Main Icon

باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 71

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہ عَلیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُوْلُ:’’اللہم إِنِّیْ أَسْأَ لُکَ الْہُدٰی وَالتُّقٰی وَالْعَفَافَ وَالْغِنٰی۔‘‘(مسلم کتاب الذکروالدعا والتوبۃ والاستغفار، باب التعوذمن شر ما عمل ومن شر مالم یعمل، ص۱۴۵۷، حدیث:۲۷۲۱)

عن ابن مسعود ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یقول:’’اللہم إنی اسا لک الہدی والتقی والعفاف والغنی۔‘‘(مسلم کتاب الذکروالدعا والتوبۃ والاستغفار، باب التعوذمن شر ما عمل ومن شر مالم یعمل، ص۱۴۵۷، حدیث:۲۷۲۱)

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ دعا مانگا کرتے تھے: اے میرے پَرْوَردْگار! میں تجھ سے ہدایت ، تقویٰ ،پاکدامنی اور توَنگَری کاسو ال کرتا ہوں۔

شرح حدیث

اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُ اللہ طِیْبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیشرحِ طِیْبِی میں اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :ہدایت اور تقویٰ کومطلقاً ذکر کیا گیا تاکہ ہدایت کے تحت معاشی، اُخروی اور اخلاقی معاملات میں سے ہر وہ معاملہ آجائے جس میں ہدایت (یعنی رہنمائی)حاصل کرنے کی ضروت ہوتی ہے، اور تقویٰ کے تحت شرک، معاصی اور برے اَخلاق میں سے وہ تمام معاملات آجائیں جن سے بچنا ضروری ہے۔ (شرح طیبی، کتاب الدعوات، باب جامع الدعائ،۵/۲۲۳، تحت الحدیث:۲۴۸۴)
حضرتِ سَیِّدُنامُلَّا عَلِی قَارِی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِیمرقاۃ شرحِ مِشْکاۃ میں فرماتے ہیں : ’’اَلھُدٰی‘‘ سے مراد ہدایت ِکاملہ ہے ’’اَلتُّقٰی‘‘سے مراد تقویٔ شاملہ ہے، ’’اَلْعِفَاف‘‘ کے بارے میں دو قول ہیں :
(۱) گناہوں سے بچنا (۲) حرام کاموں سے رک جانا۔ ابوالفتوح نیشاپوری
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ ’’اَلْعِفَاف‘‘ نفس اور قلب کی اصلاح کو کہتے ہیں ’’الغِنٰی‘‘ سے مراد دل کا غنی ہونا، یا دوسروں کے مال کی طلب نہ ہونا ہے ۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الدعوات، باب جامع الدعائ، ۵/۳۴۳، تحت الحدیث:۲۴۸۴)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ہدایت سے مراد اچھے عقائد ہیں ، تقویٰ سے مراد اچھے اعمال، پاکدامنی سے مراد برائیوں سے بچنا ہے اورتَوَنْگری (دولتمندی) سے مراد مخلوق کا محتاج نہ ہونا،اللہو رسول (عزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم)کا حاجت مند رہنا ہے، اس (دعا) میں دین کی تمام بھلائیاں مانگ لی گئیں۔(مراٰۃ المناجیح، ۴/۷۱)
حدیثِ مذکور میں چار چیزوں کی دعا کی گئی ہے، ہدایت ، تقویٰ، پاکدامنی، تَوَنْگری ۔ لہٰذا چاروں کے متعلق کچھ ضروری باتیں بیان کی جاتی ہیں :
تقویٰ کیا ہے ؟ہر اس چیزاور کام سے بچنے کانام تقویٰ ہے جس سے دین میں نقصان پہنچنے کاخوف واندیشہ ہو۔( منہاج العابدین، ص۶۰)تقویٰ انمول خزانہ ہےحُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سَیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِی تقویٰکی فضیلت واہم یت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : تقویٰ ایک نادِر خزانہ ہے اگر تم اس خزانے کو پالینے میں کامیاب ہوگئے تو تمہیں اس میں بیش قیمت موتی وجواہرات ملیں گے اور علم و روحانی دولت کا بہت بڑا خزانہ ہاتھ آئے گا، رزق کریم تمہارے ہاتھ آجائے گا تم بہت بڑی کامیابی حاصل کرلو گے ، بہت بڑی غنیمت پالو گے اور مُلکِ عظیم (جنت) کے مالک بن جاؤ گے، یوں سمجھو کہ دنیا و آخرت کی بھلائیاں تقویٰ میں جمع کردی گئی ہیں۔ تم ذرا قراٰنِ حکیم میں غور تو کرو کہ کہیں ارشاد فرمایا: اگر تم تقویٰ اختیار کرو گے تو ہر قسم کی خیر وبرکت کے مالک بن جاؤ گے۔ کہیں تقویٰ اختیار کرنے پر اجرو ثواب کے وعدے فرمائے گئے ہیں اور کہیں فرمایا گیا کہ سعادت کا ذریعہ تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کرنا ہے۔( منہاج العابدین، ص۵۵)حصولِ تقویٰ کا طریقہحضرتِ سَیِّدُنا امام غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِیحصولِ تقویٰ کا طریقہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : نفس کو پورے عزم و ثبات سے ہر معصیت اور ہر طرح کے فضول حلال سے دور رکھا جائے۔ ایسا کرنے سے بدن کے ظاہری وباطنی اعضا صفتِ تقویٰ سے موصوف ہوجائیں گے۔ آنکھ، کان، زبان، دل ، پیٹ، شرمگاہ اور باقی جملہ اعضا اور اجزائے بدن میں تقویٰ پیدا ہوجائے گا۔ اور نفس تقویٰ کی لگام میں اچھی طرح آجائے گا۔دین کو ضرر و نقصان سے بچانے کے لیے ان مذکورہ پانچ اعضا( آنکھ، کان، زبان، دل ، پیٹ، شرمگاہ)کو ہر معصیت (نافرمانی )، ہر حرام ، ہر فضول حلال اور ہر اِسراف سے حفاظت میں رکھنا ضروری ہے، جب ان اعضا کی حفاظت ہوگئی تو امید ہے کہ بدن کے باقی اعضا بھی محفوظ ہوجائیں گے اور بندہ مکمل طور پر تقویٰ کی صفت سے موصوف ہوجائے گا۔( منہاج العابدین، ص۶۱)غِنٰی( تونگری)تَوَنْگرِی سے مراد مخلوق کا محتاج نہ ہونا،اللہو رسول(عزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا حاجت مند رہنا ہے۔(مراٰۃ المناجیح، ج ۴/۷۱ ) حقیقی تونگری یہ نہیں کہ مال کی کثرت ہوبلکہ حقیقی تونگری تودل کی تونگری کانام ہے (یعنی سوال کرنے کو ناپسند کرنا اور جو موجود ہے اسی پر قناعت کرنا)چنانچہ، حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ روایت کرتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :تونگری یہ نہیں کہ سازوسامان کی کثرت ہو بلکہ اصل تونگری تو دل کا تونگر ہوناہے۔(بخاری، کتاب الرقاق، باب الغنی غنی النفس، ۴/ ۲۳۳، تحت الحدیث:۶۴۴۶)
ہمارے پیارے نبی
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہم یشہ دنیاپرآخرت کو ترجیح دی اور کبھی بھیاللہ عزَّوَجَلَّ سے کثرتِ مال کاسوال نہ کیااور سوال کیا بھی تو بقدرِکفایت مال کا۔ چنانچہ، حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ حضور نبیِّ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دعا مانگی :اےاللہ عزَّوَجَلَّ! محمد (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی آل کواتنارزق عطافرماجوبقدرِضرورت ہو۔(ترمذی ،کتاب الزہد،باب ماجاء فی معیشۃالنبی صلی اللہ علیہ وسلم …الخ، ۴/۱۶۰، تحت الحدیث:۲۳۶۸)
حضرتِ سَیِّدُناابوذر
