گرنا اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے علمِ دِین کی طلب میں بھوک پر صبر کیا اورحضور نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے درِ اقدس کو لازم پکڑلیا، اس کا ثمرہ یہ ملا کہ انہوں نے علم وحکمت کا ایسا عظیم خزانہ جمع کرلیا جو تما م عالَم کے لئے دلیل ورہنما ہے ۔یہ سب مدینۂ منورہزَادَھَا اللّٰہُ شَرَفًا وَتَعْظِیْمًاکی مشقتوں پر صبر کرنے کی برکت ہے۔“گردن پر پَیررکھنے کی وجہ:حدیثِ مذکور میں بیان ہواکہ لوگ سیدنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکی گردن پر یہ سمجھتے ہوئے پاؤں رکھ دیتے کہ شاید انہیں جنون لاحق ہو گیا ہے۔ یہ اہلِ عرب کا طریقہ تھاکہ وہ مجنون کی گردن پر پاؤں رکھ دیا کرتے یہاں تک کہ وہ ٹھیک ہوجاتا۔ حدیثِ مذکور سے معلوم ہواکہ صحابہ ٔ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے بھوک وپیاس کی صعوبتیں برداشت کر کے ، گھر بار سے دور رہ کر،مال ودولت ٹھکراکر ، آرام و آسائش چھوڑکر درِمصطفے ٰپر ڈیرہ ڈال کر ،عِلمِ دِین کا بیش بہاخزانہ حاصل کیا، اسے دوسروں تک پہنچایا اور ساری دنیا میں دِین اِسلام کا ڈنکا بجادیا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّان مُقَدَّس ہستیوں کو جزا ئے خیرعطافرمائے اور ان کے صدقے ہمیں بھی عِلمِ نافِع اور عمل ِ صالح کی دولت سے مالا مال فرمائے ۔آمینمدنی گلدستہ’’بھوک‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) بعض صحابہ ٔکرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاندِین کی خاطر اِس حد تک بھوک برداشت کرتے کہ بھوک کی شدت سے بے ہوش ہوجایاکرتے تھے۔
(2) منبرِ رسولُ
اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماورحضرت عائشہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِاکا حجرۂ مبارکہ دِین کی علامتیں ہیں اور ان کادرمیانی حصہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے ۔
(3) جوحصول ِ علم کےلئے جتنی زیادہ مشقت بر داشت کرتا ہے وہ اتنی ہی زیادہ علم کی برکتیں پاتا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے دِین کی خاطر بہت زیادہ مشقتیں برداشت کیں تو سب سے زیادہ اَحادیث حفظ کرنے والے بن گئے ۔
(4) مدینہ منورہ زَادَھَا اللّٰہُ شَرَفًا وَتَعْظِیْمًاکی مشقتوں پر صبر کرنے سے دِین ودنیا کی بھلائیاں نصیب ہو تی ہیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں بھی دین کی خاطر راہِ خدا میں آنے والی مشقتیں برداشت کرنے اور ان پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 503