Main Icon

باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 677

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِنَّـكُمْ سَتَحْرِصُوْنَ عَلَى الْاِمَارَةِ وَسَتَكُوْنُ نَدَامَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه:ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:انـكم ستحرصون على الامارة وستكون ندامة يوم القيامة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےکہ حضور نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :”عنقریب تم لوگ حکمرانی کی حرص کرو گے اور یہ قیامت کے دن باعث ندامت ہوگی ۔“

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک میں نبی غیب دان،سرورِذیشانصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے غیب کی خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ’’عنقریب تم لوگ حکمرانی کی حرص کروگے اور یہ قیامت کے دن باعث ندامت ہوگی۔‘‘اور واقعی حکمرانی یا کسی عہدے کی حرص یہ ایسی چیز ہےجو انسان کو قتل و غارتگری کرنے ،زمین میں فساد پھیلانے اور دیگر بہت سارے جرائم میں ملوث کر دیتی ہے اور پھر حکمرانی حاصل کرنے کے بعد مال و دولت،عزت و شہرت کی حرص پیدا ہو جاتی ہے اور اس حرص کے نشےمیں انسان حلال و حرام کی تمیز کئے بغیر مال و دولت جمع کرتا ہےاور یہی مال دولت اور عہدے کی حرص قیامت کے دن اس کے لئےشرمندگی اور ندامت کا باعث بنے گی ۔اچھی نیت کے ساتھ عہدہ طلب کرنا :عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذِی الْجَلَالفرماتے ہیں:علامہ مہلبرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایاکہ امارت و حکومت پر لوگوں کی حرص کا مشاہدہ ظاہر ہے اور اسی وجہ سے لوگ امارت و حکومت کے لئے ایک دوسرے کا خون بہاتے، ایک دوسرے کی عزتوں کو پامال کرتے اور زمین میں جھگڑا و فساد کرتے ہیں تاکہ امارت و حکومت کو اپنی لذتوں کے لئے حاصل کر سکیں۔پھر ایسی حکومت کا حال بہت بُرا ہوتا ہے کیونکہ جو شخص حکومت کی حرص کرتا ہے وہ اس حکومت کے حصول کی کوشش میں قتل کر دیا جاتا ہے یا معزول کر دیا جا تا ہے جس سے اس کو ذلت کا سامنا ہوتا ہے یا پھر اسی حال میں مرجاتا ہے اور آخرت میں اس سے لوگوں کے حقوق کا مطالبہ کیاجاتا ہے یوں اس کو ندامت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔رہا وہ شخص کہ جو اس بات کی حرص کرے کہ مسلمانوں کے جو حقوق ضائع ہو رہے ہیں ان کو وہ حقوق دلوائے جائیں یا جس وجہ سے مسلمانوں کی ضروریات پوری نہیں ہو رہی ان وجوہات کو دور کیا جائے اور کوئی ایسا شخص بھی موجود نہ ہو جو مسلمانوں کے ان امور کا انتظام کر سکے تو ایسے وقت میں حکومت کے حصول کے لئے حرص کرنے میں کوئی حرج نہیں تاکہ مسلمانوں کے جو حقوق ضائع ہو رہے ہیں وہ ان کو دلوائےجائیں اوراِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس وجہ سے وہ متہم نہیں ہوگا جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا خالد بن ولیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے ضرورت کے وقت خود لشکر کی کمان سنبھالی ۔حرص سے مراد:مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”اس (حدیث)میں خطاب سارے مسلمانوں سے ہے اور حرص سے مراد نفسا نی خواہش ہے حضور کی یہ پیشگوئی آج آنکھوں دیکھی جارہی ہے کہ مسلمان صدارت،وزارت،سفارت،ممبری کے لیے سرتوڑ کوشش کرتے ہیں اوراس کے لیے ہر جائز ناجائز حربہ استعمال کرتے ہیں۔(یہ قیامت کے دن باعث ندامت ہوگی ) کیونکہ ایسے سلطان کے ذمہ ہزاروں کے حقوق و مظالم ہوتے ہیں جن کے حساب سے چھوٹنا آسان نہیں ہے۔“مدنی گلدستہ’’عدل ‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) حضور نبی غیب دان
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی یہ پیشگوئی کہ”عنقریب تم حکمرانی کی حرص کرو گے۔“ آج آنکھوں سے دیکھی جارہی ہے کہ مسلمان صدارت،وزارت،سفارت اور ممبری کے لیے سرتوڑ کوشش کرتے ہیں اور اس کے لیے ہر جائز وناجائز حربہ استعمال کرتے ہیں۔
(2) اگر کوئی شخص اچھی نیت کے ساتھ مسلمانوں کے حقوق دلوانے اور ان کے دیگر اُمور کا انتظام کرنے کی غرض سے حکومت طلب کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔
(3) حکمرانی قیامت کے دن باعث ندامت ہوگی کیونکہ حاکم کے ذمہ ہزاروں لوگوں کے حقوق و مظالم ہوتے ہیں جن کے حساب سے چھوٹنا آسان نہیں ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا فرمائے اور ہر اس عہدے سے محفوظ فرمائے جس سے آخرت میں ندامت اٹھانی پڑے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 677