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشادفرمایا:اے ابوذر!کیاتم مال کی کثرت کوتونگری وغنا خیال کرتے ہو؟میں نے عرض کی:جی ہاں !یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!پھرآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: اورکیاتم یہ خیال کرتے ہوکہ مال کی کمی کانام فَقْرومُفْلِسِی ہے ؟میں نے عرض کی: جی ہاں !یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! توحضورنبیِّ رحمتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:لیکن معاملہ ایسا نہیں ہے ،بے شک حقیقی تونگری دل کاتونگرہونا اورحقیقی فقر ( مفلسی )دل کافقرہے۔ (مستدرک حاکم، کتاب الرقاق، باب انما الغنی غنی القلب والفقر فقر القلب، ۵/۴۶۵، الحدیث:۷۹۹۹)
حضرتِ سَیِّدُنا
عَبْدُ اللہ بِنْ عَمْرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ نبیوں کے سلطان ،سرورِ ذیشانصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عالیشان ہے:تحقیق فلاح پاگیا وہ شخص جس نے اسلام قبول کیااوراسے بقدرِ ضرورت رزق دیا گیا اوراللہ عزَّوَجَلَّنے اسے قناعت کی دولت سے نوازا ہو۔(ترمذی،کتاب الزھد،باب ماجاء فی الکفاف والصبرعلیہ،۴/۱۵۶، حدیث:۲۳۵۵)
رسولوں کے سالار، حبیبِ پروردگار
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ مُشکبار ہے : میرے نزدیک سب سے زیادہ قابلِ رشک دوست وہ مومن ہے جو کم مال کے سبب ہلکے بوجھ والاہو ، اسے نمازسے حصہ دیاگیاہو، اپنے پروردگارعزَّوَجَلَّکی عبادت احسن انداز سے بجا لاتا ہو ،تنہائی اور پوشیدگی میں اپنے ربعزَّوَجَلَّ کی اطاعت کرتا ہو ، لوگوں میں چھپا ہوا ہو (یعنی شہرت نہ رکھتاہو) ، اس کی طرف انگلیوں سے اشارے نہ کئے جاتے ہوں اوراسے بقدرِ ضرورت رزق دیاگیاہو اور وہ اس پرصبرکرتاہو۔ پھر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی انگلیوں سے ضرب لگاتے ہوئے فرمایا: اور اُس کی موت جلد واقع ہوجائے ،اس پر رونے والے کم ہوں اوراس کا ورثہ کم ہو۔پھر فرمایا: میرے ربعزَّوَجَلَّنے مجھ پرمکہ کی وادی پیش کی کہ وہ اُسے میرے لئے سونا بنادے تو میں نے عرض کی: نہیں ! اے میرے پروردگارعزَّوَجَلَّ!بلکہ میں چاہتا ہوں کہ ایک دن کھاؤں اور ایک دن بھوکا رہوں یافرمایاتین دن کھاؤں اور تین دن بھوکا رہوں ، جب بھوکا رہوں گا تو تیرے حضور گِریہ وزَارِی اور تیراذکرکروں گا اور جب کھاؤں گاتو تیرا شکر ادا کروں گا اور تیری حمد وثنا بجالاؤں گا ۔(ترمذی،کتاب الزھد،باب ماجاء فی الکفاف والصبرعلیہ، ۴/۱۵۵، حدیث:۲۳۵۴)
حضرتِ سَیِّدُنا اَبُودَرْدَاء
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہ سردارِمکۂ مکرمہ ، سلطانِ مدینۂ منورہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ ذیشان ہے:جب سورج طلوع ہوتاہے توا س کے دونوں جانب دوفرشتے بھیجے جاتے ہیں جو صدا لگارہے ہوتے ہیں ، اوراس صداکوجِنّ واِنْس کے سِوا تمام زمین والے سنتے ہیں ،وہ فرشتے کہتے ہیں :اے لوگو!اپنے ربعزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں آجاؤ،بیشک (دنیاکامال)جوتھوڑا ہو اورکفایت کرے وہ بہترہے اس (مال) سے جوزیادہ ہواور غفلت میں ڈال دے ۔ (مسند احمد ، ۸/ ۱۶۸، حدیث:۲۱۷۸۰)
حضرتِ سَیِّدُنامَعْقِل بِنْ یَسَار
