- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
فیضان ریاض الصالحین جلد 5
حضرت سَیِّدُنا ابو سعیدعبد الرحمن بن سَمُرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھےارشاد فرمایا:”اےعبد الرحمٰن بن سمرہ ! حکومت کا سوال نہ کرو اگر بغیر مانگے مل جائےتو تمہاری مدد کی جائے گی اور اگر مانگنے پر حاصل ہوئی تو تمہیں اسی کے سپرد کر دیا جائے گااور اگر کوئی قسم کھاؤ پھر اس کے خلاف میں بہتری دیکھو تو بہتر کام کو انجام دو اور قسم کا کفارہ ادا کرو۔“
عَنْ اَبِي سَعِيْدٍ عَبْدِ الرَّحْمٰنِِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ،قَالَ:قَالَ لِيْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم: يَا عَبْدَ الرَّحمٰنِ بْنِ سَمُرَةَ لَا تَسْاَلِ الْاِمَارَةَ فَاِنَّكَ اِنْ اُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْاَ لَةٍ اُعِنْتَ عَلَيْهَاوَاِنْ اُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْاَ لَةٍ وُكِلْتَ اِلَيْهَا وَاِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِيْنٍ فَرَاَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِّنْهَا فَاْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِيْنِكَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 674 ، باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
حضرت سَیِّدُنَا ابو ذررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے رسول اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:” اے ابو ذر!میں تمہیں کمزور دیکھتا ہوں اور میں تمہارے لئے وہ ہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں ،دو آدمیوں پر امیر نہ بننا اور نہ ہی مالِ یتیم کی ذمہ داری لینا ۔ “
عَنْ اَبي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ لِیْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا اَبَا ذَرٍّ! اِنِّيْ اَرَاكَ ضَعِيْفًا وَاِنِّي اُحِبُّ لَكَ مَا اُحِبُّ لِنَفْسِيْ لَاتَاَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ وَلَا تَوَلَّيَنَّ مَالَ يَتِيْمٍ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 675 ، باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
حضرت سَیِّدُنَا ابو ذررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں میں نے عرض کی:یارسولَاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ مجھے (کسی علاقے کا)حاکم کیوں نہیں بنادیتے ؟نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنا دست مبارک میرے کندھے پر مارتے ہوئے ارشاد فرمایا:”اے ابو ذر !تم کمزور ہو اور یہ (حکومت)ایک امانت ہے اور بیشک قیامت کے دن یہ ذلت و ندامت کا باعث ہوگی مگر اس شخص کیلئے جس نے اسے حق کے ساتھ لیا اور ا س کے حقوق ادا کئے ۔‘‘
عَنْ اَبي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قُلْتُ:يَارَسُولَ اللهِ اَلَا تَسْتَعْمِلُنِيْ؟فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى مَنْكِبِيْ ثُمَّ قَالَ:يَااَبَا ذَرٍّ! اِنَّكَ ضَعِيْفٌ وَاِنَّهَا اَمَانَةٌ وَاِنَّهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِزْيٌ وَنَدَامَةٌ اِلَّامَنْ اَخَذَهَا بِحَقِّهَا وَاَدَّى الَّذِيْ عَلَيْهِ فِيْهَا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 676 ، باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےکہ حضور نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :”عنقریب تم لوگ حکمرانی کی حرص کرو گے اور یہ قیامت کے دن باعث ندامت ہوگی ۔“
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِنَّـكُمْ سَتَحْرِصُوْنَ عَلَى الْاِمَارَةِ وَسَتَكُوْنُ نَدَامَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 677 ، باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت