Main Icon

باب:وضو کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1026

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ تَوَضَّاَ فَاَحْسَنَ الْوُضُوْ ءَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ جَسَدِهِ حَتّٰى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ اَظْفَارِهِ.

عن عثمان بن عفان رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من توضا فاحسن الوضو ء خرجت خطاياه من جسده حتى تخرج من تحت اظفاره.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا عثمان غنیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم،شاہِ بنی آدمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جس نے اچھے طریقے سے وضو کیا تو اُس کے جسم سے اُس کی خطائیں نکل جاتی ہیں حتّٰی کہ اُس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتی ہیں۔“

شرح حدیث

وُضو کی سنتیں اور آداب سیکھنے کی ترغیب:دلیل الفالحین میں ہے:اچھے طریقے سے وضو کرنے سے مراد وضو کی تمام سنتوں اور آداب کے ساتھ وضو کرنا۔مصنف (یعنی امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِی)فرماتے ہیں:”اس حدیث میں وضو کے آداب، سنن اور شرائط وغیرہ کے سیکھنے اور اس پر عمل کرنے پر ابھارا گیا ہے۔“ خطاؤں سے مراد صغیرہ گناہ ہیں جو کہحقوقُ اﷲسے متعلق ہیں اور خطاؤں کے نکلنے سے مراد گناہوں کا معاف ہونا ہے کیونکہ گناہ جسم کی شکل میں نہیں ہوتے۔حضور کے قدموں کا دھوون بابرکت ہے:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:(اچھے طریقے سے وضو)سے مرادسنتوں اورمستحبات کے ساتھ وضوکرنا ہے اور خطاؤں سے گناہ صغیرہ کیونکہ گناہ کبیرہ تو بہ کے بغیر اور حقوق العباد صاحب حق کی معافی کے بغیر معاف نہیں ہوتےیعنی جو شخص اچھا وضو کیا کرے تو اس کے سارے اعضاء کے گناہ اس پانی کے ساتھ نکل جاتے ہیں۔ہم گنہگاروں کے وضو کا غَسالہماءِ مُسْتَعْمَل(استعمال شدہ پانی) ہے جس سے دوبارہ وضو نہیں ہوسکتا اور اس کا پینا مکروہ،کیونکہ یہ ہمارے گناہ لے کر نکل جاتا ہےمگر حضور کے وضو کا غسالہ بلکہ پاؤں شریف کا دھوونمُتَبَـرَّکہےکیونکہ وہ اعضاء طیبہ میں سے نور لے کر نکلا ہے۔ہمارا غسالہ بہت سی بیماریاں خصوصًا مرگی پیدا کرتا ہے۔حضور کا غسالہ بیماریاں دور کرتا ہے۔رب فرماتاہے:﴿ اُرْكُضْ بِرِجْلِكَۚ-هٰذَامُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ(۴۲)﴾(پ۲۳،ص:۴۲)(ترجمۂکنزالایمان:ہم نے فرمایا زمین پر اپنا پاؤں مار یہ ٹھنڈا چشمہ نہانے اور پینے کو۔)آب زمزم حضرت اسماعیل کے پاؤں کا گویا دھوون ہے جس میں ہمارے حضور کی کُلی پڑی ہوئی ہے ہم سب کے لیے شفا ہے۔قَاضِیْ شَمْسُ الدِّیْن مُحَمَّد بِنْ عَطَاءُ اﷲ ہَرَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’ناخنوں سے مراد یہاں پاؤں کے ناخن ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہاتھوں اور پاؤں دونوں کے ناخن مراد ہیں کہ کامل وضو کرنے والے شخص کی اوپر والے آدھے دھڑکی خطائیں ہاتھوں کےناخنوں کے نیچے سےنکلتی ہیں اور نیچے والے آدھے دھڑ کی خطائیں پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے نکلتی ہیں۔اس حدیث پاک میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ظاہر کے ساتھ باطن بھی کامل وضو کے سبب پاک ہوتا ہے۔‘‘مدنی گلدستہ’’طہارت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) وضو کی سنتوں اور مستحبات کا لحاظ کرتے ہوئے وضو کرنے سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔
(2) وُضو سے صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں کبیرہ گناہ توبہ سے معاف ہوتے ہیں۔
(3) ہمیں وُضو کے تمام سنن و آداب کو سیکھنا چاہیے ۔
(4) حضور
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وُضو کا غسالہ بلکہ آپ کے قدموں کا دھوون بھی متبرک ہے۔
(5) آب زمزم ہم سب کے لئے شفا ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں وضو کی سنتوں اور مستحبات کا لحاظ کرتے ہوئے وضو کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور وضو کے ذریعے ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1026