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہسَیِّدُ الْمُبَلِّغِین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: تمہاراپاک پَروَرْدگارعزَّوَجَلَّارشادفرماتاہے: اے اِبنِ آدم !توخودکو میری عبادت کے لئے فارغ کرلے میں تیرے دل کوغنا سے اور تیرے ہاتھوں کو رزق سے بھر دوں گا۔اور اے اِبنِ آدم!تو میری عبادت سے دوری اختیارنہ کر (ورنہ )میں تیرے دل کوفَقْر سے بھردوں گااور تیرے ہاتھوں کودنیاوی کاموں میں مصروف کردوں گا۔ (مستدرک حاکم ،کتاب الرقاق، باب النبی اکل خشنا ولبس خشنا، ۵/۴۶۴، حدیث:۷۹۹۶)عِفَّت( پاکدامنی)شہوت کے تقاضوں سے شریعت کی روشنی میں بچنے کا نام عِفَّت (پاکدامنی) ہے ۔ (فیضان احیاء العلوم، ص۱۴۹)
قراٰن وحدیث میں پاکدامنی کے بہت زیادہ فضائل بیان ہوئے ہیں یہاں چند ذکر کئے جاتے ہیں :
جنت الفردوس کے وارثرَبِّ کریم قراٰنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ(۵) اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ(۶) فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ(۷) وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸) وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ(۹) اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ(۱۰)(پ ۱۸ ، المومنون :۵ تا۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان :اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیبیوں یاشرعی باندیوں پر جواُن کے ہاتھ کی مِلک ہیں کہ ان پر کوئی ملامت نہیں توجو ان دو کے سوا کچھاور چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں اور وہ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں یہی لوگ وارث ہیں کہ فردوس کی میراث پائیں گے وہ اس میں ہم یشہ رہیں گے۔
سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والےحضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: مجھ پر سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے جو تین شخص پیش کئے گئے وہ یہ ہیں (۱)شہید (۲)پاکدامن شخص (۳) وہ غلام جواللہ عزَّوَجَلَّکی اچھی طرح عبادت کرے اور اپنے آقا کے ساتھ خیر خواہی کرے۔ (ترمذی ، کتاب فضائل الجھا د ،باب ماجاء فی ثواب الشہید، ۳/۲۴۰، حدیث:۱۶۴۷)جنت کی ضمانتنَبیِّ مُکَرَّم،نُورِمُجسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دے دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں (۱) جب بولو تو سچ بولو(۲) جب وعدہ کرو تو اسے پورا کرو(۳) جب امانت لو تو اسے ادا کرو(۴) اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو(۵) اپنی نگاہیں نیچی رکھو اور(۶) اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو (یعنی کسی پر ظلم نہ کرو) ۔ (ابن حبان ، کتاب البر والاحسان ،باب الصدق… الخ، ۱/ ۲۴۵، حدیث:۲۷۱)صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ’’رحیم‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکور اوراس کی وضاحت سے ملنے والے 4 مدنی پھول
(1) تقویٰ ایک نادر و نایاب خزانہ ہے جسے مل گیا وہ دنیا وآخرت میں کامیاب ہوگیا ۔
(2) پاکدامنی سے جنت نصیب ہوتی ہے ۔
(3) جو اپنے آپ کو عبادتِ الٰہی کے لئے فارغ کر لے اس کا دل غَنا اور ہاتھ مال سے بھر دیئے جاتے ہیں۔
(4) جس کا دل غنی ہے حقیقتاً وہی غنی ہے اور جس کا دل مفلس ہے وہ حقیقی مفلس ہے ۔
اللہ عزَّوَجَلَّہمیں پاکدامنی ،دل کی سخاوت اور تقویٰ کی دولت عطافرمائے ،دنیاوآخرت میں اپنی دائمی رضاسے مالا مال فرمائے !اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہ صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 71